دلیلِ امکان بچوں کے لیے

اکتوبر 22, 2026


تحریر: غلام رسول وَلایتی

پیارے بچو! آجائیے، ہم ایک بہت ہی دلچسپ اور خوبصورت بات سمجھتے ہیں جو ہمارے ارد گرد کی پوری دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔

۱. دلیل کا کیا مطلب ہے؟
دلیل ایک ایسی ‘سچی اور پکی’ بات کو کہتے ہیں جو ہم کسی دعوے کو سچ ماننے کے لیے پیش کرتے ہیں۔ جیسے اگر کوئی آپ سے کہے کہ "باہر بارش ہو رہی ہے”، تو آپ اس کی بات کو کیسے سچ مانیں گے؟ میں بتاتا ہوں۔ اس کی بات پکی اور سچی ہے یا نہیں، اس کے لیے ہم کھڑکی کھولیں گے اور باہر دیکھیں گے، اگر واقعی باہر پانی گرتا ہوا دیکھتے ہیں تو،یہ پانی کا گرنا اس بات کی دلیل ہے کہ باہر سچ مچ بارش ہو رہی ہے اور وہ شخص بھی پکی بات کر رہا تھا۔ یوں ہم سچائی تک پہنچ سکیں گے۔

۲. ہم کیا سمجھنا چاہتے ہیں؟
ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ "یہ پوری دنیا کہاں سے آئی اور اسے کس نے بنایا؟” کیا یہ دنیا خود بخود بن گئی، یا اس کے پیچھے ایک ایسی ذات ہے جس نے اسے بڑی حکمت اور تدبیر سے بنایا ہے؟ پہلےہم دو باتیں ذہن نشین کریں وہ ہیں "ہونا” اور "نہ ہونا”۔
۳. "ہونا” اور "نہ ہونا” میں کیا فرق ہے؟نہ ہونا (عدم): اس کا مطلب ہے کسی چیز کا بالکل بھی موجود نہ ہونا۔ جیسے سو سال پہلے آپ کا موبائل فون، آپ کی سائیکل، یا آپ خود اس دنیا میں نہیں تھے۔
ہونا (وجود): اس کا مطلب ہے کسی چیز کا سامنے آنا اور قائم ہونا۔ جیسے آج آپ، آپ کے کھلونے، زمین اور سورج سب موجود ہیں۔

دنیا کی تمام چیزیں پہلے "نہیں” تھیں، پھر "ہو” گئیں۔ تو آئیے ہم اس کے لیے بھی ایک پکی بات ڈھونڈتے ہیں کہ آیا کوئی ہے جس نے اس ساری کائنات کو بنائی ہے یا یہ خود بخود بن گئی ہے۔
۱. چیزوں کی تین قسمیں
تصور کریں کہ دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں یا سوچی جا سکتی ہیں، وہ عقلی لحاظ سے صرف تین قسموں کی ہو سکتی ہیں اور اس سے زیادہ نہیں:
ناممکن (ممتنع):
ایسی چیز جو کبھی ہو ہی نہیں سکتی اور جس کا سوچنا ہی غلط ہے۔مثلا "گول مربع” (Square Circle) یا "۲ + ۲ = ۵”۔ یہ کبھی ممکن نہیں ہے، حتی قیانت تک دو اور دو چار ہی رہیں گے۔

ممکن (جو ہو بھی سکتا ہے، نہیں بھی):
ایسی چیز جو پہلے نہیں تھی، پھر بن گئی، اور ایک دن ختم ہو جائے گی۔ اس کا نہ ہونا واجبی اور لازمی ہے اور نہ ہونا لازمی ہے۔مثلا پھول، آپ کی سائیکل، موبائل فون، یہ زمین، تارے، اور آپ خود! یہ سب چیزیں ۵۰ سال پہلے نہیں تھیں، آج ہیں، اور کچھ عرصے بعد نہیں ہوں گی۔
واجب (جس کا ہونا لازمی ہے):
ایسی ذات جس کا ہونا ہر حال میں ضروری ہے، جس کا نہ ہونا ‘ناممکن’ ہو، جو ہمیشہ سے ہو، ہمیشہ رہے اور اسے کسی نے نہ بنایا ہو۔
۲. "ترازو” کی مثال (چیزیں کیسے بنتی ہیں؟)
ہر "ممکن” چیز (جیسے پھول یا سائیکل یا ہماری کائنات) ایک ایسے ترازو کی طرح ہے جس کے دونوں پلڑے بالکل برابر ہوں،فی الحال کسی ایک پلڑے کا اوپر یا نیچے ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ہاں یہ ممکن ہے جب وجہ ہو تو ایک پلڑا اوپر اور ایک نیچے ہوگا۔ایک پلڑے پر لکھا ہے: "ہونا” (وجود)
دوسرے پلڑے پر لکھا ہے: "نہ ہونا” (عدم)

چونکہ یہ دونوں پلڑے برابر ہیں، اس لیے یہ ترازو خود بخود کسی ایک طرف نہیں جھک سکتا ہے۔ جب تک باہر سے کوئی شخص آ کر "ہونے” والے پلڑے میں وزن نہ ڈالے، وہ چیز یعنی "وجود ” کا پلڑا بھاری نہیں ہوسکتا۔ جب سبب یا وجہ آئے گی تو "وجود” کا پلڑا عدم پر بھاری ہوگا اور "ہونا” قرار پائے گا۔ اب ہم آتے ہیں کائنات کی طرف کہ ہر ممکن چیز یعنی کائنات اور اس کی چیزوں کو "عدم” یعنی "نہ ہونے” سے "وجود” یعنی "ہونے” تک آنے کے لیے ایک ایسے وجود کی ضرورت ہے جس کا "ہونا” ضروری ہے، وگرنہ "ممکن الوجود” کا پلڑا عدم اور وجود کے درمیان رہے گا اور کائنات وجود میں نہیں آسکے گی۔
۳. "پنسل” والی مثال

اب ایک اہم سوال آُ سے کروں گا۔ کیا یہ بنانے والوں کا سلسلہ پیچھے کی طرف ہمیشہ ہمیشہ چلتا رہ سکتا ہے؟ اسے سمجھنے کے لیے کلاس روم کی ایک مثال دیکھیں:فرض کریں کلاس میں ۵۰ بچے بیٹھے ہیں۔
احمد کو پیپر لکھنے کے لیے پنسل چاہیے۔ وہ علی سے مانگتا ہے۔
علی کہتا ہے: "میرے پاس اپنی پنسل نہیں ہے، میں آپ کو تب دوں گا جب مجھے جعفر پنسل دے گا”۔
جعفر کہتا ہے: "میرے پاس بھی اپنی نہیں ہے، میں تب دوں گا جب حسن دے گا”۔۔۔

اگر کلاس کے تمام ۵۰ بچوں کے پاس پنسل نہ ہو اور ہر بچہ دوسرے سے ادھار مانگ رہا ہو، تو کیا کوئی ایک بچہ بھی پیپر لکھ سکے گا؟ہرگز نہیں! کیونکہ لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس پوری زنجیر میں کوئی ایک بچہ ایسا ہو جس کے پاس اپنی ذاتی پنسل ہو جو اس نے کسی اور سے ادھار نہ لی ہو۔
۴. نتیجہہماری پوری کائنات (زمین، سورج، انسان، درخت) "ممکنات” ہیں،یعنی یہ سب کلاس کے ان بچوں کی طرح ہیں جن کے پاس اپنی ذات سے ان کا "ہونا” یعنی ان کا وجود نہیں ہے، یہ سب "ادھار” کا "وجود” رکھتے ہیں اور سب نے ادھار لے کر ہی "ہے” اور "ہونا” کا بول بول رہے ہیں۔ پس آپ "احمد” یعنی پہلا بچہ جس کے لیے پیپر لکھنےکے لیے پینسل چاہیے تھی اب پیپر لکھ رہا ہے تو آپ کیا سمجھیں گے؟ آپ سمجھیں گے کہ احمد کو ان ۵۰میں سے کسی نے پینسل دی ہے جس کے پاس اپنی ذاتی پینسل تھی۔
اگر ہر وجود (یعنی ہر وہ جو ہے) "ادھار” کا وجود رکھنے والا (ممکن) ہوتا، تو کائنات میں کوئی بھی چیز کبھی وجود میں آ ہی نہیں سکتی تھی! (جیس ان ۵۰ بچوں میں احمد پنسل کے بغیر لکھ نہیں سکتا تھا لیکن اب لکھ رہا ہے تو کوئی تو ہوگا جس کے پاس اپنی ذاتی پینسل ہوگی اور انھوں نے ہی احمد کو دی ہے۔ وگرنہ احمد اور ان کے باقی ۴۸ کلاس فیلوز کے پاس لکھنے کے لیے پینسل نہ تھی)۔
لہٰذا، عقل یہ ماننے پر مجبور ہے کہ اس پوری کائنات کے شروع میں ایک ایسی ذات موجود ہے جو کسی سے "وجود” ادھار نہیں لیتی، اور اس کا "ہونا” اس کی اپنی ذات کا حصہ ہے۔

اسی ذات کو ہم واجب الوجود (یعنی جس کا ہونا لازمی ہے) یا خدا / اللہ کہتے ہیں۔
آپ کے سوالات:

۱. سوال: "اگر دنیا کی ہر چیز کو کسی نہ کسی نے بنایا ہے، تو خدا کو کس نے بنایا؟”
سادہ جواب: یہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس اصول کا تعلق ہر "وجود” سے ہے، جبکہ اس اصول کا تعلق صرف "محتاج چیزوں” (ممکن الوجود) سے ہے۔ نہ کہ واجب الوجود سے۔مثال: اگر ہم کہیں کہ "ہر بھیگی ہوئی چیز کو پانی نے بھگویا ہے”، تو کیا کوئی یہ سوال کر سکتا ہے کہ "پانی کو کس نے بھگویا؟” نہیں! کیونکہ پانی بذاتِ خود وہ چیز ہے جو دوسروں کو تر کرتی ہے، اسے تر ہونے کے لیے کسی اور پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
حقیقت: اس دلیل کا قاعدہ یہ نہیں ہے کہ "ہر وجود کا بنانے والا ہوتا ہے”، بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ "ہر محتاج (ادھار کا وجود رکھنے والی) چیز کا بنانے والا ہوتا ہے”۔ چونکہ خدا محتاج ہی نہیں ہے اور اس کا ہونا اس کی اپنی ذات کا حصہ ہے، اس لیے اس کے لیے "کس نے بنایا؟” کا سوال ہی غلط ہو جاتا ہے۔

۲. سوال: "کائنات خود بخود کیوں نہیں بن سکتی؟ جیسے سائنس کہتی ہے کہ ‘بگ بینگ’ (Big Bang) ہوا!”
سادہ جواب: سائنس جس بگ بینگ یا مادّے (Matter/Energy) کی بات کرتی ہے، وہ بذاتِ خود "محتاج” (ممکن) ہے!۔ بگ بینگ سے پہلے مادّہ، طاقت اور طاقت کے میدانوں کی شروعات ہوئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ مادّہ یا طاقت کہاں سے آئی؟ وہ خود بخود عدم (نہ ہونے) سے وجود میں کیسے آ گئی؟ ایسا ہو نہیں سکتا ہے کہ جس کا اپنا وجود بھی ادھاری ہو اور وہ خود بخود اپنا وجود خود سے لے۔ترازو کا اصول: بگ بینگ میں استعمال ہونے والا مادّہ ایک ایسے ترازو کی طرح ہے جو پہلے وجود نہیں تھا۔ اسے وجود میں لانے کے لیے کسی نے باہر سے وزن ڈالا۔ کائنات، طبعی قوانین، انرجی یا بگ بینگ خود "محتاج” کڑیاں ہیں، اور کڑی کتنی ہی بڑی یا پرانی کیوں نہ ہو، اسے خود قائم رہنے کے لیے ایک "غیر محتاج” بنیاد کی ضرورت ہوتی ہی ہے۔ پس وہی خدا ہے۔
۳. سوال: "اگر خدا کو کسی نے نہیں بنایا، تو کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کائنات بھی ہمیشہ سے ہے اور اسے کسی نے نہیں بنایا؟”
سادہ جواب: ہم کائنات کو "ہمیشہ سے” اور "غیر محتاج” اس لیے نہیں کہہ سکتے کیونکہ کائنات کی ہر چیز میں تبدیلی، اجزاء، زوال اور محتاجی صاف نظر آتی ہے۔مثال: سورج کی روشنی سے اس کی انرجی دھیرے دھیرے ختم ہو رہی ہے، تارے بنتے اور ٹوٹتے ہیں بالآخر اپنے اختتام کی طرف جاتے ہیں، انسان پیدا ہوتے اور مرتے ہیں۔ جو چیز بدلتی ہے، جس کی حد ہوتی ہے، یا جو زوال پذیر ہوتی ہے، وہ کبھی "واجب” (جس کا نہ ہونا ناممکن ہو) نہیں ہو سکتی۔

فرق:کائنات: متغیر (بدلنے والی) ہے، محتاج ہے، اجزاء سے بنی ہوئی اور اس کا وجود عارضی ہے اور ایک دن کائنات پہ زوال آئے گا۔
خدا: تغیر (بدلاؤ) سے پاک ہے، اجزاء سے پاک، غیر محتاج ہے، اور اس کا وجود ذاتی ہے۔
پس اسی لیے اللہ تعالی کا ارشاد ہے: وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ ۘ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٝ ۚ لَـهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ۝
ترجمہ: اور اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو نہ پکار، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے، اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔
سورۃ القصص | سورة نمبر: 28 | آیت نمبر: 88

تبصرے

سوال پوچھیے

نام

ای میل *

پیغام *

Post Top Ad

LightBlog

Post Top Ad

Your Ad Spot

Post Top Ad

Your Ad Spot

نئی پوسٹ

زیادہ دِکھے

نئے

ہمارے بارے

اَنا الحقیر...... عبدِالله؛
غلام رسول وَلایتی

Music

تبصرے

سوشل رابطے