کلامِ جدید
(ایک جامع نصاب؛ عقلی، سائنسی، فلسفیانہ اور عصری مباحث کا آغاز)
کورس کا تعارف
یہ کورس کلامِ جدیدکے اُن بنیادی، پیچیدہ، اور معاصر مباحث کا منظم علمی مطالعہ ہے جو آج کے انسان کے فکری، سائنسی، فلسفیانہ، وجودی، اور معنوی سوالات سے براہِ راست متعلق ہیں۔ اس کورس میں علمِ کلام، فلسفۂ دین، جدید مغربی فلسفہ، طبیعیات (Physics)، کوانٹم نظریات، علمیات (Epistemology)، الحادِ جدید (New Atheism)، سائنٹزم (Scientism)، معنویت (Spirituality)، عرفان، ذہن و شعور (Consciousness Studies)، اخلاقیات، اور تمدنی بحران جیسے موضوعات کو ایک جامع اور تنقیدی زاویے سے زیرِ بحث لایا جائے گا۔
یہ کورس صرف چند لیکچرز کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری معرکہ ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں طالبِ علم صرف معلومات نہیں لیتا بلکہ اپنے پورے زاویۂ نظر کو دوبارہ تعمیر کرتا ہے۔ آج کا انسان صرف فقہی یا روایتی سوالات میں نہیں الجھا، اس کے ذہن پر کوانٹم فزکس، ارتقاء، الحاد، سائنٹزم، ذہن و شعور، معنویت کے بحران، مغربی فلسفے، اخلاقی نسبیت، اور جدید تہذیب کے بے شمار سوالات حملہ آور ہیں۔ یونیورسٹیاں، سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور جدید علمی فضا نوجوانوں کے ذہنوں میں ایسے شکوک پیدا کر رہی ہیں جن کا جواب محض جذباتی تقریروں یا سطحی مناظروں سے نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے وقت میں اگر کوئی طالبِ علم صرف روایتی اندازِ مطالعہ پر اکتفا کرے، تو وہ جدید ذہن کے حملوں کے سامنے زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔
یہ کورس اُن طلبہ کے لیے ہے جو صرف جو اندھی تقلید کے بجائے عمیق فہم چاہتے ہیں۔ جو یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ کیا سائنس واقعی خدا کو غیر ضروری بنا چکی ہے؟ کیا کوانٹم فزکس الحاد کو ثابت کرتی ہے یا اس کے برعکس؟ کیا شعور صرف دماغی کیمیکل ری ایکشن ہے؟ کیا اخلاقیات خدا کے بغیر قائم رہ سکتی ہیں؟ کیا ارتقاء خدا کے انکار پر مجبور کرتا ہے؟ کیا مذہب صرف نفسیاتی سہارا ہے؟ کیا جدید مغربی فلسفہ واقعی عقل کی آخری منزل ہے؟ یہ کورس ان سوالات سے فرار نہیں کرتا، بلکہ انہیں براہِ راست موضوعِ بحث بناتا ہے۔
یہاں آپ:
ڈیوڈ ہیوم، کانٹ، ڈارون، ہاکنگ، کراوس، ڈینیٹ، ڈاکنز جیسے لوگوں کے افکار کو بھی پڑھیں گے
اور ابنِ سینا، ملا صدرا، علامہ طباطبائی، شہید مطہری، آیت اللہ مصباح، اور دیگر مسلم فلاسفہ و متکلمین کے عمیق نظریات کو بھی سمجھیں گے۔
آج بہت سے نوجوان یا تو جدیدیت کے سامنے مرعوب ہو کر الحاد یا لبرلزم کی طرف چلے جاتے ہیں یا پھر جدید علوم کوہی رد کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ یہ کورس دونوں انتہاؤں سے بچاتا ہے۔ یہاں نہ اندھا مغرب زدہ پن ہوگا، نہ جذباتی رد عمل بلکہ ہر نظریے کو اس کی اصل علمی بنیادوں پر پرکھا جائے گا۔
بندہ خدا: غلام رسول وَلایتی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں