تحریر: غلام رسول وَلایتی، ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن، جامعہ الکوثر اسلام آباد
تمہید
انسانی فکر کا ارتقاء حقیقتِ وجود اور ماہیتِ علم کی جستجو کی ایک ایسی داستان ہے جس کی جڑیں شعورِ انسانی کے ابتدائی نقوش میں پیوست ہیں۔ انسان نے جب سے اس کائنات میں آنکھ کھولی، اس کے سامنے دو بنیادی چیلنج تھے۔ ایک اس کے وجود کی حقیقت (Ontology) اور دوسرا اس حقیقت کو جاننے کا ذریعہ (Epistemology)۔ قدیم تہذیبوں سے لے کر عصرِ حاضر تک، فلسفے کا یہ سفر کائنات شناسی سے شروع ہو کر خود شناسی اور پھر علم شناسی کے پیچیدہ مراحل سے گزرا ہے۔
کائنات شناسی (Cosmology) کے ابتدائی مراحل میں انسان نے مظاہرِ فطرت کو بنیاد بنا کر کُلِ واقعیت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ قدیم یونانی مفکرین، جن میں تھیلس اور اناکسی مینڈر شامل تھے، کائنات کے اولین مبدأ (Arche) کی تلاش میں تھے کہ وہ کون سا بنیادی عنصر ہے جس سے یہ بساطِ عالم بنی ہے۔ یہاں سےوہ بحث نکلی جس نے انسانی فکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک وہ جو اولین مبدا کو محض مادہ سمجھتے تھے اور دوسرا وہ جو وجود کے پیچھے کسی مابعد الطبیعاتی حقیقت کے قائل تھے۔ افلاطون نے جب عالمِ مثال کا نظریہ پیش کیا تو اس نے انسانی فکر کو حسیات کے قید خانے سے نکال کر ماورائی حقائق کی طرف موڑ دیا۔ اس کے نزدیک یہ مادی دنیا محض ایک سایہ ہے، اور حقیقی علم وہی ہے جو عقلِ محض کے ذریعے ان مجرد حقائق (Ideas) تک رسائی حاصل کرے۔
اسی بحث نے علم شناسی (Epistemology) کے ان چار بڑے دبستانوں کو جنم دیا جنہوں نے تاریخِ فلسفہ کا رخ متعین کیا۔ عقلیت پسندوں (Rationalists) نے عقل کو علم کا واحد معتبر ذریعہ قرار دیا، یہ مانتے ہوئے کہ کچھ حقائق پیدائشی طور پر انسانی ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، تجربیت پسندوں (Empiricists) نے جان لاک اور ڈیوڈ ہیوم کی قیادت میں یہ موقف اختیار کیا کہ انسانی ذہن پیدائش کے وقت ایک سادہ تختی (Tabula Rasa) کی مانند ہوتا ہے اور علم کا واحد منبع حسی تجربہ ہے۔ ان دونوں کے ٹکراؤ نے فلسفے میں ایک تعطل پیدا کر دیا تھا جسے کانٹ نے تنقیدی فلسفے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی، جہاں اس نے عقل اور تجربے کے امتزاج سے علم کی نئی حدیں مقرر کیں۔
تاہم، مشرق کے فکری افق پر وجود شناسی اور علم شناسی کا ایک الگ ہی رنگ نظر آتا ہے۔ یہاں علم وجود کا ایک مرتبہ ہے۔ فلسفی اور عرفانی زاویہ ہائے نظر نے یہ ثابت کیا کہ علم کا ایک درجہ علمِ حضوری بھی ہے، جہاں عالم اور معلوم کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا۔ علم کی بلند ترین قسم علمِ حضوری ہے۔ عام علم (حصولی) میں ہم اشیاء کو ان کی تصویر یا تصور کے ذریعے جانتے ہیں، جس میں عالم اور معلوم کے درمیان واسطہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن علمِ حضوری میں یہ تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور حقیقت براہِ راست عالم کے سامنے حاضر ہوتی ہے۔ اس کی سادہ مثال اپنی ہستی کا شعور ہے، جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جدید دور میں جب ٹیکنالوجی اور سائنس نے کائنات کے مادی رخ کو بے نقاب کیا، تو انسانی فکر دوبارہ ان سوالات کی طرف لوٹ رہی ہے کہ کیا علم صرف وہی ہے جو لیبارٹریز ، حواس اور تجربے سےثابت ہو سکے؟ یا وجود کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جو مادی پیمانوں سے ماورا ہیں؟ کائنات شناسی سے شروع ہونے والا یہ سفر آج اس نقطے پر پہنچ چکا ہے جہاں مادہ، شعور اور ماورائیت کے درمیان سرحدیں دھندلا رہی ہیں۔ جدید سائنسی انکشافات نے بلاشبہ انسانی فہم و شعور کے افق کو اس حد تک وسیع کر دیا ہے کہ وہ کائنات کے مخفی گوشوں اور مادے کی پیچیدہ ترین تہوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ لیکن اسی بے مثال ترقی کسے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسا فکری رجحان بھی پروان چڑھا ہے جسےسائنٹزم (Scientism) یا مکتبِ سائنس کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہ رویہ محض ایک ایسی انتہا پسندی ہے جو سائنسی طریقۂ تحقیق کو علم کا واحد اور حتمی معتبر ذریعہ قرار دے کر ہر اس سچائی کو مسترد کر دیتی ہے جو تجربے اور مشاہدے کی گرفت میں نہ آ سکے۔ سائنٹزم یا مکتبِ سائنس دراصل سائنس کے دائرۂ کار سے ایک غیر منطقی تجاوز ہے، کیونکہ سائنس اپنی فطرت میں صرف مادی دنیا کے کیسے (How) کا جواب دیتی ہے، جبکہ کیوں (Why) کے سوالات، اخلاقی اقدار، وجودی مقصد اور الہامی و وجدانی تجربات کا تعلق ان انسانی حقائق سے ہے جو کسی خوردبین یا پیمانے کے محتاج نہیں ہوتے۔ جب کسی تجرباتی علم کو تمام انسانی مسائل، بالخصوص اخلاقی اور فلسفیانہ گتھیوں کا حل قرار دیا جانے لگے، تو اس سے ایک ایسی تنگ نظری جنم لیتی ہے جو انسانی شعور کے ان وسیع گوشوں کو تنگ کر دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف فلسہ، اخلاق اور مذہب کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ خود سائنس کی اصل روح کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ بعض ملحد سائنس دان جب اپنی علمی حدود سے باہر نکل کر مابعد الطبیعیاتی فتوے صادر کرنے لگتے ہیں تو وہ سائنس کی خدمت کے بجائے ایک خاص مکتبِ فکر کی تبلیغ کر رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی فہم کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں مادی پیمائش کے ساتھ ساتھ وہ روحانی اور فلسفیانہ ابعاد بھی شامل ہیں جنہیں محض سائنسی لیبارٹریوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ سائنٹزم یا مکتبِ سائنس کا تعصب انسانی علم کو یک رخی بنا دیتا ہے، جبکہ ایک متوازن فکری رویہ وہی ہے جو سائنسی انکشافات کی قدر کرتے ہوئے انسانی شعور کے ان مخفی پہلوؤں کا بھی احترام کرے جو سائنس کی دسترس سے ماورا ہیں۔۔۔ جاری ہے

تبصرے