مصطفیٰ عزیزی علویجہ؛ ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبۂ فلسفہ، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی مترجم: غلام رسول وَلایتی ایسوسی ایٹ ریسرچ، ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن جامعہ الکوثر اسلام آباد
۲۔ دوسری اور تیسری صدی ہجری میں الحاد کی فکری درجہ بندی
عہدِ اہلِ بیت علیہم السلام میں ملحدین اور زنادقہ کے افکار اور فکری رجحانات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ان کے نظریات کو درج ذیل پانچ بنیادی محوروں میں درجہ بند (Categorize) کیا جا سکتا ہے:
اول؛ ذاتِ باری تعالیٰ اور کائنات کے صانع کے وجود میں الحاد، جس سے مراد کائنات کے پیدا کرنے والے، یعنی خالق اور صانعِ حقیقی کے وجود کا سرے سے انکار کر دینا ہے۔ (صدوق، ۱۳۹۸: ۲۹۰)
دوم؛ خداوندِ متعال کی ربوبیت اور تدبیرِ تکوین میں الحاد، جس کے تحت کائنات کے نظام کو چلانے اور اس کی تدبیر کرنے میں شک پیدا کیا جاتا تھا۔ ابنِ ابی العوجاء اس طبقے کا نمایاں نمائندہ ہے، جس کا ماننا تھا کہ یہ کائنات ازلی (بغیر کسی آغاز کے) ہے، یہ خود بخود وجود میں آئی ہے اور اس کا کوئی صانع اور نظام چلانے والا موجود نہیں ہے۔ (مفضل بن عمر، بی تا: ۴۱)
سوم؛ صفاتِ الٰہیہ اور ان کے دائرہ کار میں الحاد و تشکیک، جس میں پروردگار کی صفاتِ کمال اور ان کی لاجرم وسعت پر اعتراضات اٹھائے جاتے تھے۔ جیسا کہ ایک تاریخی مناظرے میں عبداللہ دیصانی نے ہشام بن حکم سے پوچھا: "کیا تمہارا کوئی پروردگار اور رب ہے؟” ہشام نے جواب دیا: "ہاں، وہ توانا اور ہر چیز پر غالب ہے۔” دیصانی نے فکری مغالطہ پیدا کرنے کے لیے دوبارہ سوال کیا: "کیا تمہارا یہ پروردگار پوری دنیا کو ایک مرغی کے انڈے میں اس طرح سما سکتا ہے کہ نہ تو انڈہ بڑا ہو اور نہ ہی دنیا چھوٹی ہو؟” (کلینی، ۱۴۰۷ق، ج۱: ۷۹)
چہارم؛ توحید کا انکار اور ثنویت (Dualism) پر اعتقاد، جو کہ صدرِ اسلام کے الحاد کا ایک بڑا محور تھا، جہاں یکتائی و یگانگی کے مقابلے میں دو مستقل خداؤں کا قائل ہونا پایا جاتا تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس فکری فتنے کے جواب میں ایک زندیق کے سامنے ایسی ٹھوس، قوی اور محکم عقلی دلیل قائم فرمائی جو علمِ کلام میں "برہانِ فرجہ” (فاصلے کی دلیل) کے نام سے معروف ہے۔ (صدوق، ۱۳۹۸ق: ۲۴۳)
پنجم؛ وحی، رسالت اور قرآنِ مجید کی حقانیت میں الحاد، جس میں بعض ملحدین اور زنادقہ قرآنِ کریم کی آیات میں بظاہر تضادات اور تعارض کا دعویٰ کر کے شکوک و شبہات ابھارتے تھے اور صراحت کے ساتھ کہتے تھے کہ ہمیں قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے میں شک ہے۔ (صدوق، ۱۳۹۸ق: ۲۵۵)
امام صادق (علیہ السلام) کے زمانے میں ملحدوں کا ایک گروہ اکٹھا ہوا اور انہوں نے ملحدوں کا گروپ بنایا۔ وہ مسجد الحرام میں پوری گستاخی کے ساتھ جمع ہوتے، حاجیوں کا مذاق اڑاتے اور قرآنِ کریم پر اعتراضات کرتے تھے۔ یہ لوگ ابن ابی العوجاء، ابو شاکر دیصانی، عبدالملک بصری اور ابن مقفع تھے۔ایک دن ابن ابی العوجاء نے انہیں تجویز دی کہ آؤ بیٹھتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک قرآن کے ایک چوتھائی حصے کو رد کریں گے، اس صورت میں ہم پورے قرآن کو باطل کر دیں گے، کیونکہ جب قرآن باطل ہو جائے گا تو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت بھی باطل ہو جائے گی، اور ان کی نبوت کے باطل ہونے کی صورت میں اسلام بھی باطل ہو جائے گا اور یہی وہ الحاد ہے جس کے ہم پیچھے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا۔ (طبرسی، ۱۴۰۳ھ، ج ۲: ۳۷۷)یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آج کا جدید الحاد بھی وحی اور قرآنِ کریم کے راستے سے شک پیدا کرنے کے لیے بالکل اسی ابن ابی العوجاء کی تجویز اور منصوبے کو نافذ کر رہا ہے۔
۳۔ اہل بیت (علیہم السلام) کے دور میں الحاد کے اسباب
توحیدی تعلیمات کے مطابق، انسان کی فطرت اور جبلت خدا پرستی پر مبنی ہے۔ اسی لیے کفر اور الحاد کی طرف رجحان کو ایک عارضی اور بیرونی عمل سمجھا جاتا ہے۔ نیز، اہل بیت (علیہم السلام) کے دور میں الحاد کے پھیلاؤ کے بارے میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ الحاد اسلامی دنیا، بالخصوص مکہ و مدینہ جیسے مقدس مقامات میں باہر سے درآمد شدہ ایک مسئلہ تھا۔ معصوم پیشواؤں (علیہم السلام)، بالخصوص امام صادق (علیہ السلام) کے دور میں الحاد کی پیدائش اور اس کے پھیلاؤ کے کئی عوامل اور اسباب تھے جن میں سے اہم ترین کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:
الف) الحاد کے ظہور اور پھیلاؤ میں ترجمہ کی تحریک کا کردار:ایک طرف اسلام کا علم حاصل کرنے پر توجہ اور اہتمام، اور دوسری طرف اسلامی فتوحات کی وسعت اور مسلمانوں کا مختلف اقوام کے کلچر اور تہذیب سے روشناس ہونا، مسلمانوں کے درمیان الحادی افکار کے پھیلنے کا باعث بنا۔ہارون الرشید کے دور میں مختلف زبانوں سے عربی میں کتابوں کے ترجمے کی تحریک عروج پر پہنچی؛ خاص طور پر فلسفہ، نجوم، ریاضی، طب، منطق اور فنون کے میدان میں یونانی، اسکندرانی، ہندی اور ایرانی آثار کا کثیر تعداد میں عربی میں ترجمہ ہوا۔ اس دور میں ترجمے کا کام ان مترجمین کے ذریعے پروان چڑھا جن میں سے اکثر عیسائی، یہودی یا دوسرے مذاہب سے اسلام قبول کرنے والے تھے۔ (منتظری، ۱۳۸۹: ۱۹۵)
ب) الحاد کے ظہور اور پھیلاؤ میں مسیحیت اور یہودیت کی تعلیمات کا کردار:بصرہ، کوفہ اور شام کے شہر وسیع مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے مراکز تھے اور الحاد و زندقیت کے تین اہم گڑھ مانے جاتے تھے۔ بصرہ، یہودیوں، عیسائیوں اور غیر عرب تاجروں کی موجودگی کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور یہی عنصر مکہ اور مدینہ جیسے دیگر اسلامی مراکز میں الحاد کے پھیلاؤ کا سبب بنا۔ (یوزف فان اس، ۱۳۹۷ق: ۶۱۸)
ج) الحاد کے ظہور اور پھیلاؤ میں حکمرانوں کے فساد اور ظلم کا کردار:بلاشبہ، ان حکمرانوں کا ظلم اور فساد جو خود کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جانشین کہلواتے تھے اور دین کے نام پر بدترین مظالم، فسادات اور جرائم کے مرتکب ہوتے تھے، کمزور ایمان والے افراد کے الحاد کی طرف مائل ہونے میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔
د) الحاد کے ظہور اور پھیلاؤ میں اسلامی فتوحات اور ثقافتی تصادم کا کردار:بلاشبہ، دوسرے اور تیسرے خلیفہ کے دور میں ہونے والی فتوحات نے فکری اور ثقافتی تبادلے اور اسلامی دنیا میں بعض الحادی افکار کے نفوذ میں اہم کردار ادا کیا۔ روم، شامات، ایران اور مصر کی فتح انہی اسلامی فتوحات میں شمار ہوتی ہے۔ مصر میں اسکندرانی حکمت، ایران میں خسروانی حکمت، روم کے تابع علاقوں جیسے فلسطین اور شام کی فتح، سندھ اور ہند، بدھ مت اور چینی تہذیب، ان سب نے اسلامی معاشرے میں الحادی افکار کو پھیلانے میں کردار ادا کیا ہے۔
۴۔ ائمہ معصومین (علیہم السلام) کے دور میں الحاد کی خصوصیات
۴۔ ۱۔ مادہ پرستانہ اور حسی الحاد: اس دور کے الحاد کی ایک خصوصیت، اس کا مادہ پرستی اور حسی تجربات پر منحصر ہونا ہے۔ ملحدین کا کائنات کے پیدا کرنے والے کے بارے میں تصور ایک انسانی شکل و صورت جیسا تھا۔ اسی لیے جب کوئی ملحد امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے، تو دیکھا گیا ہے کہ وہ وجودِ خدا کے اصل اثبات کے بعد ایسے بڑے سوالات اٹھاتا ہے جو خدا کی انسانی صفات سے متعلق ہوتے ہیں؛ چنانچہ وہ آپ سے پوچھتا ہے: "کیا اس کی کوئی کیفیت ہے؟” یا "کیا اس کی خوشنودی اور ناراضگی ہوتی ہے؟” (صدوق، ۱۳۹۸ھ: ۲۴۴)امام صادق (علیہ السلام) کے اس ملحد شخص کو دیے گئے جوابات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ کی تمام تر کوشش اس شخص کے مادی اور انسانی تصورات پر مبنی نظریات کو پاک کرنا تھا، جس خدا کو انہوں نے پہلے عقلی دلیل سے ثابت کیا تھا؛ اسی لیے آپ خدا کے جسم ہونے، مرکب ہونے، تبدیل ہونے اور اس میں تغیر آنے کی نفی پر تاکید فرماتے تھے۔
اسی طرح جب ملحدین میں سے ایک شخص نے امام علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) سے پروردگار کی کیفیت کے بارے میں پوچھا اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے جسمانی خصوصیات کی نفی کی، تو اس ملحد نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: "پس وہ کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ وہ حواس میں سے کسی حاسہ سے محسوس نہیں ہوتا۔” (صدوق، ۱۳۹۸ھ: ۲۵۱)امام رضا (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا: "افسوس ہے تجھ پر! جب تیرے حواس اس کے ادراک سے عاجز آ گئے تو تو نے اس کی ربوبیت کا انکار کر دیا؟ جبکہ ہم، جب ہمارے حواس اس کے ادراک سے عاجز آ جاتے ہیں، تو ہمیں پکا یقین ہو جاتا ہے کہ وہ ہمارا رب ہے اور وہ کسی بھی چیز جیسا نہیں ہے۔” (ایضاً)
ایک اور مناظرے میں جو ابو شاکر دیصانی اور امام صادق (علیہ السلام) کے درمیان ہوا، دیصانی نے آپ سے کہا: "آپ جانتے ہیں کہ ہم (کائنات کے پیدا ہونے کا انکار کرنے والے) اس چیز کے سوا کسی چیز کو تسلیم نہیں کرتے جسے ہم اپنی آنکھ سے دیکھیں، یا کان سے سنیں، یا ہاتھ سے چھوئیں، یا ناک سے سونگھیں، یا منہ سے چکھیں، یا اپنے ذہن و خیال میں اس کا تصور کریں یا پھر یقینی روایات سے اس کا نتیجہ نکالیں۔” (ابن بابویہ، ۱۴۱۸ھ: ۳۵۲) امام صادق (علیہ السلام) نے اس حسی ملحدانہ نظریے کے جواب میں فرمایا: "پانچوں حواس عقلی دلیل کے بغیر کوئی فائدہ نہیں دیتے، بالکل اسی طرح جیسے اندھیرا چراغ کے بغیر ختم نہیں ہوتا۔” (ایضاً)
یہ نکتہ علمیات میں بھی بہت باریک اور ثابت شدہ ہے کہ پانچوں حواس خود سے کوئی فیصلہ اور تصدیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، بلکہ یہ عقل ہے جو حسی امور میں فیصلہ اور تصدیق کا حکم لگاتی ہے۔۔۔۔جاری ہے

تبصرے