مصنف: جان ڈیون پورٹ ترجمہ: غلام رسول وَلایتی:
یہ کتاب کسی مسلمان نے نہیں، بلکہ ایک غیر مسلم مستشرق اور حق پسند انگریز مفکر ‘جان ڈیون پورٹ’ کی تصنیف ہے، جو انہوں نے مغربی مستشرقین کی دانستہ اور تعصبانہ غلط بیانیوں کو درست کرنے اور مغرب کے فکری گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے قلمبند کیا۔ اس لیے اس کتاب کا نام ہی (اہل مغرب کی طرف سے) ’’بارگاہِ محمدیؐ و قرآن میں کوتاہی کی معذرت‘‘ ("An Apology for Mohammed and the Koran")رکھا ہے۔
مصنف جان ڈیون پورٹ اپنے دیباچے میں رقم طراز ہیں کہ یہ تصنیف ایک عاجزانہ مگر مخلصانہ کوشش ہے تاکہ متعصب مستشرقین کی طرف سے لگائے گئے جھوٹے الزامات اور متعصبانہ اعتراضات کا ازالہ کیا جائے، اور سرورِ کائنات ﷺ کے اس جائز مرتبے کو ثابت کیا جا سکے کہ آپ ﷺ کائنات کے سب سے بڑے محسن ہیں۔ ڈیون پورٹ ان مغربی مصنفین کی فکری کجی اور اندھے تعصب کا پردہ چاک کرتے ہیں جنہوں نے توحید کے اس عظیم علمبردار کی پاکیزہ شہرت پر بے جا حملے کیے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے انقلابی اقدامات کو کسی عیسائی یا جدید یورپی چشمے سے دیکھنے کے بجائے ایک مشرقی نقطہ نظر سے پرکھا جانا چاہیے۔ وہ عرب کی کایا پلٹنے والے اس جلیل القدر مصلحِ اعظم کو تاریخِ انسانی کا سب سے نادر اور بے مثل عبقری (Genius) تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ساتویں صدی کے پسماندہ عرب کو دنیا کی تہذیب یافتہ قوم بنا دینا اور کروڑوں انسانوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر دینا کوئی آسان اور سہل کام نہیں۔
اس کتاب کے فارسی ترجمے میں، مرحوم مترجم نے ایک انگریز مفکر تھامس کارلائل کے لاجواب قول بھی ذکر کیا ہے:
"میں اعتراف کرتا ہوں کہ ان ناقدین کے بیانات سے جو محمد ﷺ پر تہمت لگاتے ہیں کہ انہوں نے جان بوجھ کر، دلی ارادے اور فریب کاری کے ساتھ عیاری کا راستہ اختیار کیا،میں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں! میں یہ بات سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ کوئی شخص اپنی تمام تر زندگی مکر و فریب کے ساتھ گزارے، اور پھر بھی قرآن جیسی ایک ایسی عالمگیر الٰہی کتاب پیش کر دے جیسے کوئی جادوگر یا فریبی لکھتا ہے! میرا یہ پختہ ماننا ہے کہ، جو کوئی بھی قرآن کو بصیرت اور کھلے دل کی نظر سے پڑھے گا، وہ قطعاً اسے ایک بالکل مختلف اور بے عیب روپ میں پائے گا۔”
تھامس کارلائل کا یہ اقتباس دراصل اس حقیقت کا اقرار ہے کہ ایک سچے، امین اور پاکباز انسان پر دھوکے بازی کا الزام لگانا نا انصافی ہے۔ ایک فریب کار اور مصلحت پسند شخص کبھی قرآن جیسی لازوال، ابدی اور عالمگیر حکمت سے لبریز کتاب دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔
الغرض، یہ کتاب محض ایک تاریخی جائزہ نہیں ہے، بلکہ حریمِ رسالت اور عظمتِ قرآن پر ہونے والے حملوں کے خلاف خود اہلِ مغرب کے ایک منصف مزاج طبقے کی طرف سے پیش کی جانے والی علمی تلافی ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک ناگزیر مطالعہ ہے جو تعصب کے دھندلکے سے نکل کر حقیقت کی روشنی کا متلاشی ہے۔ یہ صفحات گواہ ہیں کہ جب کوئی منصف مزاج غیر مسلم بھی سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے، تو وہ پکار اٹھتا ہے کہ ماضی میں اہلِمغرب سے جو کج فہمی اور کوتاہی ہوئی، یہ کتاب اس کا ایک سچا اور صمیمِ قلب سے کیا گیا اعترافِ ندامت ہے۔ ان شاء اللہ اس کتاب سے کچھ منتخب اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔(مترجم)
علم پروری اور احیائے علوم
تاریخِ عالم میں شاید ہی کوئی ایسی قوم گزری ہو جس نے مسلمانوں کی مانند، اپنے آغاز سے لے کر اپنے عروج و زوال تک، تحصیلِ علم اور تعظیمِ علما کے لیے اس قدر گہرا اور والہانہ جذبہ اپنے دل میں بسا رکھا ہو اور اس کا سچا اظہار کیا ہو۔ ایک مسلم شاعر کہتا ہے: ’’جیسے ہی میری نظر کسی صاحبِ علم پر پڑتی ہے، میرا دل تڑپ اٹھتا ہے کہ میں ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دوں اور ان کے نقشِ قدم کی خاک کو چوم لوں۔‘‘ قرآن و حدیث اور آداب و سنن دونوں ہی اس قابلِ ستائش جذبے کی تائید و توثیق کرتی ہیں۔ جیسا کہ یہ حدیث: ’’عالم کی(قلم کی) روشنائی اور شہید کا خون (میزانِ عدل میں) برابر کی فضیلت رکھتے ہیں‘‘؛ اور ’’جنت کا پروانہ اس شخص کے لیے مژدہِ جاں ہے جو اپنے پیچھے قلم اور روشنائی کا ترکہ چھوڑ جائے‘‘ یعنی بالفاظِ دیگر، جو اپنے عملی نمونے سے اپنی نسلوں کو ورثہِ علم کی وصیت کر جائے۔ مزید یہ کہ: ’’یہ بزمِ کائنات محض چار ستونوں پر قائم ہے: داناؤں کا علم، عادلوں کا انصاف، صالحین کی دعائیں، اور غازیوں کی شجاعت۔‘‘
لیکن اس سے بھی بڑھ کر محکم بات یہ ہے کہ وہ خود ذاتِ باری تعالیٰ کو قرآنِ مجید میں اس شان کے ساتھ متعارف کرواتے ہیں جہاں دنیاوی مال و زر کو ہیچ و ناپائیدار، اور علم کو ایک بے بہا اور ابدی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ خود محمد ﷺ نے انتہائی خلوص اور تاکید کے ساتھ طلبِ علم کو فریضہ قرار دیا، اور ان کے داماد، علیؑ نے اس مشیتِ الٰہی کے عدل کا دل سے اعتراف کیا جس نے انہیں دنیا کی عارضی دولت سے بے نیاز کر کے علم کی لازوال ثروت سے مالامال کر دیا۔
حکمت و فلسفہ اور علومِ جدیدہ کو ازسرِ نو زندگی بخشنے والے، اور قدیم و جدید علوم کے درمیان ایک مضبوط کڑی کا کردار ادا کرنے والے بلاشبہ ہر قسم کی تاریخی شہادتوں کے مطابق، بنو عباس اور بنو امیہ کے خلفاء کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والے ایشیا کے عرب اور اندلس (اسپین) کے مسلمان ہی تھے۔ وہ علوم و فنون جو اصلاً مشرق سے یورپ پہنچے تھے، انہیں دوسری مرتبہ اسلامی عبقریت(Genius of Mohammedanism) کے بازوؤں نے ہی وہاں دوبارہ منتقل کیا۔ یہ تاریخ کا ایک مسلمہ اور درخشاں باب ہے کہ جب ہمارے ہاں (اہلِ یورپ کے ہاں) وحشیانہ جہالت کا اندھیرا تھا اور علم و ادب کا چراغ گل ہو چکا تھا، اس دور میں مسلمانوں کے ہاں تقریباً چھ سو سال تک علوم و فنون اور سائنس کی محفلیں پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں رہیں۔
مغرب کا فکری انحطاط اور اسلامی فکر کے اثرات
موزھیم (Mosheim) رقم طراز ہے: ’’نہایت معتبر راویوں کے متفقہ شواہد کے مطابق، اس (دسویں) صدی کے دوران مغربی دنیا پر مسلط فکری تاریکی سے بڑھ کر کوئی منظر نامہ اندوہناک اور قابلِ رحم نہیں ہو سکتا، یہ وہ دور ہے جسے علم و فلسفہ کے اعتبار سے لاطینیوں کا عہدِ آہن(Iron Age) کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ لاطینیوں کی فکری پرواز منطق اور مناظرے کی محض ایک ہی صنف تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، جسے وہ تمام تر انسانی دانشمندی کا کل اثاثہ اور نچوڑ سمجھتے تھے۔ یہ ایک امرِ یقینی ہے کہ عرب مفکرین اس سے قبل ہی اندلس (اسپین) اور اٹلی میں متعدد مدارس قائم کر چکے تھے، جن کی سمت متلاشیانِ علم نے جوق در جوق رختِ سفر باندھا؛ اور وہاں سے عربوں کے فلسفیانہ مسالک اور فکری نظاموں کو مستعار لے کر انہیں عیسائی درسگاہوں میں متعارف کروایا۔‘‘ وہ مزید لکھتا ہے: ’’اس حقیقت کا اعتراف ناگزیر ہے کہ دسویں صدی کے بعد سے یورپ میں پروان چڑھنے والا تمام تر علمی سرمایہ خواہ اس کا تعلق علمِ طب سے ہو یا فلکیات سے، فلسفے سے ہو یا ریاضی سے،اصلاً عربوں ہی کے مدارس سے مأخوذ تھا؛ اور اندلس کے مسلم عربوں کو تو خاص طور پر ‘آبائے فلسفہِ یورپ’ تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘‘
جدید یورپ اپنے شعری تخیل کی پہلی کونپل اور رومانوی تصورات کے تانے بانے کے لیے بھی عربوں ہی کا مرہونِ منت ہے۔ دیگر اقوام پر اپنی فتوحات سے حاصل ہونے والے امکانات کا بہترین مصرف ڈھونڈتے ہوئے، انہوں نے نہایت قلیل عرصے میں اپنی ایک شاندار زبان اور گراں مایہ ادب کی بنیاد رکھی؛ اور اس سنگِ میل کو عبور کرنے کے بعد، ان کی فکری و علمی ارتقا کی رفتار اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں حیرت انگیز حد تک تیز تھی۔ یونانی ادب کو صورت گری اختیار کرنے میں آٹھ صدیاں لگی تھیں، اور رومی دنیا کو بھی اپنے عظیم مصنفین اور شعراء پیدا کرنے کے لیے اتنی ہی طویل مدت درکار تھی۔ فرانس کے جنوب میں ‘رومی پروونسال’ زبان کے آغاز سے لے کر اس قوم کے صاحبِ ادب ہونے کے دعوے تک بھی اتنا ہی عرصہ گزرا۔ لیکن، تاریخ کا معجزہ دیکھیے کہ واقعہِ ہجرت سے ابھی بمشکل ڈیڑھ سو سال ہی گزرے تھے کہ عرب علم و قلم کے تاجدار بن چکے تھے اور قدیم حکمت، شاعری اور فنونِ لطیفہ کے حقیقی محافظ قرار پائے۔۔۔ جاری ہے
تبصرے