تحقیق: غلام رسول وَلایتی ایسوسی ایٹ ریسرچ، ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن جامعہ الکوثر اسلام آباد
نظریۂ پروجیکشن کا تنقیدی جائزہ لینےسے پہلے اس کے بنیادی مفروضات (Assumptions) کی تعیین ناگزیر ہے، کیونکہ کسی بھی نظریے کی علمی حیثیت اور صحت و سقم کا فیصلہ اس کے نتائج سے زیادہ ان بنیادی مفروضات پر ہوتا ہے جن پر اس کی پوری عمارت استوار ہوتی ہے۔اگر کوئی نظریہ ایسے مفروضات کو اساس بنائے جو بذاتِ خود غیر ثابت، محلِ نزاع، یا اپیسٹیمولوجیکلی غیر مبرہن ہوں، تو اس سے مستنبط ہونے والے تمام فکری نتائج بھی منطقی طور پر مشکوک اور غیر یقینی قرار پائیں گے۔الحادی اور مادی نظریات میں اکثر یہ مغالطہ پیش آتا ہے کہ اصل مدعا کو ثابت کیے بغیر اسے مفروضہ بنا لیا جاتا ہے (مثلاً یہ فرض کر لینا کہ ‘چونکہ خدا کا کوئی خارجی وجود نہیں، لہذا مذہب محض ایک نفسیاتی اختراع ہے’)۔مفروضات کی نشاندہی سے یہ منطقی مغالطہ فوراً عیاں ہو جاتا ہے۔کسی نظریے کے جزوی نتائج پر جرح کرنے سے محض فروعی بحثیں جنم لیتی ہیں، جبکہ اس کے بنیادی مفروضات کی بے اعتباری ثابت کر دینے سے پورے نظریے کی بنیادیں خود بخود زمین بوس ہو جاتی ہیں۔
انہی دلائل کی روشنی میں، فیورباخ کا نظریۂ مذہب بھی چند ایسے مضمر مفروضات کا مرہونِ منت ہے جنہیں اس نے ثابت کیے بغیر بطورِ اصولِ موضوعہ (Axiom) تسلیم کر لیا ہے، اور اس نظریے کا جائزہ ان کے ابطال کے بغیر ممکن نہیں:
خدا کے تصور کا انسانیاتی منشأ (Anthropological Origin)
اس نظریے کا پہلا اور بنیادی ترین مفروضہ یہ ہے کہ خدا کا تصور کسی مابعد الطبیعیاتی حقیقت کے وجدانی، الہامی، وحیانی، یا انسانی ذات سے خارج کسی حقیقی و قائم بالذات وجود کے ادراک کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً انسانی نوعی ماہیت کی داخلی فکری پیداوار ہے۔ فیورباخ کے نزدیک انسان اگرچہ اپنی انفرادی، مادی اور حیاتیاتی حیثیت میں شدید محدود، فانی اور ناقص ہے، لیکن بحیثیتِ نوع وہ مطلق علم، کامل قدرت، غیر محدود محبت، عدل اور خیر جیسے لامتناہی کمالات کا شعور رکھتا ہے۔ یہی نوعی شعور، جو فرد سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کا احاطہ کرتا ہے، مذہب کی پیدائش کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ اس مفروضے کے مطابق خدا کا تصور نازل ہونے والی کوئی حقیقت یا معروضی سچائی نہیں ہے، بلکہ انسانی خواہشات سے ابھرنے والی ایک داخلی انسانی تشکیل ہے۔فیورباخ ابتدا ہی سے یہ مفروضہ قبول کر لیتا ہے کہ عقل اور مادہ سے ماورا کسی حقیقی وجود کا سرے سے کوئی امکان نہیں۔ اسی پیش فرض کی بنیاد پر وہ مذہب کے ظہور کی ایسی تعبیر پیش کرتا ہے جس میں خدا یا کسی ماورائی حقیقت کے بجائے خود انسان اور اس کی نوعی ماہیت کو مذہبی تصورات کی تخلیق کا سرچشمہ قرار دیا جاتا ہے۔
معروضی تشکیل اور تفویضِ اوصاف (Objectification and Projection)
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ انسان اپنی نوعی ماہیت کے ان مثالی کمالات کو محض ذہنی اور داخلی تصورات کی حد تک باقی نہیں رہنے دیتا، بلکہ ایک نفسیاتی ضرورت کے تحت پہلے انہیں اپنے وجود سے ممتاز اور الگ کر کے ایک معروضی اور مستقل خاکہ دیتا ہے۔ اس عمل کو فیورباخ نے معروضی تشکیل کا نام دیا ہے۔ اس کے بعد انسان دوسرے مرحلے میں انہی معروضی خاکے کو ایک فرضی الوہی ہستی کی طرف منتقل کر دیتا ہے، جسے تفویضِ اوصاف یا پروجیکشن کی اصطلاح سے تعبیر کیا ہے۔ گویا اس مفروضے کی رو سے خدا کی ذات انسان کی اپنی ہی باطنی ماہیت کی ایک خارجیت پسند، معروضی اور تقدیس یافتہ صورت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ مفروضہ ایک غیر ثابت شدہ نفسیاتی جبریت پر مبنی ہے، جس کے تحت انسانی ذہن ناگزیر طور پر اپنے تصورات کو خارج میں مجسم دیکھنے کا محتاج ہے۔
صفاتِ الٰہی اور صفاتِ انسانی کی عینیت و مطابقت (Correspondence of Divine and Human Attributes)
تیسرا مفروضہ یہ قائم کیا گیا ہے کہ خدا کی طرف منسوب تمام بنیادی صفات درحقیقت انسانی نوعی ماہیت ہی کے مثالی کمالات کا پرتو ہیں۔ مطلق علم، کامل قدرت، لامحدود محبت، مطلق عدل اور حکمت جیسی صفات کسی مستقل مابعد الطبیعیاتی وجود کی حقیقی یا ذاتی صفات نہیں ہیں، بلکہ انسان نے اپنی ہی صلاحیتوں، تمناؤں اور اخلاقی اقدار کو لامتناہی اور کامل صورت دے کر خارج میں ایک ہستی پر چسپاں کر دیا ہے۔
اس مفروضے کی رو سے الٰہی صفات اور انسانی صفات کے درمیان کوئی جوہری فرق (essential difference) موجود نہیں ہے، یعنی خدا انسان سے جدا کوئی الگ حقیقت نہیں بلکہ انسانی اوصاف ہی کا غیر محدود، مبالغہ آمیز اور مثالی اظہار ہے۔ یہ مقدمہ اس منطقی مغالطے پر مبنی ہے کہ اگر دو چیزوں کے اوصاف میں کوئی مماثلت (مثلاً علم) پائی جائے، تو ان کا منشأ و منبع بھی لازماً ایک ہی ہونا چاہیے، جو کہ فکری الٹ پھیر ہے۔
الٰہیات کی مابعد الطبیعیاتی نفی اور انسانیاتی تعبیر (Theology as Anthropology)
مندرجہ بالا تینوں مفروضات کا ناگزیر منطقی حاصل یہ نکلتا ہے کہ الٰہیات درحقیقت مابعد الطبیعیات کا کوئی شعبہ نہیں، بلکہ یہ خالصتاً انسانیات ہی کی ایک مخفی اور بدلی ہوئی شاخ ہے۔ فیورباخ کے نزدیک جب بھی انسان خدا، وحی، عبادت، دعا، یا صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے، تو شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اپنی ہی نوعی ماہیت، اپنے اخلاقی تصورات، اپنے وجودی آرمانوں اور اپنے مثالی کمالات کا تذکرہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے مذہب کا موضوعِ حقیقی کوئی ماورائے کائنات خدا نہیں بلکہ خود انسان ہے، جبکہ خدا کا روایتی تصور انسان کی اپنی ہی نفسیاتی اور اخلاقی حقیقت کا معروضی انعکاس ہے۔ یہ ایک نہایت وسیع مفروضہ ہے جو مذہب کے تجربی اور وحیانی پہلوؤں کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے اسے ایک واحد نفسیاتی عامل تک محدود کر دیتا ہے۔
انسانی جوہر کی خود بیگانگی (Alienation)
فیورباخ کے نزدیک اس پورے نفسیاتی عمل کا جو سب سے ناگزیر نتیجہ نکلتا ہے، وہ انسان کی اپنے ہی جوہر سے خود بیگانگی ہے۔ جب انسان اپنی نوعی ماہیت کے تمام کمالات، قوتوں اور اخلاقی حسن کو خارج میں ایک فرضی خدا کی طرف منتقل کر دیتا ہے، تو وہ ان کمالات کو اپنی ذات سے یکسر منقطع اور جدا سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود کو گناہ گار، ناقص، عاجز، محتاج اور بے اختیار تصور کرنے لگتا ہے، اور اپنی ہی نوعی ماہیت کی اس معروضی اور مقدس صورت کے سامنے خشوع، خضوع، عبادت اور بے بسی کا اظہار شروع کر دیتا ہے۔ فیورباخ کے نزدیک مذہب کا سب سے بڑا تضاد اور اس کا بنیادی راز یہی ہے کہ انسان غیر شعوری طور پر اپنے ہی باطنی جوہر کی پرستش کرتا ہے، لیکن وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہ مفروضہ یہ پیش فرض رکھتا ہے کہ انسانی عظمت کا اعتراف صرف خدا کے انکار ہی کی صورت میں ممکن ہے، یعنی وہ الوہی کمال اور انسانی کمال کو باہمی طور پر متصادم تصور کرتا ہے۔
ان پانچوں بنیادی مفروضات کا گہرا تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ فیورباخ کا پورا نظریۂ پروجیکشن محض چند ایسے مقدمات پر قائم ہے جن کی علمی، منطقی اور فلسفیانہ دلیل خود اس کے متن میں مفقود ہے، اور اس نے مابعد الطبیعیاتی حقیقت کی نفی کے لیے خود کئی غیر مبرہن نفسیاتی و علمیاتی مفروضوں کا سہارا لیا ہے جو اسے منطقی طور پر کمزور بناتے ہیں۔۔۔جاری ہے

تبصرے