تحریر: غلام رسول وَلایتی، جامعہ الکوثر اسلام آباد
بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ ؕ اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ۞
عصرِ حاضر کا انسان ایک عجب متضاد دوراہے پر کھڑا ہے۔ ہم نے ستاروں کی گزرگاہوں کو ناپ لیا، سمندروں کی اتھاہ گہرائیوں کے راز فاش کر دیے، اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز فتوحات سے مادی آسائشوں کے انبار لگا دیے؛ لیکن اس بظاہر شاندار اور چمکتی دمکتی صنعتی پیش رفت کی اوٹ میں روئے زمین پر بسنے والا انسان اندرونی طور پر کس قدر تنہا، مضطرب اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،یہ ایک ایسا المیہ ہے جسے مادی ترقی کی کوئی بھی چادر چھپا نہیں سکتی۔ جدیدیت نے انسان کے قدموں میں دنیا بھر کی راحتیں تو ڈھیر کر دیں، مگر اس کے سینے سے وہ دل نکال لیا جو سکون کی دھڑکنوں سے آشنا تھا۔ اس سے روح کی بالیدگی، طمانیتِ قلب اور زندگی کا وہ ایقانی مرکز چھین لیا گیا جو اسے کائنات اور اس کے خالق سے جوڑے رکھتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج کا انسان اضطراب کی آندھیوں، یاسیت کے گہرے اندھیروں، تپِ دق کی طرح چاٹنے والی تنہائی اور وجودی بے مقصدی کے ایک ایسے مسموم ماحول میں سانس لے رہا ہے جو اس کی حیات کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ انسان نے کائنات کے ظاہری اسرار تو تسخیر کر لیے، مگر اپنے ہی وجود کی باطنی حقیقت، اپنی روح کی پکار اور اپنی کیفیات سے مکمل طور پر بیگانہ ہو گیا۔
ایک طویل عرصے تک مادیت پسندانہ ذہن، مذہب اور روحانیت کو محض تاریخ کا ایک روایتی، جذباتی یا غیر عقلی باب سمجھ کر نظر انداز کرتی رہی۔ غرورِ علم میں مبتلا مفکرین مذہب کو انسان کی ابتدائی کمزوری، نامعلوم کے خوف یا جہالت کا مرہونِ منت قرار دے کر اسے معاشرے کے حاشیے پر دھکیلنے کی مسلسل اور منظم کوششیں کرتے رہے۔ ان کا سطحی دعویٰ تھا کہ مذہبی پابندیاں انسانی ذہن پر اضافی دباؤ اور مجرمانہ احساسِ جرم (Guilt) کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا جبر اور حقیقت کی بازگشت دیکھیے کہ آج وہی تجربی سائنس اور ایپی ڈی میولوجیکل طبی علوم (Epidemiological Medical Sciences)، اپنے ہی فراہم کردہ ڈیٹا، اعداد و شمار اور ناقابلِ تردید احصائیاتی شواہد کے سامنے زانوے ادب تہہ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اس علمی و تجربی انقلاب کا سب سے معتبر اور جامع مظاہرہ برگھم ینگ یونیورسٹی کے ممتاز ‘ویٹلی انسٹی ٹیوٹ’ (Wheatley Institute) کے تحت سامنے آیا ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے معتبر ‘پروگرام آن انٹیگریٹو نالج اینڈ ہیومن فلورِشنگ’ (Program on Integrative Knowledge and Human Flourishing) اور بائیلر یونیورسٹی کے عالمی شہرت یافتہ محققین مثلاً ڈاکٹر ٹائلر وانڈر ویل (Tyler VanderWeele)، ڈاکٹر بائرن جانسن (Byron Johnson)، اور ڈاکٹر ہارلڈ کوئنگ (Harold Koenig)کے ساتھ مل کر انسانی بالیدگی، مذہبی وابستگی اور ذہنی صحت کے باہمی تعلق پر "ریسٹورنگ فیتھ ان مینٹل ہیلتھ” (Restoring Faith in Mental Health) کے عنوان سے ایک معرکہ الآراء اور جامع تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ تحریر عصرِ حاضر کے سرگرداں اور پریشان حال انسان کے لیے بیداری کی ایک قوی پکار، فکری تجدید کی نوید اور سائنسی بصیرت کا نقطۂ عروج ہے۔اس رپورٹ کی سائنسی و احصائیاتی بنیادیں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ مستند ترین تصنیف "دی آکسفورڈ ہینڈ بک آف ریلیجن اینڈ ہیلتھ” (The Oxford Handbook of Religion and Health) کے تینوں ایڈیشنز میں شامل ۳,۰۰۰ سے زائد کمیاتی (Quantitative) اور طویل المدتی (Longitudinal) مطالعات کے عمیق نچوڑ پر مبنی ہیں۔ اس عظیم الشان تجربی ڈیٹا کے سسٹمیٹک ریویو (Systematic Review) سے یہ حقیقت طشت از بام ہوتی ہے کہ ذہنی صحت (ڈپریشن، تشویش، اور معنوی بالیدگی) پر مذہبی وابستگی کے اثرات کا جائزہ لینے والی اعلیٰ معیار کی تحقیقات میں سے ۸۰ سے ۸۵ فیصد مطالعات نے مثبت اور حمایتی اثرات ظاہر کیے، جبکہ صرف ۸ فیصد کے قریب تحقیقات نے کسی قسم کے منفی اثرات کی نشان دہی کی۔ یوں سائنسی برادری کے سامنے 10:1 کا ایک ایسا شاندار اور قاطع تناسب ابھرتا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہبی عقیدہ اور ایمانی شعور انسان کی نفسیاتی ترکیبی ساخت کا ناگزیر اور بنیادی عنصر ہیں۔
اس سائنسی سچائی کا سب سے درخشاں پہلو وہاں سامنے آتا ہے جہاں انسان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر خودکشی اور شدید یاسیت (Major Depression) وہ خاموش عفریت ہیں جو نسلوں کو نگل رہے ہیں۔ آکسفورڈ ہینڈ بک میں شامل اعلیٰ معیار کی تحقیقات کی احصائیاتی درجہ بندی کے مطابق، ۸۹ میں سے ۷۵ اعلیٰ معیار کی تحقیقات (یعنی ۸۴ سے ۸۹ فیصد ڈیٹا) نے یہ بلا خوفِ تردید ثابت کیا ہے کہ باقاعدہ مذہبی عقیدے اور عبادتی عمل سے منسلک افراد میں خودکشی کی شرح اور خودکشی کے رجحانات عام آبادی کے مقابلے میں نچلی ترین سطح پر ہوتے ہیں۔ مذہب انسان کو کائنات کے بے کراں صحرا میں بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، بلکہ اسے ایک جلیل القدر مقصدِ حیات اور "معیتِ الٰہی” کا لایزال احساس عطا کرتا ہے۔ مادیت انسان کو محض حوادثاتی ذرات کا بے معنی انبار سمجھتی ہے، جبکہ ایمان یہ جاوداں درس دیتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔یہ احساسِ معیت انسان کو ناامیدی کی اتھاہ گہرائی میں گرنے نہیں دیتا۔
طویل المدتی تحقیقات اس بات کا بھی روشن ثبوت ہیں کہ جو افراد باقاعدگی کے ساتھ مذہبی اجتماعات اور عبادت گاہوں سے منسلک رہتے ہیں، ان میں شدید یاسیت اور خوفناک ذہنی دباؤ کے امکانات ڈرامائی حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ تاہم، سائنس یہاں ایک غایت درجہ دقیق، نازک اور معرفت افروز اپسٹمولوجیکل نکتے کی نشاندہی کرتی ہے جسے ایپی ڈی میولوجی میں "حدی اثر” (Threshold Effect) کہا جاتا ہے۔ یہ علمی اصول واضح کرتا ہے کہ شفا اور تحفظ کا یہ معجزہ محض نام نہاد، برائے نام، ثقافتی یا خاندانی مذہبی وابستگی (Nominal Identification) سے رونما نہیں ہوتا۔ اندھی تقلید یا محض رسمی شمولیت انسانی نفسیات پر وہ مطلوبہ عمیق اثرات مرتب نہیں کر سکتی۔ سائنسی ڈیٹا یہ ثابت کرتا ہے کہ ذہنی صحت کے یہ عظیم اثرات صرف انھی نفوس کو حاصل ہوتے ہیں جو ایک مخصوص "حد” (Threshold) عبور کرتے ہیں،یعنی مذہبی اجتماعات میں باقاعدہ شرکت، باطنی تدین (Intrinsic Religiosity)، اور عملی استقامت۔
اسی طرح فلسفہٴ سائنس اور اپسٹمولوجیکل باریک بینی (Epistemological Precision) کا تقاضا ہے کہ ہم تجربی سائنسی ڈیٹا کی نوعیت کو درست سمجھیں۔ یہ ڈیٹا ایک محکم اور طویل المدتی ایپی ڈی میولوجیکل تلازم،یعنی "حفاظتی و حمایتی عنصر” ( Protective Factor)کو ثابت کرتا ہے۔ اس سائنسی و فلسفیانہ تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی استقامت انسان کے اندر ایک ایسا قلعہ اور حفاظتی ڈھال تیار کرتی ہے جو زندگی کے مصائب، معاشی تناؤ اور صدمات کے خلاف قوتِ مدافعت (Resilience) بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
اس تاریخی اور سائنسی مطالعے کے حاصلات کو محض کتابی صفحات یا نظری بحثوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ یہ اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی طرزِ عمل میں ایک ہمہ گیر تبدیلی لائیں۔ وقت آ گیا ہے کہ طبی معالجین، نفسیات دانوں، طبی ماہرین اور مذہبی برادریوں کے مابین باہمی تعاون کے محکم پل استوار کیے جائیں۔ نفسیاتی طور پر ٹوٹے ہوئے، بکھرے ہوئے اور تنہائی کے مارے ہوئے انسانوں کو صرف کیمیائی ادویات کے سہارے زندہ رہنے پر مجبور کرنے کے بجائے، انہیں مساجد، عبادت گاہوں اور مذہبی برادریوں کا وہ گرم جوش، محبت بھرا اور اخلاقی و روحانی سہارا فراہم کیا جائے جس کے وہ اصل حقدار ہیں۔
یہ عظیم سائنسی تجزیہ ہم میں سے ہر اس شخص کے لیے ایک روشن بشارت اور نویدِ حیات ہے جو مادی دوڑ میں ہانپ چکا ہے۔ اگر آپ آج کی اس بے رحم دنیا میں یاسیت، گھٹن، تناؤ اور بے چینی کے صحرا میں سرگرداں ہیں اور زندگی کے معنی تلاش کرنے میں خود کو ناکام پا رہے ہیں، تو یاد رکھیے کہ آپ کے درد کی دوا اور آپ کی روح کی شفا کا حقیقی چشمہ آپ کی ذات سے دور نہیں ہے۔ مذہب محض کسی گزرے ہوئے عہد کی فرسودہ روایت، محض ایک تحریری متن یا کسی خشک فلسفے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی دل کی وہ حقیقی دھڑکن ہے جس کے بغیر سینہ ایک قبرستان کے مترادف ہے۔
جب انسان اپنے خود ساختہ مادی زعم اور ظاہری کثرت کے فریب سے بالاتر ہو کر، اپنے آنسوؤں کے ساتھ اپنے خالق و مالک کی طرف صدقِ دل سے رجوع کرتا ہے، جب وہ اپنے ماتھے کو بندگی کے خلوص کے ساتھ زمین پر ٹیک دیتا ہے، اور جب وہ باقاعدگی اور سچی تڑپ کے ساتھ اپنی روحانی زندگی کو بیدار کرتا ہے، تو دنیا کی کوئی آفت، کوئی معاشی تناؤ اور کوئی نفسیاتی بحران اس کے باطنی امن کو چھین نہیں سکتا۔ اس کے قلب کی سکینت ان آندھیوں کی زد سے باہر ہو جاتی ہے۔ یہی وہ فیصلہ کن لمحہ ہے کہ ہم اپنے ایمانی اور روحانی رشتوں کو ازسرنو استوار کریں، اپنے ٹوٹے ہوئے دلوں کو اس ذات کے دربار سے جوڑیں جو دلوں کے حال جانتی ہے، اور عقل، سائنس اور روح و ایمان کے اس حسین و یکجا امتزاج سے اپنے وجود کو ہمیشہ کے لیے منور و شادکام بنائیں۔ روشنی کا سفر آپ کے اندر سے شروع ہوتا ہے؛ بس ایک قدم اٹھائیے اور اپنی روح کو اس کے اصل مرکز کی طرف لوٹا دیجیے۔

تبصرے