وجودِ الٰہی کا سوال انسان کی فکری تاریخ کا سب سے بنیادی اور ہمہ گیر موضوع رہا ہے۔ انسان جب بھی اپنے اندر اور باہر پھیلی اس کائنات پر غور کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے: کیا یہ حیرت انگیز کائنات اپنے وجود اور نظام میں خود کفیل ہے، یا اس کے پس پردہ کسی باحیثیت خالق اور دانا مدبر کا ہاتھ ہے؟آیت اللہ سید محمد باقر سیستانی (دام ظلہ) اپنی کتابچے "أفي الله شكٌّ” میں اسی بنیادی سوال کے جواب پہ گفتگو کرتے ہیں۔ وہ وجودِ الٰہی کو ثابت کرنے کے لیے کلامی و فلسفیانہ دلائل خصوصاً دلیلِ نظم، دلیلِ تغیر اور دلیلِ حدوث، کو ایک نئے انداز میں پیش کرتے ہیں، اور اس بات کا بھی تجزیہ کرتے ہیں کہ اتنے واضح دلائل کے باوجود انسان اکثر اس حقیقت سے غافل کیوں رہ جاتا ہے۔
کائنات کا نظم:
کائنات کی ساخت پر سرسری نظر ڈالیں یا اس کی گہرائی کا سائنسی مطالعہ کریں، ہر جگہ ایک خاص نظم، توازن اور باہمی ربط نمایاں نظر آتا ہے۔ کیہانیات سے لے کر ایٹمی سطح تک، ہر چیز مخصوص قوانین اور ریاضیاتی باقاعدگی کے تحت کام کر رہی ہے۔یہاں عقل ایک سوال اٹھاتی ہےکہ کیا یہ حیران کن نظم محض ایک اتفاق ہے، یا اس کے پیچھے کسی باصلاحیت ڈیزائنر کی تدبیر کارفرما ہے؟ عام انسان جب کسی چھوٹی سے چھوٹی منظم چیز کو بھی دیکھتا ہے تو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کے بنانے والے کی طرف اس کا ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی بات کائنات پر بھی صادق آتی ہے۔ تاہم، نظم کو دیکھنا ایک تجرباتی مشاہدہ ہے، جبکہ اس نظم سے ایک ماورائے کائنات صانع تک پہنچنا ایک فکری و عقلی استدلال ہے۔
دلیلِ تغیر:کائنات کا ایک اور نمایاں پہلو اس کی تبدیلی اور تحول ہے۔ جانداروں کی پیدائش و مرگ سے لے کر مادے کی طبعی اور کیمیائی حالتوں کا بدلنا کہ کائنات میں کوئی شے جامد نہیں۔ فلسفے کا یہ جانا پہچانا اصول ہے کہ ہر متغیر شے اپنے بدلنے اور موجود ہونے میں کسی علت کی محتاج ہوتی ہے۔اگر ہم یہ کہیں کہ کائنات کی ہر شے دوسری شے پر منحصر ہے، تو محض اس باہمی انحصار کو بیان کر دینے سے بات پوری نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ رہتا ہے کہ اس پورے سلسلے کا قائم بالذات نقطۂ آغاز کیا ہے؟ دلیلِ تغیر اسی سوال کے ذریعے انسان کو ایک ایسی علتِ اولیٰ (First Cause) تک لے جاتی ہے جو خود تغیر اور احتیاج سے پاک ہو۔
دلیلِ حدوث:
کونیاتی بنیادوں پر ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ کائنات ازل سے چلی آ رہی ہے یا کسی وقت عدم سے وجود میں آئی؟ آغا باقر سیستانی کائنات کی تبدیلیوں اور جدید سائنس کے کونیاتی تصورات (مثلاً بگ بینگ) کو اس بات کا قرینہ بناتے ہیں کہ کائنات حادث ہے یعنی اس کی ایک ابتدا ہے۔اگر کائنات حادث ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اپنے وجود میں علت کی محتاج ہے۔ عقلی طور پر یہ بات بدیہی ہے کہ ہر پیدا ہونے والی چیز کے لیے کسی علت کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ہر علت خود کسی اور علت کی محتاج ہوتی چلی جائے تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا (تسلسل کا مغالطہ)۔ لہذا عقل کا تقاضا ہے کہ یہ سلسلہ ایک ایسی واجب الوجود ذات پر جا کر رکے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو۔یہاں ایک نقطہ بالکل واضح رہنا چاہیےکہ بگ بینگ کو خدا کا براہِ راست سائنسی ثبوت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ سائنس ہمیں مادی دنیا کی ابتدا اور اس کے ارتقاء کی طبعی تاریخ بتاتی ہے، جبکہ اس طبعی تاریخ کا مابعد الطبیعیاتی سبب ڈھونڈنا فلسفے اور کلام کا کام ہے۔
انسان خدا سے غافل کیوں ہوتا ہے؟
اگر کائنات کا ذرّہ ذرّہ خدا کے وجود کی گواہی دے رہا ہے، تو پھر انسان اس سچائی کو نظر انداز کیوں کر دیتا ہے؟ آغا باقر سیستانی اس کا بڑا سبب عادت اور مانوسیت کو قرار دیتے ہیں۔ انسان جن چیزوں کو روزانہ دیکھتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اس کی نگاہ میں عام اور معمولی بن جاتی ہیں۔ ایک بچّہ ہر نئی چیز پر حیرت کا اظہار کرتا اور پوچھتا ہے کہ یہ کہاں سے آئی، لیکن وہی بچہ بڑا ہو کر ان تمام عجائبات کا عادی ہو جاتا ہے۔کائنات کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ چونکہ ہم اسی میں پیدا ہوتے ہیں اور اسی کے اندر سانس لیتے ہیں، اس لیے اس کا محیر العقول نظم ہمارے لیے ایک عام سا معمول بن جاتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ انسان کی توجہ اس طرف سے ہٹ چکی ہے۔
قرآنِ مجید انسان کو کسی مشکل یا پیچیدہ فلسفیانہ نکتہ آفرینی کے بجائے براہِ راست مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ زمین، آسمان، چاند، سورج اور نباتات کی مثالیں دے کر انسان کو ان کے اندر موجود نظم اور مقصدیت پر غور کرنے کو کہتا ہے۔ آغا باقر سیستانی کے مطابق سورۃ الرعد وغیرہ میں یہی اسلوب اپنایا گیا ہے۔اس قرآنی منہج کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ مشاہدہ، غور و فکر، معانی کی دریافت اور عقلی نتیجہ۔ یعنی کائنات کے مظاہر کو صرف اس نظر سے نہ دیکھا جائے کہ "یہ کیسے کام کرتے ہیں”، بلکہ اس فکری سوال پر بھی غور کیا جائے کہ "یہ اس قدر محیر العقول نظم کے ساتھ کیوں موجود ہیں؟”
لہذا خدا کا اثبات صرف ایک مذہبی جذبہ یا دل کی تسکین کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائنات کی اصل حقیقت اور اس کے وجود کے سبب سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ علمی سوال ہے۔ دلیلِ نظم ہمیں کائنات کے ریاضیاتی توازن کی طرف متوجہ کرتی ہے، دلیلِ تغیر اس کی تبدیلیوں کی علت مانگتی ہے، اور دلیلِ حدوث اس کی شروعات کے سبب کی نشاندہی کرتی ہے۔ان تمام دلائل سے یہ بتانا مقصود نہیں کہ سائنس نے خدا کو ثابت کر دیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ سائنسی علوم کی انتہا انسان کو ایک ایسے فکری موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہےکہ کیا یہ محتاج اور متغیر کائنات خود اپنے وجود کا جواب ہے، یا اس کا قائم رہنا ایک ایسی بے نیاز اور کامل ذات کا مرہونِ منت ہے جو ہر عیب سے پاک ہے؟
ماخذ:: السیستانی، سید محمد باقر، أفي الله شكٌّ (سلسلة محاضرات فكرية – 2)، منشورات مدرسۃ نجف اشرف۔

تبصرے