تحریر: غلام رسول وَلایتی
اشکالِ اویس اقبال: اگر ہر چیز کا سبب ہونا ضروری ہے تو خدا کا بھی ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی چیز بغیر سبب کے ہو سکتی ہے تو پھر کائنات بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ دلیل باطل ہو جاتی ہے۔
جواب: دراصل یہ اشکال برٹرینڈ رسل کا اشکال ہے آپ کا اپنا ذاتی نہیں ہے۔رسل نے علتِ اولی (First Cause) کے استدلال پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہر چیز کے لیے علت درکار ہے، تو پھر خدا کی بھی علت ماننی پڑے گی لیکن اگر خدا کو بے علت مانا جائے تو یہ استدلال اسی طرح کائنات پر بھی لاگو ہو سکتا ہے یعنی کائنات کو بھی بے علت مانا جا سکتا ہے۔ برٹرنڈ رسل کا مشہور اقتباس ہے جو انہوں نے 1948 میں Frederick Copleston کے ساتھ ریڈیو بی بی سی کے مباحثے میں کہا تھا :
"I should say that the universe is just there, and that’s all."
یعنی کائنات ہے، اور بس ہے۔
خدا اور کائنات میں فرق
تو ہم رسل کے اشکال کا جواب دیتے ہیں لیکن انھی کے جملے کو یوں پلٹتے ہیں کہ بھائی اگر آپ کہہ سکتے ہیں کہ "کائنات ہے اور بس ہے”، تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ "خدا ہے اور بس ہے”۔ یہ قانون کائنات پر لاگو ہوسکتا ہے تو خدا پر تو بدرجہ اولی لاگو ہوسکتا ہے۔ اگر بالفرض محال دونوں کا وجود ہم مساوی مانیں تو بھی آپ کی دلیل الٹا آپ کے گلے پڑسکتی ہے۔رسل نے یہاں ایک چیز کا امکان ظاہر کیا ہے ، یعنی اُس نے بے سبب وجود کے امکان کو تسلیم کیا ۔ کوئی نہ کوئی ایسی ہستی ہو سکتی ہے جو خود بے سبب ہو۔ موحّد کا دعویٰ بھی تو یہی ہے۔ تو اب جھگڑا اِس بات پر نہیں ہے کہ بے سبب ہستی ہے یا نہیں۔ یہ تو آپ نےخود مان لیا۔ جھگڑا صرف اِس پر رہ گیا کہ وہ بے سبب ہستی کون ہے: خدا یا کائنات؟ اور یہاں معترض کے پاس دو ہی راستے ہیں، اور دونوں اُس کے خلاف جاتے ہیں:
پہلا راستہ: وہ کہے کہ کائنات بے سبب ہے۔ مگر بے سبب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اُس ہستی کا وجود اُس کی اپنی ذات کا لازمہ ہو، اُس میں تبدیلی محال ہو (کیونکہ تبدیلی کا مطلب ہے کسی حالت سے دوسری حالت میں جانا ، جو مخلوق کی نشانی ہے)، وہ مرکب نہ ہو (کیونکہ ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہے)، اُس کا حال ماضی سے مختلف نہ ہو، اور اُس کا عدم تصور بھی نہ ہو سکے۔ اب کائنات کو دیکھیے، ہر لمحہ بدلتی ہے، کھربوں کہکشاؤں اور ایٹموں سے مرکب ہے، اربوں سال پہلے کا اُس کا حال آج سے یکسر مختلف تھا، اور اُس کا نہ ہونا ہم بآسانی تصور کر سکتے ہیں۔ گویا معترض ایک ایسی چیز پر واجب الوجود کا تمغہ لگا رہا ہے جو ہر تعریف سے ممکن الوجود یا دوسرے الفاظ میں مخلوق ثابت ہو رہی ہے۔
دوسرا راستہ: وہ کہے ٹھیک ہے، کوئی واجب ہستی ہو سکتی ہے، مگر خدا ہی کیوں؟ تو جواب ہے: بحث ابھی صرف اِس مقام تک آئی ہے کہ ایک واجب ہستی لازماً موجود ہے۔ یہی توحید کا نصفِ اوّل ہے۔ اُس کی صفات، وحدت، علم اور قدرت کے دلائل اِس کے بعد آتے ہیں، مگر پہلا قدم تو معترض کی اپنی زبان سے ثابت ہو گیا۔پس معترض نےبے سبب وجود بھی مانا، اور پھر واجب کی خصوصیات ایسی چیز میں تلاش کیں جس میں وہ سرے سے موجود نہیں۔
ثانیاً:آپ کی دلیل کے دو رخ ہیں، اور دونوں میں مقدمے مختلف ہے:
پہلا رخ: دلیلِ حدوث
مقدمہ (۱): ہر وہ چیز جو "شروع” ہوئی (حادث ہے) اُسے سبب چاہیے۔
مقدمہ (۲): کائنات شروع ہوئی۔
نتیجہ: کائنات کو سبب چاہیے۔
یہاں ہر چیز نہیں کہا گیا، بلکہ ہر حادث چیز کہا گیا۔ خدا حادث نہیں، وہ ازلی ہے، لہٰذا مقدمہ اُس پر لاگو ہی نہیں ہوتا۔ یہ استثنیٰ من مانا نہیں، بلکہ خود مقدمے کی ساخت میں شامل ہے۔ جیسے ‘ہر طالب علم کو فیس دینی ہے’ میں استاد کو استثنیٰ کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ طالب علم ہی نہیں۔
دوسرا رخ : دلیلِ امکان:
مقدمہ (۱): ہر ممکن الوجود کو سبب چاہیے۔ (ممکن یعنی جس کے ہونے اور نہ ہونے کے لیے کوئی ذاتی سبب نہ ہو۔)
مقدمہ (۲): کائنات ممکن الوجود ہے۔
نتیجہ: کائنات کو سبب چاہیے، اور یہ سلسلہ لازماً کسی واجب الوجود پر ختم ہونا چاہیے۔
واجب الوجود وہ ہے جس کا وجود اُس کی اپنی ذات کا تقاضا ہو، جس کا عدم محال ہو۔ ایسی ہستی کو سبب کی حاجت نہیں، کیونکہ سبب تو اُس چیز کو چاہیے جس کا وجود ‘اُدھار’ کا ہو ، یعنی کسی بیرونی عامل سے ملا ہو۔پس جب کوئی پوچھتا ہے ‘خدا کو کس نے پیدا کیا؟’ تو یہ سوال بذاتِ خود غلط ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی پوچھے شمالی قطب کے شمال میں شمال کہاں ہے؟ یا دائرے کا کونا کہاں ہے؟ خدا کو سبب کا محتاج کہنا دراصل یہ کہنا ہے کہ دائرے کا کونا کہاں ہے۔اِس کے برعکس، کائنات کو واجب الوجود کہنا خارجی شواہد سے ٹکراتا ہے، کائنات لحظہ بہ لحظہ بدلتی ہے۔ واجب میں تبدیلی محال ہے، کیونکہ تبدیلی یعنی کسی حالت سے دوسری حالت میں جانا، ممکن الوجود ہونے کا ثبوت ہے۔ واجب بسیط (غیر مرکب) ہوتا ہے،کیونکہ مرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہے، اور محتاج واجب نہیں ہو سکتا ہے مگر کائنات کہکشاؤں، ایٹموں اورذرات کا مجموعہ ہے۔
ثالثاً: جدید ملحدانہ اشکالات کا رد
معترض کے پاس اکثر چند سائنسیتی خیالات ہوتی ہیں۔ ایک ایک کو دیکھیے:
(۱) اسٹیفن ہاکنگ:” کشش ثقل کی وجہ سے کائنات خود بخود عدم سے پیدا ہو گئی‘‘
یہ عام اور سادہ جوانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اصطلاح ٹھیک ہے لیکن عقلمندوں اور فلاسفہ کے لیے ایسا نہیں ہے۔ہاکنگ نے دراصل عدم کی تعریف بدل دی۔ اُس کا ‘عدم’ دراصل کوانٹم ویکیوم اور خلا کا موجود ہونا ہے۔ جو فلسفیانہ عدم نہیں بلکہ ایک متحرک، قوانین سے بھرپور واقعیت ہے۔ اگر کشش ثقل اور طبعی قوانین پہلے سے موجود تھے، تو کائنات’عدم سے’ نہیں بلکہ پہلے سے موجود کسی واقعیت یعنی مخلوق سے پیدا ہوئی اور وہ واقعیت خود سبب کی محتاج ہے۔
(۲) لارنس کراس:” کوانٹم ویکیوم سے ذرات بلا سبب پیدا ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں کائنات وجود میں آگئی‘‘
ممتاز فزسسٹ ڈیوڈ البرٹ نے کراوس کے بارے میں صاف لکھا کہ اُس کا ‘عدم’ دراصل بہت ‘کچھ’ ہے۔ وہاں توانائی کا میدان ہے اور قوانین ہیں، جس میں ورچوئل پارٹیکلز پیدا ہوتے ہیں۔ان قوانین اور توانائی کے میدان کو ہم فلسفہ میں شرطِ علتِ ناقصہ کہتے ہیں۔ جن توانائی نہ ہو اور قوانین نہ ہوں تو یہ ذرات کہاں سے وجود میں آئیں گے؟ جب تک شرائط پوری نہ ہوں کوئی چیز پیدا نہیں ہوسکتی۔ پس دوسرے الفاظ میں ان شرائط کو ہم جزئی اسباب بھی کہہ سکتے ہیں۔ پس اسباب کے بغیر کوئی بھی چیز پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔ رہی بات مقتضی یعنی علتِ ناقصہ کی جو ان شرائط کے علاوہ ہے، وہ مادی علت ہے۔ اس کا فی الحال معلوم نظر نہ آنا یا ہمارے فارمولوں میں ثابت نہ ہونا اس سے اس کا ‘نہ ہونا’ لازم نہیں آتا ہے۔ ‘نہ ہونا’ اور ‘معلوم نہ ہونا’ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
دوسری بات بالفرض محال اگر علتِ ناقصہ ہی موجود نہیں ہے، تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتا ہے کہ یہ میدان اور قوانین واجب الوجود ہیں، جبکہ یہ ممکن الوجود ہیں اور مخلوق ہیں۔ اور ممکن الوجود اپنے سےکچھ بھی نہیں ہے وہ واجب الوجود کی ہستی پر قائم ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ کوانٹم فزکس مادی علیّت کو رد نہیں کرتی اور نہ ہی علت ِ اولی کو رد کرتی ہے، بلکہ جزئی اسباب بھی موجود ہیں اور صرف مادی علت کا ایک جزء فی الحال ہم معلوم نہیں کرسکے ہیں۔
(۳) ملٹی ورس: "بے شمار کائناتیں ہیں، ہم اُن میں سے ایک ہیں۔"
یہ سوال کو حل نہیں کرتا، ایک قدم پیچھے دھکیلتا ہے کیونکہ پورے ملٹی ورس کو سبب چاہیے۔ مزید: Borde–Guth–Vilenkin theorem (۲۰۰۳) نے ریاضیاتی طور پر ثابت کیا کہ کوئی بھی پھیلنے والا نظام ایک کائنات ہو یا ملٹی ورس ماضی میں لامحدود نہیں ہو سکتا۔ اُس کا آغاز لازمی ہے۔ پس آغاز ہے تو حادث ہے اور مخلوق ہے، اور ہر آغا شدہ کے لیے ایک آغازگر لازما چاہیے۔
(۴)ہیوم: "ہم علیّت کو براہِ راست نہیں دیکھتے۔"
ہیوم ایک تجربیت پسند فلسفی تھے وہ عقل پسند فلسفی نہیں تھے، اس وجہ سے علیت کا عدم ادراک ایک درست بات ہے، وہ تو میں خود بھی یہی کہوں گا کہ اگر صرف اور صرف حسی تجربہ ہو اور عقل کا الگ کیا جائے تو یہاں علیت حواس کے ذریعے نظر نہیں آئے گی۔ کیونکہ علیت ایسی فلسفی مفہوم ہے۔ اب ہیوم صرف اور صرف حسی تجربی فلسفی ہیں تو علیت تو صاف ظاہر ہے آنکھوں سے نظر آنے والی چیزنہیں ہے۔مثلا لائٹر کے شعلے کو روئی کے قریب کرتے ہی روئی پہ آگ لگ جاتی ہے، تو ہیوم روئی پہ آگ لگنے کا سبب لائٹر کو نہیں سمجھتے، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے صرف تقارن دیکھا ہے، ادھر لائٹر ہے دوسری طرف قریب ہی روئی ہے اور اس پہ آگ لگ گئی ہے۔ یہ ہماری ذہنی عادت ہے، ہم روزِ اول سے ہی عادی ہیں تقارن دیکھنے کے۔
اوراگر فی الواقع علیّت ‘ذہنی عادت’ ہے، تو خود ہیوم کے دماغ میں یہ خیالات بھی ‘بلا سبب’ ابھرے ہوں گے یعنی بغیر کسی سبب کے انھوں نے یہ نظریہ دیا ہوگا۔ پس علیّت ایک مفروضہ نہیں بلکہ عقل کا بدیہی اصول ہے جس کے بغیر خود سائنس ممکن نہیں۔
رابعاً: معترض کے اعتراض کا نتیجہ:
اب دیکھیے کہ اگر معترض کی بات مان لی جائے تو کیا لازم آتا ہے:
پہلا لازمہ اسباب و مسببات کا مکمل خاتمہ: اگر واقعی ‘کچھ بھی’ بلا سبب ممکن ہے، تو سائنس جیسے بڑے علم کی بنیاد گر جاتی ہے۔ ڈاکٹر مرض کا سبب کیوں ڈھونڈے؟ جج قاتل کیوں پکڑے؟ سائنسدان تجربہ کیوں کرے؟ جو شخص خدا کو ٹالنے کے لیے علیّت کا انکار کرتا ہے، وہ اُس شاخ کو کاٹ رہا ہے جس پر خود بیٹھا ہے۔
دوسرا لازمہ بے سببی کا عمومی ہو جانا: اگر بے سبب وجود ممکن ہے، تو صرف کائنات ہی کیوں؟ پھر تو آپ کے سامنے ابھی ابھی ایک ہاتھی عدم سے نمودار ہو سکتا ہے، سر پر پتھر گر سکتا ہے، جیب میں سونا بھرسکتا ہے۔ مگر پوری انسانی تاریخ میں اِس کی ایک مثال نہیں۔ معترض ایک ایسے اصول کا سہارا لے رہا ہے جس کی مشاہداتی شہادت صفر ہے، اور صرف خدا سے بچنے کے لیے اُسے کھینچ تان کر لا رہا ہے، جو کہ ایک مغالطہ ہے۔
تیسرا لازمہ تسلسل کا استحالہ: اگر ہر ممکن اپنے وجود کے لیے کسی اور پر موقوف ہو، اور وہ "اور” بھی کسی تیسرے پر، اور یہ سلسلہ لامحدود چلے، تو نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی حلقہ اپنا وجود حاصل نہ کر سک، کیونکہ ہر ایک دوسرے کا محتاج اور کسی کے پاس ‘اپنا’ وجود نہیں۔مثلا اگر لامحدود لوگ ایک دوسرے سے رقم اُدھار مانگ رہے ہوں اور کسی کی جیب میں اپنا پیسہ نہ ہو، تو کسی کو بھی رقم نہ ملے، چاہے قطار اربوں کی ہو۔ لہٰذا زنجیر کو لازماً ایک ایسے سرے پر ختم ہونا ہے جو خود بے سبب ہو، جس کا وجود اپنی ذات سے ہو۔ یہی’واجب الوجود’ ہے۔
مزید ریاضیاتی تائید: Borde-Guth-Vilenkin theorem نے ثابت کیا کہ حقیقی لامتناہی (actual infinite) ماضی میں محال ہے۔ یعنی اسباب کی زنجیر واقعتاً لامحدود پیچھے نہیں جا سکتی۔
تبصرے