مشہور سائنسدان پیٹر میڈاوار (Peter Medawar) کی تصنیف "The Limits of Science"علمی و فلسفیانہ حلقوں، بالخصوص جدید الحاد اور منطقی ایجابیت (Logical Positivism) کے رد میں ایک انتہائی اہم اور نقدانہ پیش رفت کی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنف پیشے کے اعتبار سے نوبل انعام یافتہ ماہرِ مناعیات (Immunologist) ہیں اور سائنس سے گہرا علمی تعشق رکھتے ہیں۔ تاہم، وہ سائنٹزم یا سائنسی انحصاریت کے اس ادعا کی سختی سے نفی کرتے ہیں جو سائنس کو تمام انسانی سوالات، اخلاقی اقدار اور وجودی و معنوی خدشات کا واحد اور حتمی مرجع قرار دیتا ہے۔اس کتاب کا بنیادی فکری محور سائنس کی توضیحی صلاحیت کی حدود کو متعین کرنا اور یہ واضح کرنا ہے کہ سائنس کا دائرہ کار محض مادی دنیا کی مشاہداتی و تجربی تبیین تک محدود ہے۔ میڈاوار استدلال کرتے ہیں کہ اگرچہ سائنس انسانی تاریخ کا ایک کامیاب ترین علمی منہج ہے، لیکن اس کے اپنے اندر ذاتی و زاتی حدود پنہاں ہیں۔ سائنس کا مقصد کائنات کے صرف مادی طریقۂ کار (کیسے؟) کی توجیح پیش کرنا ہے، جبکہ اشیاء کی غایت، معنویت اور حتمی حقائق (کیوں؟) کی دریافت سائنس کے علمیاتی احاطے سے باہر ہے۔
جدید الحاد کا ایک بنیادی اپسٹمولوجیکل مغالطہ یہ ہے کہ وہ ہر اس حقیقت اور علم کا انکار کرتا ہے جو تجربی منہج (Empirical Methodology) کے دائرے میں نہ آ سکے۔ مصنف اس نارسائی کو ایک بلیغ تمثیل کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ سائنس کو ان تمام وجودی اور مابعدالطبیعیاتی سوالات کا جواب نہ دے سکنے پر ملامت کرنا یا اسے الحادی موقف کے جواز کے طور پر پیش کرنا، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی ریلوے انجن کو نہ اڑنے پر کوسا جائے یا کسی مشین سے اس کے ڈیزائن کے برعکس کام کی توقع رکھی جائے۔ جس طرح پرواز ریلوے انجن کی بنیادی ساخت اور وظیفے میں شامل نہیں، اسی طرح میٹافزکس، اخلاقیات، جمالیات اور وجودِ خدا جیسے بنیادین سوالات سائنس کی تجربی حدود سے ماورا ہیں۔
کتاب میں میڈاوار فرانسس بیکن کے اختصاری اسلوب اور منطقی استدلال کو اپنا کر ان تعبیرات کی علمی خام خیالی کو بے نقاب کرتے ہیں جو سائنس کو ایک کائناتی و مادی عقیدے کی شکل دیتے ہیں۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ سائنس کی حدود کو تسلیم کرنا محض سائنس کا دفاع نہیں، بلکہ اسے الحادی و نظریہ دانانہ توجیحات کی زد سے بچا کر اس کے اصل علمیاتی مقام پر قائم رکھنا ہے۔
کتاب کے بنیادی مباحث میں وجودِ خدا کے سوال، ماورائی توجیحات (Transcendent Explanations) کی عقلی ضرورت اور مابعدالطبیعیاتی علوم کے اپسٹمولوجیکل مقام پر معرکہ الآراء بحث کی گئی ہے۔ میڈاوار یہ واضح کرتے ہیں کہ سائنس ان حتمی سوالات (First and Last Questions) کے جواب دینے سے ذاتی طور پر قاصر ہے جن کا تعلق انسان کی روحانی اور وجودی جستجو سے ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں فلسفہ، کلام اور مذہب کی علم شناسانہ ضرورت خود سائنس کی حدود سے ثابت ہوتی ہے۔ یہ تصنیف جدید الحاد کے سائنسی ادعاؤں کا خود سائنس کے ایک جلیل القدر عالم کے قلم سے مکمل علمی و عقلی ابطال ہے۔(مترجم: ان شاء اللہ اس کتاب کے منتخب اور مفید مضامین کا ترجمہ پیش کیا جائے گا)
مقدمہ:
یہ ایک سنجیدہ مگر نہایت مختصر کتاب ہے۔ میں نے اسے مختصر رکھنے کا فیصلہ دو بنیادی وجوہات کی بنا پر کیا: پہلی بات یہ کہ میری عرصہ دراز سے یہ رائے رہی ہے کہ تقریباً تمام موضوعات خصوصاً فلسفے پر لکھی گئی اکثر کتب حد سے زیادہ طویل ہوتی ہیں۔ آکسفورڈ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے، میں کانٹ کے شارح اور فلسفی تھامس ڈیوآر (ہیری) ویلڈن کے تحقیر آمیز، طنزیہ اور سخت گیر فلسفیانہ اسباق سے مسحور، متحرک، خائف اور پرعزم ہوا ۔یہ وہ اسباق تھے جن کا اہتمام میرے رہنما اور استاد جے زیڈ یَنگ نے ایک ایسی فکری تربیت کے حصے کے طور پر کیا تھا جو صرف آکسفورڈ ہی فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ کی اہم تحریروں کی بے پناہ طوالت، بوجھل نثر اور بے لطف تدریس کی عمومی فضا نے مجھے فلسفے سے تقریباً مکمل طور پر متنفر ہی کر دیا تھا۔ اختصار کی طرف راغب کرنے والی دوسری وجہ یہ تھی کہ بعد کے سالوں میں جن تحریروں کو میں نے سب سے زیادہ پرجوش اور آنکھیں کھول دینے والا پایا، وہ نہایت مختصر تھیں،ان میں سے اکثر مقالوں سے زیادہ کچھ نہ تھیں۔
ان میں، میں سر فلپ سڈنی کی Apologie for Poetrie (1580)؛ ڈیکارٹ کی Discours de la Méthode (1637)؛ سیموئل ٹیلر کولرج کا A Preliminary Treatise on Method (1818) جو Encyclopaedia Metropolitana کی پہلی جلد تھی؛ اور تھامس لو پیکاک کی کتاب The Four Ages of Poetry (1820) کے جواب میں شیلے کی Defence of Poetry (1821) کو شامل کرتا ہوں،جو خود اس کے ایک پرانے دوست کی لکھی ہوئی نہایت مختصر کتاب تھی۔ ان میں، میں ایمانوئل کانٹ کی Introduction to Logic کا اضافہ کرتا ہوں جو حقیقت میں کوئی مستقل کتاب نہیں ہے، یا کم از کم کانٹ کی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہے؛ بلکہ یہ صرف وہ عنوان ہے جو ٹی کے ایبٹ نے کانٹ کے منطق پر دیے گئے متعدد خطبات کے اپنے ایڈیشن (1885) کو دیا تھا، جسے کانٹ کی وفات کے بعد اس کے شاگرد جیشے نے مرتب کیا تھا (Rosenkranz Sämmtliche Werke کی جلد 3)۔
ان تحریروں میں، میں بلا جھجھک اے جے ایئر کی Language, Truth, and Logic (1936) کا بھی اضافہ کرتا ہوں؛ اور نہ ہی مجھے پیشہ ورانہ نوعیت کی ان دو نہایت مختصر تحریروں کو بھولنا چاہیے جنہوں نے میرے علاوہ کئی دیگر ماہرینِ امیونولوجی کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا: کارل لینڈ سٹائنر کی The Specificity of Serological Reactions (1936) اور ایف ایم برنیٹ اور فرینک فینر کی The Production of Antibodies (1949)۔ یہ ایسی تحریریں ہیں جن کے اختصار کی کبھی کسی نے شکایت نہیں کی، اور ان کے اسی اختصار نے مجھے مختصر رہنے کے اپنے فیصلے کو درست ثابت کرنے کا جواز فراہم کیا۔
اس کتاب کو تشکیل دینے والے تینوں مقالے تین مختلف اسالیب میں لکھے گئے ہیں۔ مقالے "An Essay on Scians” کے لیے میں نے اس حکیمانہ و اختصاری اسلوب کی پیروی کی ہے جسے فرانسس بیکن اور ولیم وہویل نے اپنی متعدد تحریروں میں اختیار کیا تھا۔ یہ بیان و اظہار کا وہ طریقہ ہے جو قارئین کے مفادات کو سب سے زیادہ مدنظر رکھتا ہے، کیونکہ پیراگراف کے عنوانات قاری کو اس ناگواری و الجھن سے بڑی حد تک محفوظ رکھتے ہیں کہ وہ وہ کچھ پڑھے جسے وہ جاننا نہیں چاہتا، یا ایسی بحثوں کا تعاقب کرے جن کے نتائج سے اسے کوئی دلچپسی نہیں ہے۔
دوسرا مقالہ "Can Scientific Discovery Be Premeditated?” ایک خطبے سے شروع ہوا تھا جو 5 جون 1980 کو "امریکن فلاسوفیکل سوسائٹی آف فلاڈیلفیا” اور "رائل سوسائٹی آف لنڈن” کے ایک مشترکہ اجلاس میں دیا گیا تھا، اور میں ان اداروں کا ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے اسے یہاں شائع کرنے کی اجازت دی۔
اصل اور بنیادی مقالہ "The Limits of Science” ایک مختصر کتاب کے فارمیٹ میں لکھا گیا ہے۔ میں ایک پیشہ ور سائنس دان اور سائنس کا دلدادہ ہوں؛ اس تیسرے مقالے کے مقصد کے بارے میں اس سے بڑی کوئی غلط فہمی نہیں ہو سکتی کہ اسے کسی بھی لحاظ سے سائنس مخالف جذبے پر مبنی سمجھا جائے۔ "The Limits of Science" کا مقصد صرف اور صرف سائنس کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دینا ہے کہ سائنس ان حتمی و بنیادی سوالات کے جواب دینے سے بالکل قاصر ہے جن کا میں اس تحریر میں بار بار حوالہ دیتا ہوں۔
یہ ایسے سوالات ہیں جن کے بارے میں میں نے واضح کیا ہے کہ وہ سائنس کی توضیحی صلاحیت سے باہر ہیں۔ لیکن اس نارسائی کے باوجود، سائنس ایک عظیم الشان اور شاندار کارنامہ ہے،میرا استدلال ہے (ص 65) کہ یہ وہ سب سے کامیاب ترین عمل ہے جس میں انسان کبھی مشغول ہوا ہے۔ سائنس کو ان تمام سوالات کا جواب نہ دے سکنے پر ملامت کرنا جو ہم اس کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی ریلوے انجن کو نہ اڑنے پر ملامت کی جائے یا عموماً کسی ایسے کام کو نہ کرنے پر کوسا جائے جس کے لیے اسے بنایا ہی نہیں گیا تھا۔ میں نے متعدد مقامات پر سائنس کی حدود پر خطبات دیے ہیں اور مجھے دوستانہ تنقیدیں موصول ہوئی ہیں، جن کا میں نے نوٹس لیا ہے اور متن میں وہاں شامل کیا ہے جہاں وہ سنجیدہ توجہ کی مستحق تھیں۔
ایک بڑا حصہ "معلومات کی بقا کے قانون" (Law of Conservation of Information) (صص 78–82) کے گرد گھومتا ہے۔یہ عنوان مجھے تیس یا چالیس سال پہلے ڈاکٹر ایچ اے رولینڈز کے لکھے گئے ایک مقالے سے ملا تھا جس کا عنوان "علم کی بقا کا قانون" (The Law of Conservation of Knowledge) تھا۔ میں اس مقالے کو دوبارہ تلاش کرنے اور پڑھنے کی اپنی تمام کوششوں میں مکمل طور پر ناکام رہا ہوں۔
سترہویں صدی کی سائنس کے لیے "ہرکولیس کے ستونوں" (Pillars of Hercules) کی اہمیت کے بارے میں "The Limits of Science" میں میرا بیان پروفیسر مارجوری ہوپ نیکولسن (جو اس وقت سمتھ کالج میں تھیں) کے بیان پر مبنی تھا۔ میں پروفیسر سر ارنسٹ گومبرچ کا نہایت ممنون ہوں کہ انہوں نے میری توجہ مزید جدید تحقیق کی طرف مبذول کرائی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جتنا انہوں نے ظاہر کیا تھا۔ واقعی، سر ارنسٹ نے ثقافتی تاریخ کے اپنے وسیع علم کے ذخیرے سے مستفید کرتے ہوئے بارہا میری مدد کی ہے۔ مجھے پروفیسر سر کارل پوپر کی تنقید سے بھی فائدہ ہوا ہے، جسے میں نے تمام تر قبول کیا ہے، اور کانٹ کے بعض تعبیراتی استعمالات کے بارے میں ان کی تصحیحات سے بھی جنہیں میں صحیح طور پر سمجھ نہیں سکا تھا۔
میں اس موقع پر اپنی اہلیہ اور شریکِ مصنف، جین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے پورے متن میں بے شمار اسلوبیاتی بہتری کی تجاویز پیش کیں، اور اپنی سیکرٹری اور اسسٹنٹ مسز جوئے ہیز کا بھی جو اس کتاب کو پریس کے لیے تیار کرنے پر قابلِ ممنونیت ہیں۔

تبصرے