مصطفیٰ عزیزی علویجہ؛ ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبۂ فلسفہ، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی مترجم: غلام رسول وَلایتی
الحاد اور بے دینی کا فکری رجحان، معصومین علیہم السلام کے ادوار میں سرگرمِ عمل گمراہ کن تحریکوں میں سے ایک تھا، یہاں تک کہ اس دور میں الحادی گروہ کی تشکیل کو اسی فکری لہر کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ معصومین علیہم السلام کے زمانے میں الحاد کی بنیاد ‘حسیت پسندی’، ‘ماورائے مادہ اور مابعد الطبیعیاتی ابعاد کی نفی’، اور ‘مغالطہ آمیز عقلانیت پر مبنی شبہات’ پر استوار تھی۔اہل بیت علیہم السلام نے مخصوص طریقوں سے الحاد کا مقابلہ کیا۔ مجموعی طور پر ان کے طریقۂ کار سے تین اسالیب یعنی ‘اخلاقی’، ‘صوری’ اور ‘محتوائی’ اخذ کیے جا سکتے ہیں۔صوری اسلوب کا سب سے نمایاں طریقہ سائل کے اندرونی داعیے کو بیدار کرنا، دفعِ ضررِ محتمل (ممکنہ نقصان سے بچنے کی عقلی دلیل)، استبعاد (امرِ بعید سمجھنے) کی نفی، اور دستیاب (مشاہداتی) امور کا حوالہ دینا ہے۔اسی طرح اہل بیت علیہم السلام کے ارشادات میں الحاد کا مقابلہ کرنے کے محتوائی اسالیب میں سب سے اہم طریقوں کے طور پر ‘معادلۂ معکوس’ (الٹ مساوات کا طریقہ)، ‘ذاتِ انسانی سے استشہاد (یا اپنے نفس کی طرف رجوع)’، ‘برہانِ چند سطحی’، ‘اصلِ علیت پر تاکید’ اور ‘علومِ تجربی و علمِ طب سے استفادہ’ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق میں اہل بیت علیہم السلام کے عہد میں الحاد و زندقہ کی مختلف اقسام کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے سرچشموں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر اس فکری لہر کے تین بنیادی مآخذ بتائے جا سکتے ہیں: ‘فتوحاتِ اسلامی’، ‘تحریکِ ترجمہ’، اور ‘عیسائیت و یہودیت کی تعلیمات’۔ اس مقالے میں نقلی طریقۂ کار کے ذریعے الحاد کے ساتھ نمٹنے کے منطقی اسلوب کا ایک نیا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔”
۶. الحاد کے دھارے کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام کے رویے کا اسلوب
۔۔۔مجموعی طور پر الحاد کے ساتھ مواجہت اور اس کی تنقید و چھان بین میں اہل بیت علیہم السلام کے اسلوب اور منہج کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
اخلاقی اسالیب (طریقے)؛شکلی و صوری (ظاہری و ساختاری) اسالیب؛محتوائی (مضمون سے مربوط) اسالیب۔
۱.۶. الحاد کے ساتھ مواجہت کے اخلاقی اسالیب
۱.۱.۶. ملحدین کے سوالات کے لیے معصوم پیشواؤں علیہم السلام کی فراخدلی اور کشادہ دلی:ابوشاکر دیصانی، امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور نہایت ادب کے ساتھ اپنا سوال پیش کرنے کی اجازت مانگتا ہے۔ حضرت علیہ السلام فرماتے ہیں: «سَلْ عَمَّا بَدَا لَکَ» (جو تمہاری مرضی ہو، پوچھو)۔ (صدوق، ۱۳۹۸ق: ۲۹۰)۔بلاشبہ ملحدین کو سوال کا موقع دینا، ان کے سوالات کا استقبال کرنا اور اس سے بھی بڑھ کر بنیادی سوالات اٹھانے پر ان کی حوصلہ افزائی کرنا،ایک طرف کشادہ دلی کے ساتھ آدابِ تنقید کو ظاہر کرتا ہے، اور دوسری طرف الحاد کی بیماری کے علاج کا درست و منطقی طریقہ کار بتاتا ہے۔اسی طرح ابن ابی العوجاء، امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آتا ہے اور عرض کرتا ہے: "جس طرح میں کھانسی روکنے پر قادر نہیں ہوں، اسی طرح ان شبہات اور سوالات کو بھی اپنے ذہن میں آنے سے نہیں روک سکتا جو میرے اندر ابھرتے ہیں، لہٰذا میں یہ آپ کے سامنے بیان کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں”۔ حضرت علیہ السلام نے فرمایا: «تَکَلَّمْ بِمَا شِئْتَ» (جو چاہتے ہو، بیان کرو)۔ (صدوق، ۱۳۹۸ق: ۲۵۳)معصوم پیشواؤں علیہم السلام کی بارگاہ میں ملحدین کو ملنے والا نفسیاتی و روحی امن کا احساس، نیز امام علیہ السلام کی جانب سے اخلاقی آدابِ نقد کا پاس رکھنا اور اطمینان دلانا اس بات کا باعث بنتا تھا کہ ملحدین آزادانہ طور پر اپنے سوالات اور شبہات پیش کرنے کا اشتیاق رکھیں۔
۲.۱.۶. ملحدین کو عقلی و فکری طور پر کامل مطمئن کرنے کی کوشش:الحاد کے دل و ذہن سے شبہات کو دور کرنے اور انہیں عقلی طور پر کامل اطمینان بخشنے میں اہل بیت علیہم السلام کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ مثال کے طور پر، امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا ایک ملحد کے ساتھ مناظرہ قابلِ ذکر ہے، جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا: "میں تمہارے لیے مزید وضاحت کرتا ہوں تاکہ تمہارا دل اور تمہارے بعد آنے والوں کا دل،ان امور کے بارے میں جن میں تم نے شک کیا ہے،شک سے آزاد ہو کر سکون پا جائے اور تم مکمل طور پر مطمئن ہو جاؤ۔”(طبرسی، ۱۴۰۳ق، ج۱: ۲۵۱)
۲.۶. الحاد کا مقابلہ کرنے کے صوری (ظاہری و ساختاری) اسالیب
۱.۲.۶. سائل کی اندرونی جستجو کو بیدار کرنے کا اسلوب:اس اسلوب میں، امام علیہ السلام مقدمات کو ترتیب دینے اور پروردگار کی مخلوقات کی دقیق وضاحت کرنے کے بعد، جب نتیجہ اخذ کرنے کا وقت آتا تھا، تو خود تیار شدہ جواب سائل کے حوالے نہیں کرتے تھے؛ بلکہ ایک ایسا بنیادی سوال قائم کرتے تھے جس سے سائل کی توحید پرستی اور خدا جوئی کی اندرونی فطرت بیدار ہو جائے۔مثال کے طور پر، امام صادق علیہ السلام نے عبداللہ دیصانی کے لیے انڈے کی مثال پیش کی جو اس کے بچے کے ہاتھ میں تھا اور وہ اس سے کھیل رہا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: "یہ انڈا ایک موٹی جلد رکھتا ہے، اس کے نیچے ایک باریک جھلی ہے، اس کے اندر زردی کا بہتا ہوا سنہری سیال ہے اور اس کے گرد سفیدی کا چاندی جیسا سیال ہے، جن میں سے کوئی بھی دوسرے کے ساتھ مکس نہیں ہوتا۔ پھر اس کے اندر سے خوبصورت اور رنگ برنگا طاؤس باہر نکلتا ہے۔ کیا تو دیکھتا ہے کہ اس کے لیے کوئی مدبر اور سنوارنے والا صانع (پروردگار) ہے؟” دیصانی نے (خاموش ہو کر) اپنا سر جھکا لیا۔ (کلینی، ۱۴۰۷ق، ج۱: ۸۰)قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ دیصانی کے شک کا آغاز ایک انڈے ہی سے ہوا تھا، اور امام صادق علیہ السلام نے بھی اسی انڈے کی خلقت اور عظمت کے ذریعے اسے جواب دیا؛ یہ حکمت بتاتی ہے کہ امام علیہ السلام نے بالکل اسی نقطے سے شروعات کی جہاں سے ملحد خدا کا انکار کرنا چاہتا تھا، اور اسی نقطے سے خدا کے وجود اور اس کی ربوبیت کو ثابت فرما دیا۔
۲.۲.۶. الحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے "دفعِ ضررِ محتمل” (ممکنہ نقصان سے بچاؤ) کے قاعدے کا استعمال: اہلِ بیت علیہم السلام نے الحاد کے رد میں جن استدلالی طریقوں سے فائدہ اٹھایا ہے، ان میں سے ایک "دفعِ ضررِ محتمل” (ممکنہ نقصان کو دور کرنے) کا طریقہ ہے۔ ایک ملحد شخص، افراد کے ایک گروہ کے ساتھ امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور آپ سے گفتگو کا آغاز کرتا ہے۔ امام علیہ السلام اس سے فرماتے ہیں: "اے شخص! اگر تمہاری سوچ اور عقیدہ (کہ خدا اور مدبرِ کائنات کا وجود نہیں ہے) درست ہو، تو یقیناً ہم اور تم برابر ہیں (یعنی مرنے کے بعد ہم میں سے کسی کا نقصان نہیں ہوگا)۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ اس معنی میں کہ ہم نے جو نماز، روزہ اور زکٰوۃ ادا کی ہے، اس سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے؛ لیکن اگر ہمارا عقیدہ درست اور حقیقت کے مطابق ہوا (کہ خدا موجود ہے)جیسا کہ حقیقت یہی ہے،تو تم نقصان اٹھاؤ گے اور ہم نجات پا جائیں گے۔” (صدوق، ۱۳۹۸ق: ۲۵۰)اس استدلال میں، امامِ ہشتم علیہ السلام دو احتمالات کو پیش فرماتے ہیں:
ا) وہ گروہ جو مبدأ (خدا) اور معاد (آخرت) کا منکر ہے اور اخروی انجام پر ایمان نہیں رکھتا، لہٰذا اس بنیاد پر اس دنیا میں آزادانہ اور ہوس پرستانہ زندگی بسر کرتا ہے۔
ب) وہ گروہ جو خدا اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے اور اسی بنیاد پر اس دنیا میں پرہیزگارانہ زندگی گزارتا ہے اور شرعی احکام کا پابند ہے۔
اگر ہم ان دونوں گروہوں کا ایک دوسرے سے موازنہ کریں اور دیکھیں کہ ہر گروہ نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے، تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ایک گروہ نے چند روزہ عارضی لذت اور خوشی حاصل کی اور اس کے بدلے ابدی سعادت اور ہمیشہ کی آرام دہ زندگی کو کھو دیا؛ جبکہ دوسرے گروہ نے اس کے برعکس، عبادات کی کچھ نسبتی مشقت برداشت کی اور اس کے بدلے دنیوی جائز لذتوں اور خوشیوں سے مستفید ہوتے ہوئے، آرام دہ اور ابدی سعادت بخش زندگی حاصل کر لی۔اگر عقلِ سلیم اور فطرتِ پاک کو ان دو اختیارات اور احتمالات کے درمیان جج بنایا جائے، تو وہ کس کے حق میں منطقی اور منصفانہ فیصلہ دے گی؟ بلا شک و شبہ عقلِ سلیم یہی حکم کرے گی کہ جس گروہ نے اس عارضی دنیا میں اپنی حیوانی خواہشات کو محدود کیا، لیکن ساتھ ہی ساتھ جائز نعمتوں اور خوشیوں سے فائدہ بھی اٹھایا تاکہ وہ دائمی سعادت اور ابدی خوشی حاصل کر سکے، اس نے بالکل درست اور عاقلانہ کام کیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مغرب کی دنیا میں پاسکل (Pascal) بھی ان فلاسفہ میں سے تھا جنہوں نے اس طریقہ کار (دفعِ ضررِ محتمل) سے فائدہ اٹھایا۔ اس کا یہ نظریہ فلسفے میں "پاسکل کی شرط بندی” (Pascal’s Wager) کے نام سے مشہور ہے۔ (کاپلسٹن، ۱۳۸۶، ج۴: ۲۱۶-۲۱۴)
۔۔جاری ہے

تبصرے