کائنات کہاں سے آئی؟ زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ کیا خدا واقعی موجود ہے، یا کائنات خود بخود وجود میں آ گئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہزاروں برس سے فلسفیوں، متکلمین اور سائنس دانوں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ آج بھی یہ انسانی فکر کے بنیادی ترین سوالات ہیں۔ جدید الحادی لٹریچر میں عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سائنس نے خدا کے تصور کو غیر ضروری بنا دیا ہے، اور اب کائنات کی تشریح کے لیے کسی خالق کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اسی فکر کے نمایاں نمائندوں میں مشہور نظری طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ بھی تھے۔ وہ واضح طور پر کہتے تھے:
"سائنس کو سمجھنے سے پہلے، یہ یقین کرنا ایک فطری بات تھی کہ خدا نے کائنات کو تخلیق کیا ہے، لیکن اب سائنسی علوم زیادہ قائل کرنے والی وضاحت پیش کرتے ہیں۔ میرے اس جملے کا کہ ‘ہم خدا کے ذہن کو جان لیں گے’ کا مطلب یہ تھا کہ ہم وہ سب کچھ جان لیں گے جو خدا جانتا، اگر کوئی خدا ہوتا۔ لیکن کوئی خدا نہیں ہے۔ میں ایک ملحد (Atheist) ہوں۔”
ہاکنگ کا یہ دعویٰ دنیا بھر میں بارہا نقل کیا گیا۔ بہت سے سائنس دان اس سے متفق نہیں ہیں اور اسے ایک غیر سائنسی بیانیہ سمجھتے تھے اور اب مزید یہ نظریہ زوال کی طرف جاچکا ہے۔ لیکن یہاں میں ایک دلچسپ بات کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ امریکہ میں ایک بچے نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ایک غیر معمولی بچہ امریکہ کا ایک گیارہ سالہ لڑکا، ولیم میلیس (William Maillis)، اچانک میڈیا کی خبروں کا حصہ بن گیا۔ وجہ صرف یہ نہیں کہ وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ غیر معمولی ذہانت کا حامل ہے اور اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات جوآن روتھسیٹز (Joanne Ruthsatz) نے اسے نابغۂ اطفال (Child Prodigy) قرار دیا۔ پانچ برس کی عمر میں اس نے جیومیٹری کی دو سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل کتاب ایک ہی رات میں پڑھ ڈالی اور اس کے مسائل حل کرنے لگا۔ صرف نو سال کی عمر میں اس نے ہائی اسکول مکمل کر لیا، اور کم عمری ہی میں اعلیٰ سطح کی طبیعیات اور ریاضی میں دلچسپی لینے لگا۔
اس کا خواب بھی عام بچوں سے مختلف ہے اور وہ کہتا ہے:
"میں ایک ایسٹرو فزسسٹ بننا چاہتا ہوں تاکہ سائنسی دنیا کے سامنے یہ ثابت کر سکوں کہ خدا واقعی موجود ہے۔ "
ولیم میلیس نے اسٹیفن ہاکنگ کے نظریے کو پڑھا ہے اور ان کے مطابق:
‘‘ہم جانتے ہیں کہ کائنات کی ایک عمر ہے، ہے نا؟ 13.8 ارب سال۔ یعنی 13.8 ارب سال پہلے، پوری کائنات ایک نقطۂ اکائیت (Singularity) میں سمٹی ہوئی تھی، جو کہ ایک ‘کوارک’ (Quark) سے بھی چھوٹا ذرہ تھا۔‘‘
وہ مزید کہتے ہیں:
‘‘تاہم، اگر کششِ ثقل (Gravity) ہمیشہ سے سرگرمِ عمل ہےمثلا اگر آپ اس عمارت سے نیچے کودیں، تو آپ 15 سیکنڈ بعد نہیں بلکہ فوراً نیچے گریں گے،تو اگر کششِ ثقل ہمیشہ سے کام کر رہی تھی اور وہ نقطۂ اکائیت (Singularity) بھی ہمیشہ سے وہاں موجود تھا […] تو پھر کائنات کی کوئی مخصوص عمر نہیں ہونی چاہیے تھی، بلکہ اسے ازل سے ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے، یہ صرف 13.8 ارب سال پرانی ہے۔‘‘
پھر وہ کہتے ہیں:
‘‘اور کوئی بھی چیز ’عدم‘ (کچھ نہیں) سے وجود میں نہیں آسکتی، کیونکہ خود کو وجود میں لانے کے لیے اس چیز کا پہلے سے موجود ہونا ضروری ہوگا، جو کہ منطقی طور پر ناممکن ہے۔ اس لیے، یقیناً کسی دوسری ہستی نے اس نقطۂ اکائیت (Singularity) کو تخلیق کیا ہے، اور اس دوسری ہستی کو ہم ‘خدا’ کے روپ میں دیکھتے ہیں۔‘‘
یعنی عدم سے کوئی چیز خود بخود وجود میں نہیں آ سکتی، کیونکہ اگر کوئی چیز خود کو وجود دے تو اس کا پہلے سے موجود ہونا لازم آئے گا، اور یہ منطقی تناقض ہے۔ لہٰذا کائنات کے وجود کے لیے اس سے ماورا ایک علت کا ہونا ضروری ہے۔انھوں جس اصول کی طرف اشارہ کیا، اسلامی علمِ کلام میں اس اصول کو اصلِ علیت کہا جاتا ہے۔ متکلمین نے اسی بنیاد پر برہانِ حدوث قائم کیا، جبکہ اسلامی فلاسفہ، خصوصاً ابن سینا، نے اس سے بھی زیادہ گہرا استدلال پیش کرتے ہوئے برہانِ امکان و وجوب مرتب کیا۔ بعد میں ملا صدرا نے اصالتِ وجود، تشکیکِ وجود اور فقرِ وجودیِ ممکنات کی روشنی میں اس برہان کو مزید استحکام بخشا۔اور اسلامی فلسفے کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کائنات کا زمانی آغاز کب ہوا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کائنات اپنی ذات میں کیا ہے؟اگر کائنات ممکن الوجود ہے تو وہ ہر آن اپنے وجود میں محتاج ہے، خواہ اس کا زمانی آغاز ثابت ہو یا نہ ہو۔ ممکن الوجود اپنے وجود کا سرچشمہ خود نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ اپنی ذات میں وجود اور عدم دونوں کے اعتبار سے یکساں النسبہ ہے۔ اس لیے اسے ایسی علت کی ضرورت ہے جو خود کسی علت کی محتاج نہ ہو، بلکہ واجب الوجود بالذات، ازلی، ابدی، قائم بالذات، غیر مادی، قادر اور مختار ہو۔
اصل مسئلہ سائنس کا نہیں، مابعد الطبیعات کا ہےیہاں بہت سے لوگ ایک بنیادی خلطِ مبحث کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کا وجود طبیعیات یا فلکیات کا سوال ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔سائنس زیادہ سے زیادہ یہ بتا سکتی ہے کہ کائنات کے ارتقا کے مراحل کیا تھے، ابتدائی طبیعی حالات کیسے تھے، یا طبیعی قوانین کس طرح عمل کرتے ہیں۔ لیکن یہ سوال کہ:
طبیعی قوانین خود کیوں موجود ہیں؟عدم کے بجائے وجود کیوں ہے؟ممکن الوجود کو وجود کس نے عطا کیا؟وجود کا آخری سرچشمہ کیا ہے؟یہ سب مابعد الطبیعات (Metaphysics) اور علمِ کلام کے سوالات ہیں، نہ کہ تجربہ گاہ کے۔اسی لیے ولیم میلیس کی مثال اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہے کہ اس کی غیر معمولی ذہانت نے ایک ایسی حقیقت کو بدیہی طور پر محسوس کیا جسے اسلامی متکلمین صدیوں پہلے «أظہر من الشمس» قرار دے چکے ہیں کہ عدم کبھی وجود کا خالق نہیں بن سکتا، اور ہر ممکن الوجود اپنے وجود میں واجب الوجود کے افاضۂ وجود کا محتاج ہے۔یوں ایک گیارہ سالہ ذہن نے اس بدیہی حقیقت کی طرف اشارہ کیا جسے اسلامی فلسفہ صدیوں سے عقلِ سلیم کی آواز قرار دیتا آیا ہے۔1

تبصرے