
ڈاکٹرحمید رضا شاکرین، ڈپارٹمنٹ آف لوجِک آف انڈرسٹینڈنگ رلیجن مترجم: غلام رسول وَلایتی ایسوسی ایٹ ریسرچ، ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن جامعہ الکوثر اسلام آباد
مذہب کے وجود میں آنے کی وجوہات، اس کی پائیداری، ہمہ گیری، جاذبیت، نفوذ اور انسانی زندگی پر اس کے حیرت انگیز اثرات کو سمجھنا جدید دور میں فلسفۂ مذہب (Philosophy of Religion) کے اہم ترین مسائل میں سے ہے۔ اس میدان میں کچھ جدید طبیعی و مادّی توجیحات ڈارون کے نظریۂ ارتقاء پر مبنی ہیں۔ ان نظریہ سازیوں میں سے ایک ریچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins) کا مِیمِیات (Memetic) اور "ذہنی وائرس” (Mind Virus) کا تصور ہے، جو اس سلسلے کا سب سے زیادہ متنازع نقطۂ نظر شمار ہوتا ہے۔ یہ نظریہ نہ صرف مادّیت پسندی (Naturalism) اور مذہب کی غیر واقعیت کو فروغ دیتا ہے، بلکہ شدید انداز میں مذہب سے بیزاری اور نفرت کو ابھارنے کا باعث بھی بنتا ہے۔اس مسئلے کی اہمیت اور انسانی زندگی کے بنیادی ادراکی، جذباتی اور کرداری (Behavioral) ارکان میں مذہب کے بنیادی کردار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اس مقالے کا مقصد مذکورہ نظریے کا علمی جائزہ لینا اور اسے تنقیدی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔۔۔
تحقیق کا حاصل و نتیجہ: اختصار کے ساتھ اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ اس میدان میں ڈاکنز کا نقطۂ نظر اور بیان کا طریقہ کار طرح طرح کی سائنسی و منطقی غلطیوں اور مغالطوں سے آلودہ ہے، اور اسے نہ تو تجربی سائنس کی کوئی واقعی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی انسانی عقل و منطق کے دیگر معتبر ذرائع سے اس کی کوئی تصدیق ہوتی ہے۔
مقدمہ اور بیانِ مسئلہ
مذہب کی گہری اور حیرت انگیز جاذبیت نیز انسانی زندگی میں اس کا قدامت پر مبنی اور ہمہ گیر کردار، ہمیشہ سے مفکروں اور دانشوروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اسی کے نتیجے میں مذہب کی حقیقت، اس کی کارکردگی، اس کا آغاز و ارتقاء، اس کے پھیلاؤ اور بقا کا راز، اور اس کے تنوع جیسے بنیادی موضوعات پر وسیع فکری بحثیں سامنے آئی ہیں۔ اس میدان میں ابھرنے والے جدید ترین رجحانات میں سے ایک "ارتقائی علمِ شناختِ مذہب” (ECSR) ہے، جو بنیادی طور پر مظاہرِ فطرت پر مبنی (نیچرلسٹک) نقطہ نظر کے ساتھ ان مباحث کا احاطہ کرتا ہے۔تاہم، ارتقاء پسند فطرت پرست (نیچرلسٹ) بھی دیگر مکاتبِ فکر کی طرح ان مسائل پر ایک جیسا موقف نہیں رکھتے؛ خصوصاً مذہب کی پذیرائی یا مخالفت کے معاملے میں ان کے در میان نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس اثناء میں جدید الحاد (New Atheism) کے پیروکاروں نے مذہب کے خلاف ایک جارحانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے اس موقف کو سائنسی جواز فراہم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اس میدان کی معروف اور متحرک شخصیات میں سے ایک برطانوی ارتقائی ماہرِ حیاتیات ریچرڈ ڈاکنز (پیدائش: ۱۹۴۱ء) ہیں، جنہوں نے "میم” (Meme) کا تصور پیش کیا اور پھر مذہب کو ایک "ذہنی وائرس” (Mind Virus) اور ارتقائی عمل کی ایک ضمنی و ثانوی پیداوار قرار دے کر اس بحث کو ایک نیا موڑ دیا۔واضح رہے کہ یہ نقطہ نظر مذہب اور دین داری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے، اور اس کا منفی اثر مختلف جہتوں سے باریک بینانہ تجزیے اور علمی قدر پیمائی کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی بنا پر زیرِ نظر مقالے کا مقصد اس نقطہ نظر کا مختلف زوایوں سے سائنسی جائزہ لینا اور اس کی علمی خامیوں اور کمزوریوں کو واضح کرنا ہے۔
سابقہ تحقیقات
اصل بحث شروع کرنے سے پہلے اس موضوع پر ہونے والے پچھلے کام کا جائزہ لینا فائدے سے خالی نہیں ہوگا۔ مصنف کی تحقیق کے مطابق، ڈاکنز کے نظریے کو مستقل طور پر اور دیگر موضوعات کے ضمن میں متعدد مآخذ میں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ انگریزی زبان میں اس پر سب سے زیادہ تنقید الیسٹر میک گراث (Alister McGrath) کے یہاں ملتی ہے، جنہوں نے اپنی تین کتابوں: "ڈاکنز کی غلط فہمی” (2007)، "ڈارونزم اور خدا” (2011)، اور "ڈاکنز کا خدا: جینز، میمز، اور معنیِ زندگی” (2004) میں اس کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان کی یہ تصانیف اس تحقیق کے لیے بھی بنیادی مآخذ کا درجہ رکھتی ہیں۔تاہم، زیرِ نظر مقالہ اس بحث کو چند نئے اور مختلف زوایوں سے پیش کرتا ہے۔ فارسی زبان میں شائع ہونے والی تحریروں میں بھی، جہاں تک مصنف کی رسائی ہو سکی ہے، سب سے اہم کام درج ذیل ہیں:مقالہ "اخلاق اور مذہب کے بارے میں ڈاکنز کے نقطہ نظر کا جائزہ” (احمدی، ۱۳۹۲ش: ۳۶ – ۵۵):یہ مقالہ بنیادی طور پر اخلاق پر مادیت پسندی کے اثرات اور وجودِ خدا کے انکار پر مرکوز ہے، اور مذہب کی حقیقت کے بارے میں ڈاکنز کے تصورات کا براہِ راست احاطہ نہیں کرتا۔مقالہ "مذہب کی اخلاقی کارکردگی کا جائزہ: ریچرڈ ڈاکنز اور الیسٹر میک گراث کے نقطہ نظر کی روشنی میں” (قلیزادہ، ۱۴۰۰ش: ۷۳ – ۹۴):یہ تحریر ڈاکنز کے نزدیک مذہب کی اخلاقی کارکردگی اور اس پر میک گراث کی تنقیدوں پر فوکس کرتی ہے، لیکن یہ بھی میک گراث کے اعتراضات کے دائرے سے آگے نہیں بڑھتی۔مقالہ "مذہب کی کارکردگیوں کا جائزہ: ریچرڈ ڈاکنز اور الیسٹر میک گراث کے نقطہ نظر کی روشنی میں” (قلیزادہ، ۱۳۹۹ش: ۸۵ – ۱۰۸):اگرچہ اس کا اندازِ بیان پچھلے مقالے جیسا ہی ہے، لیکن اس کا دائرۂ کار مذہب کی دیگر کارکردگیوں کا احاطہ بھی کرتا ہے۔تحقیق "ڈاکنز کے میمیٹک نظریۂ مذہب کا نقد و جائزہ” (رفیعرباطی و چند محققین، ۱۴۰۱ش: ۱۴۹۷ – ۱۵۰۹):یہ مقالہ اس نظریے کی تفصیلی وضاحت تو کرتا ہے، لیکن اس کا تنقیدی حصہ محدود ہے اور اس موضوع پر مزید بحث کی گنجائش باقی رکھتا ہے۔مقالہ "ڈاکنز کے نقطہ نظر میں مذہب کو ضمنی شئے سمجھنے پر تنقیدی جائزہ” (شاکرین، ۱۴۰۲ش: ۲۷ – ۵۰):یہ مقالہ ڈاکنز کے نظریے کے صرف ایک پہلو یعنی مذہب کو ارتقاء کا ثانوی یا ضمنی نتیجہ (Side-effect) قرار دینے پر بحث کرتا ہے۔
نظریۂ میم پر ایک نظر
ریچرڈ ڈاکنز نے اپنی مختلف تصانیف میں مذہب کو ایک "اتفاقی ضمنی حاصل” (Accidental By-product) اور حیاتیاتی ارتقاء کے عمل میں ایک طرح کا "غیر انطباقی نتیجہ” (Misadaptation) قرار دیا ہے۔ اس نے مذہب کے آغاز، اس کی اشاعت اور بقا کے راز کی وضاحت کے لیے لغات، انسائیکلوپیڈیا یا فنی اصطلاحات کی طرز پر کوئی رسمی تعریف پیش نہیں کی، بلکہ اس کی جگہ ایک خاص مفروضہ قائم کیا ہے۔ اس کے نزدیک مذہب ایک ثانوی، فرعی اور ضمنی شئے ہے جو بذاتِ خود کوئی قدرِ بقا (Survival Value) نہیں رکھتی اور نہ ہی جاندار کی بقا پر کوئی مثبت اثر ڈالتی ہے؛ بلکہ یہ دیگر کارآمد عوامل کی کج روی اور انحراف کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے جن کی اپنی ایک قدرِ بقا موجود تھی (Dawkins, 2006a: 174)۔لہٰذا، ڈاکنز کی نظر میں مذہب توہمات اور مہلک وائرسوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ارتقائی مطابقت اور سازگار عوامل کے طفیل ابھرا، اور مخصوص ذرائع کے ذریعے اس نے پھیلاؤ، تنوع اور بقا حاصل کی۔ وہ سازگار عوامل اور ارتقائی خصائص جن کے انحراف کے نتیجے میں ڈاکنز کے نزدیک مذہب وجود میں آیا، درج ذیل ہیں:ثنویت پسندی (Dualism)،غائیت پسندی (Teleology)، خواہش پرستی (Wishful Thinking)،جذبۂ محبت اور شریکِ حیات سے وفاداری، زود اعتقادی اور سادہ لوحی؛ یعنی بچوں کی سی معصومیت اور بڑوں کی اطاعت کا وہ جذبہ جو بچپن میں تعلیم اور بقا کے لیے بنیادی حیاتیاتی اہمیت رکھتا ہے۔تاہم، یہی صفات انسان کو بگاڑ اور گمراہی کے لیے بھی تیار کر دیتی ہیں؛ یعنی خرافات اور بے بنیاد افکار کو قبول کرنے، منتقل کرنے اور پھیلانے کا سبب بنتی ہیں (Dawkins, 2006a: 174-181; Dawkins, 1996: 187)۔
مِیمِیاتی نظریے کی تشکیل اور فرضیاتی بنیادیں
ان اعتراضات کے بعد(کہ صرف حیاتیاتی عوامل مذہب جیسے جامع ثقافتی و اجتماعی عمل کی توجیح کے لیے کافی نہیں ہیں)ڈاکنز نے "مِیمِیاتی نظریے” (Memetic Theory) کی بنیاد رکھی۔ اس نے ثقافت کے میدان میں "میم” کو ایک "ثقافتی طفیلیے” (Cultural Parasite) یا "ذہنی وائرس” (Mind Virus) کے طور پر متعارف کروا کر اپنے موقف کی تکمیل کی اور اس میں سماجی و ثقافتی عوامل کو شامل کیا۔ وہ ثقافتی انتقال کو بالکل جینیاتی انتقالِ صفات کی طرح سمجھتا ہے، اور اس کی تعبیر کے لیے اس نے "Meme” کا استعارہ استعمال کیا ہے جو اس کے نزدیک ثقافتی انتقال کی بنیادی اکائی اور خود تکثیر عنصر (Replicator) ہے۔یہ لفظ جینیات (Genetics) کی اصطلاح "gene” کے وزن پر وضع کیا گیا ہے، جو یونانی لفظ "mimema” یا "mimeme” سے مستعار ہے، جس کے معنی ہیں: نقل کرنا، دہرانا، یا وہ خیال جو تقلید کے ذریعے حاصل اور منتقل کیا جائے (Dawkins, 2006b: 206)۔
جینیاتی اور میمیاتی انتقال کا موازنہ
اس نکتے کی مزید سائنسی وضاحت کے لیے یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ جینز (Genes) بنیادی طور پر ڈی این اے (DNA) کے مالیکیول کا وہ حصہ ہیں جو کروموسومز پر واقع ہوتے ہیں اور مخصوص حیاتیاتی معلومات کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ جینیاتی معلومات متعین کرتی ہیں کہ جسم کون سے پروٹین بنائے اور جاندار (مثلاً انسان) کے اندر کون سی خصوصیات پیدا ہوں (Johannsen, 1905)۔ یوں، خلیات (Cells) کے افعال اور پروٹینز کی ساخت انہی جینز کے ذریعے طے ہوتی ہے۔ یہ جینز والدین سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں اور خلیاتی تقسیم کے عمل یا ماحولیاتی تعامل کے دوران ان میں تدریجی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں جینیاتی تغیر (Genetic Mutation) اور قدرتی انتخاب (Natural Selection) کے ذریعے ارتقاء کا باعث بنتی ہیں، جس کے نتیجے میں زیادہ مضبوط اور موافق جینز پرانے جینز کی جگہ لے لیتے ہیں۔ جدید ڈارونزم (Neo-Darwinism) کی رو سے، قدرتی انتخاب اور اگلی نسلوں میں صفات کی منتقلی کا بنیادی یونٹ یہی "جین" ہے۔
اب ممیتک نظریے کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ کرداری (Behavioral)، ثقافتی اور ذہنی پیٹرنز بھی معلومات کے ایسے ہی بنڈل ہیں جو ایک انسان دوسرے کی تقلید کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کرداری نمونے کی نقل کرتا ہے، تو وہ اصل میں ایک جین کی طرح ایک ذہنی سانچہ اور "مجموعۂ میم” منتقل کر رہا ہوتا ہے؛ اور یہی نقل و تقلید دراصل میمز کی افزائش اور ان کی تعداد میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔لہٰذا، جس طرح جینز کسی جاندار کے اندر حیاتیاتی معلومات کا ذخیرہ کرتے ہیں اور ڈی این اے (DNA) کی شکل میں اسے آباؤ اجداد سے حاصل کر کے اگلی نسلوں میں منتقل کرتے ہیں، بالکل اسی طرح میمز نے بھی وہ فکری و ثقافتی خاکے سنبھال رکھتے ہیں جو انسانوں نے اپنے اسلاف سے سیکھے ہیں اور انہیں ثقافت کی دنیا میں منتقل اور نئی تخلیق (Reproduce) کرتے ہیں۔ اس طرح، جس طرح جین حیاتیاتی معلومات کی منتقلی کا بنیادی یونٹ ہے، اسی طرح میم ثقافتی ڈیٹا کی منتقلی کی بنیادی اکائی ہے (Dawkins, 2006b: 203)۔
ڈاکنز نغموں، عقائد، تکیہ کلام، لباس کے فیشنوں اور دیگر ثقافتی عناصر کو میمز (Memes) کی ہی مختلف قسمیں قرار دیتا ہے اور اس بات کا قائل ہے کہ میمز میں خود کو دہرانے اور نقل کرنے کا عمل بنیادی طور پر ایک غیر شعوری/بہرا اور اندھا (unconscious/blind) طریقہ کار رکھتا ہے، اور ممکن ہے کہ ثقافتی نقل و اشاعت کا یہ راستہ مرورِ ایام کے ساتھ تبدیلی اور تغیر کا شکار ہو جائے۔ وہ میمز کے لیے خود غرضانہ (selfish) اور سرایت پذیر/وائرسی (viral) خصلت کا قائل ہے، اور اس وائرسی خصلت کی ایک علامت انسان کے دماغ میں میمز کے باہمی مقابلے کو قرار دیتا ہے؛ بالکل اسی طرح جیسے جینز، جینیاتی ذخیرے (gene pool) میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں (Dawkins, 2006b: 211)۔
ڈاکنز، ڈینیٹ (Dennett) کے حوالے سے نقل کرتا ہے کہ:”میمز اتنی تیز رفتاری کے ساتھ پھیلتے اور تکثیر پاتے ہیں کہ میوے کی مکھیاں (fruit flies) اور خمیر کے خلیات ان کے مقابلے میں منجمد محسوس ہوتے ہیں۔ وہ ایک میزبان سے دوسرے میزبان اور ایک ذریعے سے دوسرے ذریعے تک بغیر کسی روک ٹوک کے منتقل ہوتے ہیں اور عملی طور پر کسی قرنطینہ یا پابندی کو نہیں مانتے۔"(Dennett, 1990: 131) ۔۔۔۔۔جاری ہے
تبصرے