غلام رسول وَلایتی۔ جامعہ الکوثر اسلام آباد
انسانی تاریخ کے بڑے سوالات میں شاید سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر حقیقت کیا ہے؟ کیا ہم واقعی ایک بے مقصد کائنات میں رہ رہے ہیں؟ کیا زندگی محض ایٹموں کی ایک عارضی ترتیب ہے؟ کیا شعور صرف دماغ میں ہونے والے کیمیائی تعاملات کا دوسرا نام ہے؟ کیا محبت، اخلاق، انصاف، قربانی اور خوبصورتی محض حیاتیاتی ارتقا کے پیدا کردہ فریب ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر انسان کی پوری تہذیب ایک عجیب معما بن جاتی ہے۔سوچیے، مادہ بذاتِ خود نہ سچ کو جانتا ہے، نہ جھوٹ کو، نہ انصاف کو، نہ ظلم کو۔ کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں میں کوئی اخلاقی شعور نہیں ہوتا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پوری کائنات آخرکار اندھی مادی قوتوں کا نتیجہ ہے تو انسان کے اندر حق اور باطل، عدل اور ظلم کے تصورات کہاں سے آئے؟
ایک شخص اگر کسی بچے پر ظلم کرے تو تقریباً ہر انسان کے اندر فوراً یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ غلط ہے۔ یہ صرف ذاتی پسند یا ناپسند کا مسئلہ نہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مجھے ظلم پسند نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ظلم حقیقتاً غلط ہے۔لیکن اگر خدا نہ ہو اور کائنات کے پیچھے کوئی اعلیٰ اخلاقی بنیاد موجود نہ ہو تو پھر حقیقتاً غلط کا مطلب کیا رہ جاتا ہے؟ پھر تو اخلاق محض انسانی پسند و ناپسند، سماجی معاہدے یا ارتقائی فائدے کا نام ہوگا۔ ایسی صورت میں ظلم اور عدل کے درمیان اصولی فرق باقی نہیں رہتا، صرف طاقتور اور کمزور کا فرق باقی رہ جاتا ہے۔
اسی طرح شعور کا مسئلہ بھی آج تک جدید فلسفۂ ذہن کے سب سے پیچیدہ مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ہم صرف مادہ نہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں۔ہم صرف دیکھتے نہیں، ہمیں اپنے دیکھنے کا شعور بھی ہوتا ہے۔دماغ کے اربوں خلیات اور ان کے برقی سگنل یقیناً انسانی تجربے سے وابستہ ہیں، لیکن آج تک کوئی سائنسی نظریہ یہ واضح نہیں کر سکا کہ بے شعور مادہ سے شعور خود کیسے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعور کو بعض سائنسدان hard pr
oblem of consciousness کہتے ہیں۔اگر شعور مادہ سے مکمل طور پر قابلِ توضیح نہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقیقت کی بنیاد خود شعور یا عقل سے زیادہ قریب نہیں؟
پھر کائنات کے نظم پر غور کیجیے۔سائنس نے جتنا کائنات کو سمجھا ہے، اتنا ہی ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی ہے۔کائنات محض موجود نہیں، بلکہ ریاضیاتی قوانین کے مطابق منظم انداز میں موجود ہے۔البرٹ آئن سٹائن نے ایک بار کہا تھا کہ کائنات کے بارے میں سب سے ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ وہ قابلِ فہم ہے۔یہ ایک گہرا سوال ہے۔آخر ایسا کیوں ہے کہ انسانی ذہن ریاضی کے ذریعے کائنات کے قوانین دریافت کر لیتا ہے؟ آخر کیوں تجریدی ریاضیاتی تصورات بیرونی دنیا کے ساتھ اس قدر حیرت انگیز مطابقت رکھتے ہیں؟اگر انسانی عقل اور کائنات دونوں ایک ہی حکیم مصدر سے وابستہ ہوں تو یہ مطابقت قابلِ فہم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر انسانی ذہن محض بقا کے لیے ارتقا یافتہ ایک حیاتیاتی آلہ ہے تو پھر یہ یقین خود کیسے قائم ہوگا کہ اس کی عقلی صلاحیتیں ہمیں حقیقت تک پہنچانے کے لیے قابلِ اعتماد ہیں؟
یہاں ایک اور بنیادی سوال سامنے آتا ہے، معنی کا سوال۔اگر انسان ایک حادثاتی کائنات میں ایک حادثاتی وجود ہے، اور موت کے بعد سب کچھ ختم ہو جانا ہے، تو پھر زندگی کا حتمی مقصد کیا ہے؟ بلاشبہ انسان خود اپنے لیے مقاصد بنا سکتا ہے، لیکن وہ مقاصد حقیقتاً معروضی (objective) نہیں ہوتے۔ ایک شخص دولت کو مقصد بناتا ہے، دوسرا شہرت کو، تیسرا لذت کو۔ لیکن سوال باقی رہتا ہے کہ ان میں سے کون سا مقصد حقیقتاً درست ہے اور کیوں؟الحاد انسان کو مقاصد منتخب کرنے کی آزادی تو دیتا ہے، لیکن ان مقاصد کی معروضی بنیاد فراہم نہیں کرتا۔اس کے برعکس خدا پر ایمان ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔
اس تصویر میں کائنات ایک حکیم خالق کی تخلیق ہے۔عقل محض حیاتیاتی حادثہ نہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ اخلاق صرف سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی حقیقت کی جھلک ہے۔ شعور محض کیمیائی تعاملات کا دھوکا نہیں بلکہ انسان کے غیر معمولی مقام کی علامت ہے۔ اور زندگی محض چند دہائیوں کا حادثاتی سفر نہیں بلکہ ایک بامقصد امتحان ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا کا سوال صرف مذہب کا سوال نہیں۔ یہ شعور، عقل، اخلاق، سچائی، معنی اور خود انسان کے وجود کا سوال ہے۔آخرکار ہر انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کون سا نظریہ حقیقت کے زیادہ پہلوؤں کی بہتر وضاحت کرتا ہے۔وہ نظریہ جو شعور کو حادثہ، اخلاق کو پسند، عقل کو ارتقائی آلہ، اور زندگی کو بے مقصد سفر قرار دیتا ہے؟یا وہ نظریہ جو کائنات کے نظم، عقل کی معقولیت، اخلاق کی معروضیت، شعور کی انفرادیت اور انسان کی مقصدیت کو ایک جامع فریم ورک میں سمجھاتا ہے؟خدا پر ایمان محض ایک مذہبی انتخاب نہیں بہت سے مفکرین کے نزدیک یہ حقیقت کی سب سے جامع اور معقول توضیح ہے۔۔۔ جاری ہے
تبصرے