ملحد اویس اقبال: یہ کیسے ممکن ہے کہ اُس نے سب کچھ "کچھ بھی نہ ہونے"سے پیدا کر دیا؟
جواب: غلام رسول وَلایَتی
یہ سوال کہ کائنات عدم (کچھ نہ ہونے) سے وجود (سب کچھ ہونے) میں کیسے آئی؟ انسانی فکر کے مشکل ترین سوالات میں سے ایک رہا ہے۔جو صدیوں سے فلسفیوں، سائنسدانوں اور ماہرینِ الہیات کے درمیان بحث کا مرکز رہا ہے۔عدم سے وجودکا تصور انسانی عقل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ہماری مادی دنیا میں ہر چیز کسی نہ کسی پہلے سے موجود مادےسے بنتی ہے۔ اس لیے عام اذہان جو کہ ہمیشہ کسی چیز سے بننے کی تخلیق کو دیکھنے کے عادی ہیں، انھیں غیر مادی اشیا یا اس کے علاوہ کو سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ایسے لوگوں کوسمجھانے کے لیے ہم جدید سائنس خاص طور پر کوانٹم فزکس کے تصور سے مدد لے سکتے ہیں جو کہ اس تصور کو ذہن کے قریب کرنے میں مدد دیتا ہے۔جسےصفر توانائی کا نظریہ(Zero-Energy Universe Hypothesis) کہا جاتا ہے۔بظاہر کائنات ستاروں، کہکشاؤں، روشنی اور مادے سے بھری ہوئی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کائنات میں بے پناہ توانائی موجود ہے۔ لیکن جدید فزکس کے اس نظریے کے مطابق، اگر ہم پوری کائنات کا مجموعی حساب لگائیں تو کل توانائی اب بھی صفر ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے توانائی کو دو توازن بخش حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا حصہ مثبت توانائی (Positive Energy) ہے، اس میں کائنات کا تمام نظر آنے والا مادہ (ایٹم، ستارے، سیارے) اور حرکت و روشنی شامل ہے۔ آئن سٹائن کی مشہور مساوات E=mc^2 کے مطابق مادہ دراصل توانائی ہی کی ایک مرتکز شکل ہے۔جبکہ دوسرا حصہ منفی توانائی (Negative Energy)ہے۔ فزکس میں کششِ ثقل (Gravity) کو منفی توانائی تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو مادے کے پھیلاؤ کو بیلنس کرتی ہے۔
اس دقیق نکتے کو ایک سادہ مالیاتی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کریں ایک شخص کے پاس شروع میں کچھ نہیں تھا (یعنی زیرو بیلنس)۔ وہ بینک سے ایک لاکھ روپے قرض لیتا ہے۔ اب بظاہر اس کی جیب میں ایک لاکھ روپے موجود ہیں جسے وہ استعمال کر سکتا ہے، مادہ اور انرجی بالکل اسی نقد رقم کی طرح ہے۔ لیکن دوسری طرف، اس پر ایک لاکھ روپے کا قرض بھی واجبُ الادا ہے جو منفی کی علامت ہے۔اگر ہم اس شخص کی مجموعی مالی حیثیت دیکھیں، تو وہ اب بھی صفر ہی ہے۔بالکل اسی طرح، کائنات میں موجود تمام مادہ (مثبت توانائی) اور کششِ ثقل (منفی توانائی) ایک دوسرے کو مکمل طور پر ختم (Cancel) کر دیتے ہیں۔ پس گویا کچھ بھی نہیں ہے، ظاہرا نظر بھی آرہا ہے لیکن درحقیقت صفر ہی ہے۔
یہ فرضیہ اس ذہنی الجھن کوسمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ پوری کائنات عدم کا ایک ایسا ظہور ہے جو ریاضیاتی اور طبیعیاتی طور پر آج بھی مکمل توازن کے ساتھ صفر پر قائم ہے۔[i] تاہم، یہ مساوات پوری کائنات کے لیے ہر نظریے میں ثابت شدہ عمومی قانون نہیں۔ عمومی نظریۂ اضافیت (General Relativity) میں ثقلی توانائی اور پوری کائنات کی مجموعی توانائی کی تعریف و تعیین پیچیدہ مسائل ہیں۔ اس لیے صفر توانائی کی کائنات کو ایک مخصوص طبیعیاتی مفروضے کے طور پر سمجھنا چاہیے، نہ کہ ایسی حقیقت کے طور پر جو ہر صورت میں بلاشرط ثابت ہو چکی ہو۔
عدم سے تخلیق کے امکان
اب مثال کے ذریعے یہ مفہوم آپ کے ذہن کے قریب ہوا ہوگا، اب ہم عدم سے تخلیق کا کلامی نظریہ سمجھاتے ہیں۔ مسلمان متکلمین کا کہنا ہے کہ خدا عدم سے تخلیق کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس قدر ت کاملہ ہے اور وہ اپنے ارادے سے کائنات کو تخلیق کرتا ہے۔اسے سمجھانے کے لیے مزید مثال دیتے ہیں انسانی ذہن اور نفس کی محدود قدرت و صلاحیت کی۔ انسان کا نفس اپنی تخلیقی قوت سے علمِ معدوم یا کم علم سے نتائج پیدا کرتا ہے۔انسانی ذہن کی دو بڑی سرگرمیاں ہیں، پہلی یہ کہ وہ ذہن سے باہر کے اشیا سے تصویریں لیتا ہے اور انہیں اپنی قوتِ خیال اور حافظے میں محفوظ کرتا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ ان کا تجزیہ اور یاد دہانی کر سکے۔دوسری سرگرمی یہ ہے کہ ذہن خود نئی صورتیں بناتا ہے اور مختلف خیالی ترکیبیں پیدا کرتا ہے، جو دراصل ذہن سے باہر کی دنیا میں موجود ہی نہیں ہوتیں۔ مثلاً انسان ذہنی طور پر ایسا گھوڑا تصور کر سکتا ہے جس کے پر ہوں، یا ایسا شیر جس کے دو سر ہوں، یا سونا اور چاندی کا کوئی پہاڑ۔ ممکن یہ ہے کہا جائے کہ یہ تو ذہن نے پہلے سے موجود مخلوق گھوڑے اور پر کو ملایا ہے تو ایسا نہیں ہے یہ خارج میں پائی نہیں جاتا ہے ۔ چلیں اگر مان بھی لیں تو انسانی ذہن صرف مادی یا محسوس چیزوں (جیسے گھوڑا، پر، درخت وغیرہ) کو جوڑ کر نئی ترکیب نہیں بناتا، بلکہ وہ ایسی مجرد (Abstract) چیزیں بھی خلق کر سکتا ہے جن کا خارج میں کوئی حقیقی وجودنہیں ہوتا۔ یہ صرف ذہنی تخیل کی پیداوار ہیں۔مثلالا محدود (Infinity) لا محدود یابے انتہا کوئی خارجی چیز نہیں جسے ہم اپنی آنکھ سے دیکھ سکیں۔ یہ ذہنی تصور ہے جسے ذہن نے خلق کیا ہے۔ اسی طرح کلیات (Universals) جیسے انسانیت ، سفیدی ، زندگی ۔ ہم نے انسانوں کو دیکھا، لیکن انسانیت کوئی علیحدہ چیز نہیں جو کہیں موجود ہو یہ ذہنی تجرید ہے۔ عدم (Nothingness) عدم کا کوئی خارجی وجود نہیں بلکہ یہ صرف ذہن کی ایک منفی تخلیق ہے ۔اعداد (Numbers) دو، پانچ، ہزار، یہ بطور مجرد مفہوم ذہن کی تخلیق ہیں، خارجی طور پر ہمیں صرف چیزوں کی مقدار نظر آتی ہے۔ یہ سب مثالیں بتاتی ہیں کہ انسانی ذہن کے پاس صرف مادی ترکیب کی طاقت نہیں بلکہ وہ ایسے مجرد تصورات بھی بنا سکتا ہے جو خارج میں سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔
اگر انسانی ذہن خود ہی ایسی صورتیں بناتا ہے جو خارج میں موجود نہیں اوریہ بات واضح ہے کہ انسانی ذہن کی تخلیقی قوت محدود اور مشروط ہے لیکن یہ خلاقیت الہی کا ایک چھوٹا سا جلوہ ہے جو کہ خلقت از عدم کو سمجھنے کے لیے مدد گار ہے۔ روایات میں جو بات آئی ہے کہ "من عرف نفسہ فقد عرف ربہ” شاید یہ اسی معنی کو سمجھانے کے لیے ہو۔
پس خلاصہ یہ کہ ہمارا کام یہ دکھانا ہے کہ عدم کا دروازہ وجود کی طرف کھل سکتا ہے اور خدا اس چیز پہ قادر ہے۔ اب اس دروازے سے گزر کر کائنات نے کتنے ارب سال کا سفر طے کیا اور کن کن مادی مراحل سے گزری، یہ کلام کا نہیں بلکہ طبیعیات (Physics) کا موضوع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[i] https://www.technology.org/how-and-why/zero-energy-universe-hypothesis/
تبصرے