استادحمیدرضا شاکرین، اسسٹنٹ پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف اسلامک کلچر اینڈ تھاٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ
جدید الحاد، جو جدید سائنسی تجربیت، منطقی اثناتیت اور طبیعت پسندی پر مبنی ہے، خدا کی عدم موجودگی کا استدلال پیش کرتا ہے۔ تاہم، اس تحریک کی دلیلیں اکثر ان بنیادی میٹافزیکل مفروضات پر مبنی ہوتی ہیں جنہیں خود سائنسی میتھڈ ثابت نہیں کرسکتا۔ اس کے برعکس، اسلامی فلسفہ بدولت عقل اور وحی کے امتزاج سے ایک جامع فکری نظام فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام تجربی شواہد کی حدود کو تسلیم تے ہوئے تجربیت اور طبیعت پسندانہ میٹافزیکل بنیادوں کی بیخ کنی کرتا ہے۔ یوں اسلامی فلسفہ، ایک جامع اور ہم آہنگ نظریہ پیش کرتے ہوئے، الحاد جدید کے محدود اور یک جانہ استدلالات کا مؤثر جواب دیتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تجرباتی علوم اپنی ذات میں میٹافزیکل بنیادوں پر منحصر ہے۔ ذیل میں استادشاکرین کے انٹرویو کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے جو کہ فلسفۂ سائنس، اسلامی فلسفہ اور علم کلام سے شغف رکھنے والوں کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ دوسری قسط ہے جو پیش خدمت ہے:
2. علمیاتی (epistemological) اورمنہجی (methodological) بنیاد:
ان کے مطابق، سائنس یا تو واحد ذریعۂ معرفت ہے یا کم از کم سب سے معتبر ذریعہ ہے، اور وہ بھی صرف حسی تجربے (sensory experience) پر مبنی علم۔ حالانکہ، یہ بات بذاتِ خود ایک علمیاتی فرض ہے جسے خود سائنس نے تجربے ذریعے ثابت نہیں کیا،( بلکہ اسے ایک علمیاتی فرض(assumption) کے طور پر لیا جاتا ہے۔)
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم علمیاتی اصولوں کو گہرائی سے دیکھتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ خود تجرباتی علم کو بھی کسی ماورائے تجربہ (non-empirical) بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلامی فلسفہ، خصوصاً ابن سینا جیسے مفکرین، تجربہ پسند ضرور تھے، لیکن اس حد تک کہ قدرتی علوم (natural sciences) کی تحقیق تجربے کے ذریعے ہونی چاہیے، اور اس کا اعتبار بھی ہے۔ لیکن خود اس تجربے کی سچائی اور اعتبار کے لیے عقل اور ماورائے تجربہ بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید ملحدین ان مباحث میں داخل ہونے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ان موضوعات میں جائیں تو ان کے علمی دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس لیے، اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ "میرا الحاد، سائنسی الحاد ہے”، تو ہم کہیں گے کہ خالص سائنسی الحاد (pure scientific atheism) ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ ہر سائنسی نظریہ کسی نہ کسی فلسفیانہ یا مابعد الطبیعیاتی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
سب سے پہلے، بنیادی سطح پر، علم کی حیثیت اور سائنسی طریقہ کار کا اعتبار—یہ سب کچھ کچھ ماورائے تجربہ (non-empirical) اور ماورائے علم (non-scientific) اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ جدید ملحدین کسی بھی غیر سائنسی یا غیر تجربی بنیاد کو قبول نہیں کرتے، اس لیے ان کا نظریہ ایک منظم اصول پر قائم نہیں ہوتا، بلکہ محض ان کی اپنی پسند و ناپسند پر مبنی ہوتا ہے، جو منطقی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس، اسلامی فلسفی تجربے کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عقلی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ یہاں سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جدید الحاد ایک کمزور فلسفیانہ بنیاد پر کھڑا ہے۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ سائنس کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی فلسفیانہ مباحث سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ جدید ملحدین سائنسی نظریات میں ایسے فلسفیانہ تصورات شامل کرتے ہیں جن پر خود فلسفیانہ سطح پر بحث کی ضرورت ہے۔ مثلاً، رچرڈ ڈاکنز نے ایک دلیل پیش کی جسے "برہان نامحتمل” (Argument from Improbability) کہا جاتا ہے، جو سراسر فلسفیانہ نوعیت رکھتی ہے۔
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ سائنس کائنات کی حتمی (ultimate) وضاحت فراہم کرنے میں کئی محدودیتوں کا شکار ہے۔ یہاں پھر فلسفیانہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا واقعی سائنس کائنات کی مکمل وضاحت دے سکتی ہے؟ اگر نہیں، تو یہ پھر ایک خالص فلسفیانہ بحث بن جاتی ہے۔
مختصر یہ کہ جدید الحاد، نہ صرف اپنے علمی و سائنسی بنیادوں میں، بلکہ اپنے طریقہ کار اور الٰہیاتی نتائج میں بھی فلسفے سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "خالص سائنسی الحاد” (Pure Scientific Atheism) ناممکن ہے، کیونکہ یہ سراسر ایک خالی نعرہ ہے اور حقیقی معنوں میں مکمل طور پر سائنسی نہیں ہے۔
اسلامی فلسفے کی جدید الحاد کے خلاف کارکردگی اور صلاحیت
اب جب کہ ہم اس غیر قابلِ انکار حقیقت تک پہنچ چکے ہیں کہ سائنسی الحاد اور فلسفیانہ مباحث ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں—یہ تعلق صرف ابتدا میں ہی نہیں، بلکہ درمیان اور آخری نتائج تک موجود ہے—تو یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے:
ایسی صورت حال میں، اسلامی فلسفہ بالخصوص اس قسم کے الحاد کے مقابلے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
جب ہم اسلامی فلسفے کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ میں پائے جانے والے سب سے مضبوط فکری نظاموں میں سے ایک ہے۔ مسلم فلاسفہ نے الہیات، دین، خدا اور انسان کے ساتھ اس کے تعلق کے مسائل پر نہایت گہری فکری محنت کی ہے اور ان مباحث کو انتہائی سنجیدگی سے آگے بڑھایا ہے۔
اسلامی فلسفہ، نہ صرف سائنسی علوم کی بنیادوں پر گفتگو کرتا ہے بلکہ محض تجربی بنیادوں پر استوار نظریات کو تنقیدی نظر سے دیکھتا اور ان کی محدودیتوں کو نمایاں کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، وجودیات (Ontology) میں علیت کے محض فزیکل توسیع شدہ نظریے پر تنقید کی گئی ہے۔ اس حوالے سے جناب میر باباپور کی ایک قابل قدر تحقیقی کاوش سامنے آئی ہے، جس میں طبیعت پسندی (Naturalism) اور صدرائی فلسفے کے درمیان تقابل پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے مسلمان فلاسفہ، بغیر کسی مثالیّت پسندی (Idealism) میں پڑے، حقیقت پسندی (Realism) کو قبول کرتے ہوئے بھی اس نکتے کو واضح کرتے ہیں کہ قدرتی عوامل (Natural Causes) اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور سائنسی طور پر ان کی وضاحت ممکن ہے۔ لیکن یہ وضاحت طبیعت پسندی کے نقطہ نظر سے مختلف ہے، کیونکہ طبیعت پسندی ہر طرح کے مابعد الطبیعیاتی (Metaphysical) عناصر کا انکار کرتی ہے۔
اسلامی فلسفہ یہ ثابت کرتا ہے کہ طبیعی علتوں (Natural Causes) اور غیر طبیعی علتوں (Supernatural Causes) کے درمیان کیا تعلق ہے۔ یہ بحث مغربی دنیا میں بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اور جان پولکنگہورن (John Polkinghorne)، ایلوِن پلانٹینگا (Alvin Plantinga) اور دیگر کئی مغربی مفکرین اس موضوع پر کام کر رہے ہیں اور کچھ آرا و نظرایت بھی پیش کیے ہیں۔
لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی فلسفہ اس میدان میں زیادہ مضبوط استدلال کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ابن سینا اور ملا صدرا کے نظریات طبیعی علتوں اور غیرطبیعی علتوں کے باہمی تعلق کو بخوبی واضح کرتے ہیں۔
یعنی اسلامی فلسفہ سائنسی طریقہ کار (Empirical Methodology) کو اہمیت دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتا ہے کہ محض تجرباتی طریقہ کار (Pure Empirical Method) بہت سے معاملات کو مکمل طور پر بیان کرنے سے قاصر ہے۔
چند مثالیں پیش کرتے ہیں حالانکہ اس سے کہیں زیادہ نکات موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اسلامی فلسفہ الحادِ جدید کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔
طبیعت پسندی کے طریقہ کار پر مبنی تجرباتی علم کئی مسائل پر گفتگو کرنے سے قاصر ہے، جن میں ایک معجزہ بھی شامل ہے۔ تاریخی طور پر، معجزات کے وقوع پذیر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن طبیعت پسندی اس کی کوئی منطقی توجیہ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
دوسرا اہم مسئلہ انسان ہے، جس کی ایک غیرمادی اور ماورائی جہت (Transcendental Aspect) موجود ہے۔ فزیکلزم (Physicalism) اور طبیعت پسندی پر مبنی انسان شناسی (Naturalistic Anthropology) نے اس ماورائی پہلو کو رد کرنے کی بےحد کوشش کی، لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔
مثلاً، ڈینیل ڈینٹ (Daniel Dennett)، جو جدید ملحدین میں فلسفہ کے ذہن سب سے بڑا (Philosopher of Mind)فلسفی شمار ہوتا ہے اور ہم چاہیں کہ ان ملحدین میں سب سے بڑا فلسفی کا نام لیں تو وہ ڈینٹ ہیں باقیوں نے سوائے غل غپاڑے کے کچھ نہیں کیا ہے، انھوں نے پچاس سال اس پروجیکٹ پر کام کیا تاکہ یہ ثابت کر سکے کہ انسانی شعور (Consciousness) کا کوئی غیرمادی پہلو نہیں ہے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ بعض مغربی مفکرین، جو خود بھی مذہبی یا خداکو ماننے والے نہیں تھے، انہوں نے تسلیم کرلیا کہ ڈینٹ ناکام ہو چکا ہے۔ یہ صرف ڈینٹ کی ناکامی نہیں، بلکہ یہ طبیعت پسندی کے طریقہ کار (Methodological Naturalism) کی بنیادی ناکامی ہے۔
یہیں پر اسلامی فلسفہ میدان میں آتا ہے۔ اسلامی فلسفہ فطری اور سائنسی وضاحتوں (Natural Explanations) کو قبول کرتا ہے، لیکن طبیعت پسندی کو ایک محدود اور ناکافی نقطہ نظر قرار دیتا ہے۔ وہ اس کے مسائل کو نمایاں کرتا ہے اور اس کا متبادل بھی فراہم کرتا ہے۔
اسلامی فلسفہ اور جدید سائنسی مباحث
اسلامی فلسفہ صرف بنیادی اصولوں پر ہی گفتگو نہیں کرتا بلکہ جدید سائنسی مباحث میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مثلاً، کوانٹم فزکس کے میدان میں کچھ بنیادی مسائل ہیں، جیسے:
1. اصولِ عدم قطعیت (Uncertainty Principle)
2. اصولِ عدم تعیّن (Indeterminacy Principle)
یہ تمام نظریات فلسفیانہ وضاحت کے محتاج ہیں، اور صدرائی فلسفہ ان مباحث میں بہت مؤثر ثابت ہوا ہے۔
طبیعت پسندی کا ایک بڑا مغالطہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوانٹم فزکس کے نظریات، خدا کے تصور کو نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم بیک وقت کوانٹم فزکس کو قبول کر سکتے ہیں اور خدا کو بھی۔
اور یہی نقطہ فقط اسلامی فلسفے میں ہی نہیں مغرب میں بھی تسلیم کیا جا چکا ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ اسلامی فلسفے نے یہ مسائل بہتر طریقے سے حل کیے ہیں ۔ بلکہ بعض مغربی مفکرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کوانٹم فزکس، کلاسیکل فزکس (Classical Physics) کے مقابلے میں مذہبی تصورات کے لیے زیادہ بہتر ہے۔
کیونکہ کلاسیکی طبیعیات میں معجزہ قانونِ علیت (Causality) کے خلاف جاتا تھا، جبکہ کوانٹم طبیعیات میں ایسا نہیں ہوتا۔
اسلامی فلسفہ نے اس معاملے کو مزید گہرائی سے حل کیا ہے اور یہ وضاحت پیش کی ہے کہ:
• چاہے آپ کلاسیکی علیت کے تصور کو قبول کریں یا کوانٹم علیت کے تصور کو، آپ معجزے کی ایک معقول وضاحت دے سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ قانون علیت کی نفی کی جائے۔
(یہی اسلامی فلسفے کی برتری ہے، جو الحاد جدید اور سائنسی طبیعت پسندی کے چیلنجز کا نہ صرف جواب دیتی ہے بلکہ ایک متبادل فکری نظام بھی فراہم کرتی ہے۔) یہ تمام نکات اسلامی فلسفے کی قوت کو نمایاں کرتے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔
تبصرے