تحقیق: غلام رسول وَلایتی ایسوسی ایٹ ریسرچ، ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن جامعہ الکوثر اسلام آباد
جدید مادی و الحادی تعبیراتِ مذہب
انیسویں اور بیسویں صدی میں مغربی فلسفے، نفسیات اور سماجیات میں ایک ایسا فکری رجحان ابھرا جس نے مذہب کی تعبیر کو مابعد الطبیعیات سے منتقل کرکے انسان اور معاشرے کے دائرے میں محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس رجحان کے مطابق مذہب کسی الٰہی حقیقت کا انکشاف نہیں، بلکہ انسانی ذہن، نفسیات، معاشرت اور تاریخ کی پیداوار ہے۔ چنانچہ لودوِگ فیورباخ، کارل مارکس اور سگمنڈ فرائیڈ جیسوں نے مذہبی اعتقاد کو بالترتیب انسانی ماہیت کی پروجیکشن، معاشی و سماجی بیگانگی اور نفسیاتی ضروریات کا نتیجہ قرار دیا۔
ان نظریات پر ایک بنیادی اعتراض یہ بھی ہے کہ ان کی تنقیدمغربی مسیحی الٰہیات اور اس کے تاریخی مذہبی تصورات پر مبنی ہے، جبکہ بعض لوگوں نے اسلامی الٰہیات، کو اسی معیار پر پرکھنے کی کوشش کی۔ یہ تعمیم علمی طور پر محلِ نظر ہے، کیونکہ اسلامی تصورِ خدا، بالخصوص مکتبِ اہلِ بیتؑ کے شیعی علمِ کلام میں، نہایت دقیق عقلی بنیادوں پر استوار ہے۔ شیعی نظریۂ تنزیہ کے مطابق ذاتِ الٰہی ہر قسم کی جسمانیت، ماہیت، حدود، زمان و مکان اور مخلوق سے ہر نوع کی مشابہت سے منزہ ہے۔ اسی طرح خدا، صفاتِ الٰہی، علم، قدرت اور توحید کے بارے میں اسلامی کلام نے ایسے گہرے عقلی مباحث پیش کیے ہیں جن کا ان الحادی نظریات میں عموماً کوئی سنجیدہ جواب نہیں ملتا۔
زیرِ نظر مقالہ لودوِگ فیورباخ کے نظریۂ مذہب، پر ایک تنقیدی جائزہ ہے۔ اس میں ان نظریات کے مفروضات کا تجزیہ کیا جائے گا، اور اسلامی فلسفے، بالخصوص شیعی علمِ کلام اور نظریۂ تنزیہ کی روشنی میں یہ واضح کیا جائے گا کہ آیا یہ تعبیرات خدا کے وجود کے خلاف کوئی فیصلہ کن فلسفیانہ دلیل فراہم کرتی ہیں، یا محض فرضیات ہیں جنھیں اہل مغرب نے بلا دلیل علمی حقیقت کا درجہ دے دیاہے۔
تمہید
جدید الحادی نظریات میں سے ایک نظریہ پروجیکشن تھیوری آف ریلیجین Projection Theory of Religion مذہب کی الحادی طبیعیاتی تعبیرات میں ایک بنیادی نظریہ شمار ہوتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق خدا کا تصور کسی مستقل ماورائی حقیقت نہیں بلکہ انسان کی اپنی نوعی ماہیت (Human Essence)، مثالی صفات، آرزوؤں اور باطنی امکانات کی پروجیکشن (Projection)ہے، جسے انسان بعد ازاں اپنے سے الگ ایک مستقل خارجی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ انیسویں صدی کے جرمن فلسفی لوڈوِگ فیورباخ (1804–1872) نے اس تصور کو پہلی مرتبہ ایک منظم نظریے کی صورت میں پیش کیا۔ اگرچہ اس نظریے کے بعض ابتدائی اشارات قدیم یونانی موحد مفکر زینوفینس (Xenophanes) کی یونانی خدائی تصورات کی تنقید میں ان پر طنزیہ صورت میں ملتے ہیں۔ فیورباخ کے نزدیک مذہب دراصل انسان کی خود آگاہی کی ایک بالواسطہ صورت ہے، انسان اپنی بہترین صفات کو خدا سے منسوب کرکے اپنی ہی نوعی حقیقت کو اپنے سے بیگانہ کر دیتا ہے، اور پھر اسی بیگانہ شدہ حقیقت کی عبادت کرنے لگتا ہے۔
الٰہیات بحیثیتِ انسانیات
لڈوگ فیورباخ کے فلسفے کی رو سے، انسان اپنی زندگی میں دو متضاد اور متصادم حقیقتوں کے مابین گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی انفرادی محدودیت، فنا پذیری، جہالت اور بے بسی کا گہرا شعور رکھتا ہے، تو دوسری طرف اس کا متخیلہ علم، قدرت، محبت، عدل اور ابدیت جیسے کامل ترین تصورات سے لبالب ہے۔ چونکہ یہ کمالات انسان کے انفرادی وجود میں ناقص اور ادھورے ہوتے ہیں، اس لیے وہ نفسیاتی طور پر ان تمام مثالی اوصاف کو اپنی ذات سے خارج کر کے ایک ماورائی و مطلق ہستی (خدا) کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔
اسی فکری مغالطے کی بنیاد پر فیورباخ یہ تصور دیتا ہے کہ "الٰہیات دراصل انسانیات ہی کا دوسرا نام ہے”۔ اس کے نزدیک خدا کوئی الگ وجود نہیں بلکہ انسانی صفات ہی کا ایک مجموعہ ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ خدا کا تصور دراصل انسان کی اپنی خود آگاہی کا خارجی اور معروضی اظہار ہے۔ چنانچہ خدا کے بارے میں انسان کا تمام تر علم، فی الحقیقت اس کی اپنی ہی نوعی ماہیت کا علم ہے۔فیورباخ کے نظامِ فکر میں خدا کی کوئی مستقل مابعد الطبیعیاتی حقیقت نہیں ہے، بلکہ وہ انسانی کمالات ہی کا ایک تقدیس یافتہ اور تجریدی عکس ہے۔ جب انسان خدا کو ‘قادرِ مطلق’، ‘علیمِ مطلق’ یا ‘مجسمِ محبت’ کہتا ہے، تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی ہی ‘نوعی ماہیت’ (Human Species-Essence) کے کامل ترین اوصاف کو خدا کے پردے میں دیکھ رہا ہوتا ہے۔اس اعتبار سے، خدا انسان کا خالق نہیں ہے، بلکہ خود انسانی ذہن کی تخلیق کردہ ایک ایسی تصوراتی ہستی ہے جس میں انسان اپنے ہی مثالی وجود کو مجسم اور معروضی صورت عطا کر دیتا ہے۔ بالفاظِ دیگر، انسان نے خدا کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے، نہ کہ خدا نے انسان کو
معروضی تشکیل، تفویضِ اوصاف اور خود بیگانگی
فیورباخ کے نظریۂ مذہب کی فلسفیانہ ساخت تین باہم مربوط تصورات پر قائم ہے۔ معروضی تشکیل، تفویضِ اوصاف اور خود بیگانگی۔ اگرچہ Projection کی اصطلاح فیورباخ کی اپنی وضع کردہ نہیں، تاہم بعد کے شارحین نے اس کے نظریے کی توضیح کے لیے اسے رائج کیا۔ فیورباخ کے ہاں بنیادی تصور Objectification ہے، جبکہ Projection اسی معروضی تشکیل کی ایک تفسیری تعبیر ہے۔ یہ تینوں مراحل ایک ہی فکری عمل کی مسلسل کڑیاں ہیں۔
۱۔ معروضی تشکیل (Objectification)
فیورباخ کے مطابق انسان محض ایک انفرادی وجود نہیں بلکہ ایک نوعی وجود (Species-being) ہے۔ وہ اپنی نوعی ماہیت میں عقل، محبت، ارادہ، عدل، خیر اور دیگر کمالات کا شعور رکھتا ہے۔ انسانی شعور کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان کمالات کو محض باطنی احساسات کے طور پر باقی نہیں رہنے دیتا بلکہ انہیں اپنے سے ممتاز ایک معروضی اور مثالی صورت میں متشخص کرتا ہے۔ فیورباخ اسی عمل کو معروضی تشکیل کہتا ہے۔ اس مرحلے میں انسان اپنی نوعی ماہیت کو ایک معروضی صورت عطا کرتا ہے، لیکن یہ معروضی حقیقت ابھی لازماً خدا کے تصور کی صورت اختیار نہیں کرتی۔
۲۔ تفویضِ اوصاف (Projection)
معروضی تشکیل کے بعد مذہبی شعور اس معروضی حقیقت کو اپنی ذات سے جدا، مستقل اور برتر تصور کرنے لگتا ہے۔ اس مرحلے میں انسان اپنی نوعی ماہیت کے تمام کمالات جیسے علم، قدرت، محبت، حکمت اور عدل،کو ایک مافوقِ انسان الوہی ہستی کی طرف منسوب کرتا ہے۔ چنانچہ خدا کامل علم، مطلق قدرت، غیر محدود محبت اور عدلِ مطلق کا حامل قرار پاتا ہے۔ فیورباخ کے نزدیک نہ صرف خدا کی صفات بلکہ خود خدا کا تصور بھی انسانی نوعی ماہیت کا معروضی، مثالی اور تقدیس یافتہ اظہار ہے۔ اسی حقیقت کو وہ اپنے معروف مقولے "الٰہیات دراصل انسانیات ہی کا دوسرا نام ہے”کے ذریعے بیان کرتا ہے، یعنی الٰہیات درحقیقت انسانیات ہی کا معروضی اظہار ہے۔
۳۔ خود بیگانگی (Alienation)
فیورباخ کے مطابق جب انسان اپنی نوعی ماہیت کے کمالات کو خدا کی طرف منتقل کر دیتا ہے تو وہ انہی کمالات کو اپنی ذات سے جدا اور خدا کی ملکیت سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً جتنا خدا کامل، قادر، علیم، رحیم اور غنی دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی انسان اپنے آپ کو ناقص، محدود، محتاج، عاجز اور گنہگار محسوس کرتا ہے۔ یوں انسان اپنی ہی نوعی ماہیت سے بیگانہ ہو جاتا ہے اور اپنی ہی معروضی و تقدیس یافتہ تخلیق کے سامنے خضوع اختیار کرتا ہے۔ فیورباخ کے نزدیک مذہب کا بنیادی راز یہی ہے کہ انسان اپنی ہی نوعی ماہیت کے معروضی اظہار کو ایک مستقل الوہی حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ اس اعتبار سے مذہب کسی مستقل مابعد الطبیعیاتی حقیقت کا انکشاف نہیں بلکہ انسانی نوعی ماہیت کی معروضی تشکیل، اسقاط اور خود بیگانگی کا اظہار ہے۔
۔۔۔جاری ہے

تبصرے