علمِ کیمیا کے تناظر میں جابر بن حیان کے تجربی میتھڈ کی اپسٹمولوجیکل اساس
علم کا آغاز انسانی گروہوں کی صورت میں اجتماعی زندگی سے ہوا؛ جہاں انسان نے روزمرہ ضروریات کی تسکین اور آلات کی عدم موجودگی میں صرف ہونے والی محنت کو بچانے کی غرض سے پہلی بار اوزاروں کے استعمال کا مفہوم پیش کیا۔ یہ شروعات نہایت سادہ اور ابتدائی نوعیت کی تھیں، پھر جیسے جیسے انسانی عقل اور معرفت بالیدہ ہوتی گئی، اس میں بھی ارتقاء آتا گیا۔علم کا سفر عملی دنیا سے شروع ہوا، جو تدریجاً ارتقاء پذیر ہوتے ہوئے عصرِ حاضر کے پیچیدہ نظریاتی علوم کی سطح تک پہنچا۔ یہ راستہ آسان اور ہموار نہ تھا، بلکہ انسان نے اس کے لیے کٹھن اور شاق جدوجہد کی۔ علمِ کیمیا، انسان کی قدیم ترین تجرباتی سرگرمی ہونے کے ناطے، اس بات کا تقاضا کرتا تھا کہ مادے سے براہِ راست تعامل کیا جائے، اس کے خواص کو ٹٹولا جائے، حواسی شہادتوں کو پیشِ نظر رکھا جائے اور اس کی تبدیلیوں کا استقراء (induction) کیا جائے۔ انسان قدیم ادوار ہی سے اپنی عملی ضرورتوں کی تدبیر کے لیے اس کا محتاج تھا؛ مثلاً شیشہ سازی، برتن سازی، رنگ سازی، شراب کی کشید، اور ادویات کی ابتدائی شکلیں۔ یہ تمام مراحل خالصتاً فنی و عملی نوعیت کے تھے جن کی کوئی نظریاتی بنیاد نہ تھی۔ بعد ازاں، علمِ کیمیا نظری فریم ورک اور علمیاتی نظام (epistemological framework) کے قریب تر ہوتا گیا اور اس میں باقاعدہ تصنیف و تالیف کا آغاز ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب انسان پر گھٹیا دھاتوں کو سونا بنانے کا جنون طاری تھا تاکہ راتوں رات دولت مند بنا جا سکے۔ اس خام اور ناکام جدوجہد کے ضمن میں، اگرچہ مادی اشیاء کی طبائع اور تبدیلیوں کا ایک پراگندہ علم وجود میں آیا، مگر یہی وہ تاریخی نقطۂ عطف ثابت ہوا جہاں سے جدید کیمیا کی وہ واقعی بنیادیں پھوٹیں جو دھات سازی اور ‘اکسیرِ حیات’ (شفائے کلی) کے وہم سے آزاد تھیں۔
علمِ کیمیا کی تاریخ میں رونما ہونے والے اہم ترین تحولات میں سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ مسلمانوں کے ہاں پہنچ کر یہ علم خرافات اور جادو کے سحر سے آزاد ہوا اور اس نے سائنسی طریقہ کار (scientific method) پر مبنی ایک علمی و محققانہ روپ دھار لیا۔ اسلامی فکر ایک نئے اسلوب اور نئی قوت کے ساتھ علوم کی تدوین اور دریافتِ حقیقت کے لیے میدان میں اتری۔ جیسا کہ ڈراپر (Draper) رقم طراز ہے:
"مسلمانوں کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ ‘مشاہدہ’ کرتے، ‘تجربہ’ کرتے، اور ‘ریاضی’ و ‘ہندسہ’ کو پیمائش کے لیے وسیلہ بناتے تھے۔ ان کی علمی تحریروں کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مکینکس، سیال مادوں اور بصریات میں محض نظری استدلال اور تامل پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ دستیاب آلات کی مدد سے مشاہدے (observation) اور تجربے کو بنیاد بنایا۔ اسی طرزِ فکر نے ان کے لیے کیمیا کے جدید مناہج وضع کرنے کی راہ ہموار کی، اور انہیں کشیدکاری (distillation)، تبخیر (evaporating)، تصفیہ (purification) اور وزن برداری کے آلات اختراع کرنے پر ابھارا، نیز انہیں ہوا کی حرکی قوت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی اور علمِ ہیئت میں اسطرلاب کا استعمال ان کے اختصاصی علمی کارناموں میں سے ہے… اور یہی وہ نفوس ہیں جنہوں نے عملی علوم میں کیمیا کی بنیاد رکھی…” (روحی، 2014ء، ص: 08)
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جابر بن حیان (جن کی وفات کا غالب امکان 160ھ کے بعد کا ہے) وہ پہلے مفکر تھے جنہوں نے جدید کیمیا اور اس کے ‘سائنسی میتھڈ’ کی بنیاد رکھی۔ ان کا میتھڈ ایسے سائنسی تجربات پر استوار تھا جو مشاہدے، تجربہ کاری، استنباطِ نتائج اور موازنے پر مبنی تھے؛ نیز انہوں نے ریاضیاتی قوانین اور اپنے عہد کے معروف پیمائشی آلات سے بھی مدد لی۔
اس مقالے کا مقصد محض علمِ کیمیا میں تجربی طریقہ کار (scientific method) کے مراحل کا سرسری جائزہ پیش کرنا نہیں، بلکہ جابر بن حیان کے ہاں اس میتھڈ کی نوعیت، اس کی اپسٹمولوجیکل اہمیت اور دیگر علوم پر اس کے اثرات و نتائج کو واضح کرنا ہے۔
1- تحقیق کا بنیادی مسئلہ (Problem Statement)
سابقہ مباحث کی روشنی میں اس تحقیقی مقالے کے مرکزی سوال کو درج ذیل سوال کی صورت میں ڈھالا جا سکتا ہے:
جدید کیمیا کے ارتقاء کو جابر بن حیان کی طرف منسوب کرنے کے علمی جواز کیا ہیں؟ اور سائنس کے میتھڈ اور قواعد کی تدوین میں بنیاد بننے والی اپسٹمولوجیکل اساس کیا ہے؟
2- تحقیق کی اہمیت
اس مطالعے کی اہمیت اس علمی میدان کی محوری حیثیت سے ظاہر ہوتی ہے جس میں عرب اور مسلم دانشمندوں کو پیش رفت حاصل رہی یعنی علمِ کیمیا، جس میں جابر بن حیان کو پیش رو (pioneer) کا مقام حاصل ہے۔ یہ تحقیق ان کے انجام دیے گئے مختلف کیمیائی عملیات اور تجربی مہارتوں کا احاطہ کرتی ہے، جو سائنسی تجربی میتھڈ کے عین مطابق تھیں۔ انہوں نے اپنی لیبارٹری میں متنوع آلات و وسائط کو برت کر دکھایا، جس کی بدولت وہ ایسے متعدد کیمیائی مرکبات کی تیاری میں کامیاب ہوئے جو روزمرہ زندگی میں مستعمل ہیں۔
3- طریۂ تحقیق
اس تحقیق میں قدیم ادوار سے فکرِ انسانی کے ارتقائی منازل کی وضاحت کے لیے تاریخی طریقہ کار (Historical Method) اختیار کیا گیا ہے؛ جبکہ اس کے ساتھ وصفی تحلیلی طریقہ کار (Descriptive-Analytical Method) کو ملا کر معلومات کا جمع و تجزیہ اور نتائج کا استخراج کیا گیا ہے۔ اس باب میں جابر بن حیان کے بنیادی مآخذ پر اتکاء کیا گیا ہے، جن میں بالخصوص کتاب الحدود، کتاب التصریف، کتاب الخواص، اور کتاب السبعین شامل ہیں۔
4- تحقیق کی ساخت و تقسیم
اس کی بنا پر اس تحقیق کو تین مرکزی موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے:
پہلا محور: علمِ کیمیا اور اس کے ارتقاء کا عمومی مدخل۔
دوسرا محور: جابر بن حیان، ان کا تجربی میتھڈ اور اس کی خصوصیات۔
تیسرا محور: جدید کیمیا میں جابر بن حیان کا بنیادی علمی حصہ۔
پہلا محور: علمِ کیمیا اور اس کے ارتقاء کا عمومی مدخل:
مسلمانوں نے جن علوم میں خصوصی دلچسپی لی، ان میں علمِ کیمیا کو نمایاں مقام حاصل ہے؛ چنانچہ انہوں نے نظری اور عملی دونوں جہتوں سے اس کے مطالعے کا اہتمام کیا۔ اس علم میں ان کی علمی کاوشوں کا آغاز، دیگر علوم کی طرح، ترجمے اور نقل سے ہوا، جہاں انہوں نے یونانی کتب کو منتقل کیا۔ یونانی تراث بنیادی طور پر ایک نظری سرمایے پر مشتمل تھا، جبکہ اس کا عملی و تطبیقی پہلو یونانی فکری ساخت سے قدرے ناہم آہنگ تھا۔
مختلف سائنسی علوم میں مسلمانوں کے علمی اثرات کا جائزہ لینا اتنی وسعت رکھتا ہے کہ اس کے لیے ضخیم مجلدات اور طویل تدقیق و تمحیص کی ضرورت ہے؛ اسی لیے ہم نے اپنا دائرۂ کار جابر بن حیان کے علمِ کیمیا میں ان تجربی کاوشوں تک محدود رکھا ہے جن کے بغیر یہ علم موجودہ دور میں اس علمی رفعت تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی توثیق متعدد محققین نے کی ہے؛ فرانسیسی کیمیا دان مرسولین برتھلو (Marcellin Berthelot) نے کیمیا پر اپنی تحقیقات کے بعد، غیر مطبوعہ نصوص کی بنیاد پر مسلمانوں کی کیمیائی کاوشوں میں شدید دلچسپی کا اظہار کیا، اور بعد میں یہ نصوص دریافت اور شائع بھی ہوئے۔ ان کے علاوہ دیگر مستشرقین و محققین، مثلاً لیپمان (Lippmann)، وائڈمان (Wiedemann)، گانزملر (Ganzemuller)، سٹاپلیٹن (Stapleton)، اور بالخصوص پاول کراؤس (Paul Kraus) کی کاوشیں نہایت نمایاں ہیں،جن کی جابر بن حیان پر لکھی گئی تصانیف اس میدان میں ایک شاہکار مرجع تسلیم کی جاتی ہیں۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے لفظِ ‘کیمیا/الکیمیاء’ کی اشتقاقی اور اصطلاحی تعریف پیش کی جائے، تاکہ اس کا علمی و مفہومی مدعا مزید واضح ہو سکے۔
اولاً: اشتقاقی تعریف
لفظ ‘الکیمیاء’ میں جیسا کہ حرفِ تعریف (‘ال’) سے ظاہر ہے، یہ ایک عربی کلمہ (الکیمیاء) ہے۔ تاہم، عربوں سے قبل اس لفظ کی اصل کیا تھی، یہ موضوعِ بحث رہا ہے۔ اس حوالے سے متعدد معقول، اور کسی حد تک مفروضاتی یا خرافی آراء پیش کی گئی ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ لفظ مصر کے قدیم نام ‘کیمی/kemi’ (بمعنی سیاہ) سے ماخوذ ہے، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ یونانی لفظ ‘کیمیا/kemia’ سے نکلا ہے، جس کے دو مفاہیم بنتے ہیں:
1- یا "مصر”؛ یعنی "سیاہ زمین”۔ پلوتارک (Plutarque) کے مطابق اس سے مراد مصر کی زرخیز مٹی ہے، اور اس صورت میں کیمیا بالامتیاز مصر کا علم قرار پاتا ہے (یمنی، 2017ء، ص: 48)۔
2- یا "الأسود” (سیاہ)؛ یعنی وہ اصل مادہ جو تبدیلی کا منتظر ہو۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب "سیاہ خام دھات کی پروسیسنگ سے قیمتی دھاتیں حاصل کرنے کا فن” بنتا ہے (رشدی، 2005ء، ص: 1090، 1091)۔
تاہم، بعض محققین کا ماننا ہے کہ لفظ ‘کیمیاء’ یونانی لفظ khymeia سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "پگھلانے کا فن” ہے، یعنی سونا اور چاندی پگھلانا۔ ایک بازنطینی متن (لی سودا / Le Souda) میں ذکر ہے کہ رومن شہنشاہ ڈائیوکلیشین (Diocletian) نے مصریوں کی ان تمام کتب کو تلف کرنے کا حکم دیا تھا جن کا تعلق khymeia یعنی سونا اور چاندی پگھلانے کے فن سے تھا (رشدی، 2005ء، ص: 1090، 1091)۔بعض مورخین اس فن کی نسبت مصریوں کے ہاں چاند کے دیوتا کی طرف کرتے ہیں، جسے یونانیوں نے مصر منتقل ہونے کے بعد "ہرمس” کا نام دیا۔ چنانچہ ابن الندیم رقم طراز ہیں: "فنِ کیمیا میں سب سے پہلے کلام کرنے والا بابل کا حکیم ‘ہرمس’ تھا، جو مصر منتقل ہوا اور وہاں اس کے لیے یہ فن پختہ بنیادوں پر ثابت ہوا، اور اس موضوع پر اس کی متعدد تصانیف ہیں” (ابن الندیم، 990ء، ص: 365)۔
ثانیاً: اصطلاحی تعریف
ابن خلدون کیمیا کی اصطلاحی تعریف یوں کرتے ہیں: "یہ وہ علم ہے جو اس مادے سے بحث کرتا ہے جس کے ذریعے صناعی کے عمل سے سونا اور چاندی تیار کی جائے، نیز یہ اس عمل کے طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے جو اس مقصد تک پہنچائے” (ابن خلدون، 1984ء، ص: 660)۔اس علم کی مشہور ترین تعریفات میں سے ایک ابن سینا کی ہے؛ وہ رقم طراز ہیں: "یہ دھاتی جواہر سے ان کے ذاتی خواص کو سلب کرنے اور انہیں دیگر خواص عطا کرنے کا نام ہے، نیز بعض اجسام سے خواص لے کر دوسروں میں منتقل کرنا ہے، تاکہ ان کی اصل کے علاوہ دیگر اجسام سے سونا اور چاندی حاصل کی جا سکے” (ابن سینا، (د.ت)، ص: 111)۔
مسلمانوں نے علمِ کیمیا کو یونانی اور سریانی کتب کے تراجم سے جانا اور ان سے اثر قبول کیا، بالخصوص زوسیموس (Zosimos) اور بلنیاس الطولیانی (اور ان کی تصنیف ‘سر الخلیقہ’) کے کام سے۔ تاہم، اس میدان میں یونانیوں اور سریانیوں کی کاوشیں کوئی خاص سائنسی وزن نہیں رکھتی تھیں؛ کیونکہ وہ محض مفروضات، نظری مباحث اور فکری تجزئیوں تک محدود رہے۔ وہ مظاہرِ فطرت کی تعلیل میں جذباتی و وجدانی نقطہ نظر اور مافوق الفطرت مفروضوں کا سہارا لیتے تھے، اور اسے جادو اور ‘علم الصنعہ’ سے خلط ملط کرتے تھے۔۔۔جاری ہے
*:محقق فیصل زیات (Fayssal Ziat) الجزائر میں فلسفہ اور فلسفہ سائنس کے ممتاز محقق اور ‘شہید شیخ العربی التبسی یونیورسٹی’ (تبسہ) کے شعبہ فلسفہ سے وابستہ استاد ہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کا بنیادی دائرہ علمیات (Epistemology)، فلسفہ سائنس، معاصر مغربی فلسفہ، تنقیدی فلسفہ، اور علومِ انسانی کے مناہج پر محیط ہے۔ان کی تحقیقات میں بالخصوص امانوئل کانٹ کا تنقیدی فلسفہ، ولہلم دلتھائی (Wilhelm Dilthey) کی ہرمینوٹکس (Hermeneutics)، علومِ انسانی کی علمیاتی اساس، معاصر مغربی فلسفے کے بنیادی رجحانات، اور فکرِ عرب پر مغربی فلسفے کے اثرات نمایاں ہیں۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالات معتبر علمی و تحقیقی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، نیز ان کا علمی پروفائل Google Scholar اور ORCID پر بھی دستیاب ہے۔
تبصرے