غلام رسول وَلایتی، ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن، جامعہ الکوثر اسلام آباد
خوارزمی سے مصنوعی ذہانت تک ایک ہزار سال پر محیط علمی سفر
تاریخِ انسانی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی علمی خدمات اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ صدیوں بعد بھی انسانی تہذیب کے فکری، سائنسی اور تمدنی ارتقا پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہتی ہیں۔ ابو عبداللہ محمد بن موسیٰ خوارزمی ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف علمِ جبر کو ایک مستقل علمی شعبے کی حیثیت دی بلکہ منظم ریاضیاتی استدلال، حسابی طریقۂ کار اور مسئلہ حل کرنے کے مرحلہ وار اصولوں کو ایسا علمی مبنی دیا کہ جس نے بعد کی ریاضی، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس اور بالآخر مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بالواسطہ مگر بنیادی کردار ادا کیا۔ اگرچہ جدید کمپیوٹر، پروگرامنگ، الیکٹرانکس اور مصنوعی ذہانت گزشتہ چند صدیوں میں بے شمار سائنس دانوں اور انجینئروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں، لیکن ان علوم کے بعض بنیادی تصورات، خصوصاً الگورتھمی تفکر (Algorithmic Thinking)، کی تاریخی جڑیں خوارزمی کی علمی روایت تک پہنچتی ہیں۔
محمد بن موسیٰ خوارزمی آٹھویں صدی عیسوی کے اواخر میں خوارزم کے علاقے میں پیدا ہوئے، جو آج ازبکستان کا حصہ ہے۔ عباسی خلیفہ مأمون کے دور میں وہ بغداد پہنچے، جہاں بیت الحکمہ اس زمانے کا عظیم ترین علمی مرکز تھا۔ یہاں یونانی، ایرانی اور ہندی علوم کے تراجم کیے جاتے، ان پر تنقیدی تحقیق ہوتی اور نئے علمی نظریات وضع کیے جاتے تھے۔ اسی زرخیز علمی ماحول میں خوارزمی نے ریاضیات، فلکیات، جغرافیہ اور حساب کے میدان میں ایسی خدمات انجام دیں جنہوں نے اسلامی دنیا کو سائنسی قیادت عطا کی اور یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔
خوارزمی کی سب سے مشہور تصنیف الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ ہے، جسے تاریخ کی پہلی محفوظ اور منظم البجرا کی کتابِ مانی جاتی ہے۔ اس سے قبل ریاضی کے مسائل عموماً ہندسی یا عددی طریقوں سے حل کیے جاتے تھے، لیکن خوارزمی نے پہلی مرتبہ جبر کو ایک مستقل علمی شعبے کی حیثیت دی۔خوارزمی نے مساوات کے حل کے لیے دو بنیادی اصول بیان کیے، الجبر اور المقابلہ۔ الجبر سے مراد مساوات میں موجود کمی کو پورا کرکے مساوات کو متوازن بنانا تھا، جبکہ المقابلہ کا مطلب مساوات کے دونوں طرف موجود یکساں مقداروں کو حذف کرکے اسے آسان صورت میں تبدیل کرنا تھا۔لفظ Algebra بھی اسی کتاب کے عنوان ’الجبر‘ سے دنیا کی مختلف زبانوں میں منتقل ہوا۔ بعد کی کئی صدیوں میں یہی علم مسلسل ارتقا کرتا ہوا خطی جبر (Linear Algebra)، مجرد جبر (Abstract Algebra)، میٹرکس تھیوری، ویکٹر اسپیس، عددی تجزیہ، کمپیوٹر گرافکس، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید علوم کی ریاضیاتی بنیادوں میں شامل ہوگیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خوارزمی نے یہ تمام علوم ایجاد کیے، بلکہ یہ کہ ان کی قائم کردہ الجبری روایت نے ان علوم کی فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔
خوارزمی کی دوسری بڑی خدمت ہندوستانی اعشاری نظامِ اعداد کو اسلامی دنیا میں رائج کرنا تھی۔ اگرچہ صفر اور اعشاری نظام کی ابتدا ہندوستان میں ہوئی تھی، لیکن خوارزمی نے اپنی کتابوں کے ذریعے اس نظام کو منظم انداز میں متعارف کرایا اور اس کے استعمال کو عام کیا۔ اس دور میں یورپ میں رومی اعداد رائج تھے، جن کے ذریعے بڑے حسابات نہایت دشوار تھے۔ خوارزمی کی کتابوں کے لاطینی تراجم کے ذریعے یہی نظام یورپ پہنچا اور رفتہ رفتہ رومی اعداد کی جگہ لے لی۔ اسی لیے مغرب میں آج بھی یہ اعداد Arabic Numerals کے نام سے معروف ہیں، اگرچہ ان کی اصل ہندوستانی ہے۔
خوارزمی کا جدید دنیا سے سب سے نمایاں تعلق الگورتھم (Algorithm) کے تصور کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ لفظ Algorithm دراصل خوارزمی کے لاطینی نام Algoritmi سے نکلا ہے۔ اور آج کمپیوٹر سائنس میں الگورتھم سے مراد کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے واضح، منظم اور محدود تعداد میں مرحلہ وار ہدایات کا مجموعہ لیا جاتا ہے۔مثلاً اگر کمپیوٹر کو دو اعداد میں بڑا عدد معلوم کرنا ہو تو پروگرامر اسے یہ ہدایات دیتا ہے۔ پہلے دونوں اعداد حاصل کرو، پھر ان کا موازنہ کرو، اگر پہلا بڑا ہو تو اسے ظاہر کرو، ورنہ دوسرا ظاہر کرو۔ کمپیوٹر انہی مراحل پر عمل کرتا ہے۔ اسی طرح جب مصنوعی ذہانت کسی تصویر میں بلی یا کتے کی شناخت کرتی ہے تو وہ پہلے تصویر وصول کرتی ہے، پھر اس کی خصوصیات (Features) اخذ کرتی ہے، انہیں تربیت یافتہ ریاضیاتی ماڈل سے موازنہ کرتی ہے اور آخر میں سب سے زیادہ احتمال رکھنے والا جواب پیش کرتی ہے۔ ان تمام مراحل کے پیچھے مختلف الگورتھمز کام کرتے ہیں۔گوگل کا سرچ انجن، سوشل میڈیا، بینکوں کانظام، GPS نیویگیشن، آن لائن خریداری، چہرے کی شناخت (Face Recognition) اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس سب الگورتھمز، شماریاتی ماڈلز اور ریاضیاتی اصولوں پر قائم ہیں۔ کمپیوٹر کسی انسانی شعور کے تحت فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اسے دیے گئے الگورتھمز اور تربیت یافتہ ماڈلز کے مطابق نتائج پیدا کرتا ہے۔
اس اعتبار سے خوارزمی کا اصل کارنامہ کسی مخصوص ایجاد سے بڑھ کر ایک ایسا فکری منہج پیش کرنا تھا جس میں مسائل کو منظم، منطقی اور مرحلہ وار انداز میں حل کیا جاتا ہے۔ یہی منہج آج جدید ریاضی، کمپیوٹر سائنس، پروگرامنگ اور مصنوعی ذہانت کی اساس میں نمایاں طور پر موجود ہے۔ اسی لیے خوارزمی کا نام صرف تاریخ کے ایک عظیم ریاضی دان کے طور پر نہیں بلکہ انسانی فکر کی اس مسلسل علمی روایت کے معمار کے طور پر بھی زندہ رہے گا جس نے ایک ہزار برس قبل شروع ہو کر آج کی ڈیجیٹل دنیا تک اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔
خوارزمی ڈے
ابو عبداللہ محمد بن موسیٰ خوارزمی کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ایران میں ہر سال ۲۲ تیر یعنی ۱۲ جولائی کو، جو خوارزمی کی یومِ پیدائش ہے، ‘یومِ فناوری اطلاعات’ (Information Technology Day) منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت کا مقصد صرف ایک عظیم ریاضی دان کو خراجِ تحسین پیش کرنا نہیں، بلکہ اس حقیقت کو اجاگر کرنا بھی ہے کہ جدید معلوماتی ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کی پائیدار ترقی بنیادی علوم، بالخصوص ریاضیات، منطقی استدلال اور الگورتھمی تفکر پر استوار ہے۔ اس موقع پر جامعات، تحقیقی مراکز اور سائنسی ادارے علمی کانفرنسوں، سیمیناروں اور تحقیقی نشستوں کا انعقاد کرتے ہیں، جہاں خوارزمی کے علمی ورثے کو موجودہ سائنسی و تکنیکی ترقی کے تناظر میں ازسرِنو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی طرح خوارزمی کے نام سے منسوب خوارزمی بین الاقوامی ایوارڈ (Khwarizmi International Award) ایران کا ایک ممتاز سائنسی اعزاز ہے، جس کا آغاز 1987ء میں ایران کی وزارتِ سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی کے زیرِ نگرانی عمل میں آیا۔ اس ایوارڈ کا مقصد بنیادی اور اطلاقی علوم میں نمایاں تحقیقی خدمات انجام دینے والے ایرانی اور بین الاقوامی محققین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ریاضیات، انجینئرنگ، طب، زرعی علوم، نینو ٹیکنالوجی، حیاتیاتی علوم، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں میں نمایاں تحقیقات پر یہ اعزاز دیا جاتا ہے، جبکہ نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کے لیے خوارزمی یوتھ ایوارڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعزازات محض انفرادی کامیابیوں کی پذیرائی نہیں، بلکہ اس علمی روایت کی تجدید ہیں جس کی بنیاد خوارزمی نے ایک ہزار سال قبل منظم تحقیق، ریاضیاتی استدلال اور مسئلہ حل کرنے کے اصولوں پر رکھی تھی۔ اس لحاظ سے خوارزمی کا نام آج بھی اس حقیقت کی علامت ہے کہ تہذیبوں کی پائیدار ترقی کا سرچشمہ بنیادی تحقیق، تخلیقی فکر اور علم پر مبنی اختراع ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ خوارزمی پوری اسلامی تہذیب اور عالمِ انسانیت کا مشترکہ علمی سرمایہ ہیں، تاہم ان کی یاد کو زندہ رکھنے، ان کے نام سے سائنسی اعزازات قائم کرنے اور بنیادی علوم کو قومی ترقی کے ساتھ جوڑنے کے سلسلے میں ایران نے نسبتاً زیادہ منظم اور ادارہ جاتی اقدامات کیے ہیں۔ اس کے برعکس بیشتر مسلم ممالک میں خوارزمی اور دیگر عظیم مسلم سائنس دانوں کی علمی میراث کو جدید تحقیق، تعلیمی پالیسی اور قومی سائنسی منصوبہ بندی کے ساتھ اس درجے میں مربوط نہیں کیا جا سکا جس کی وہ مستحق ہے۔

تبصرے