غلام رسول وَلایتی۔ ڈپارٹمنٹ آف فیتھ یانڈ ریزن، جامعہ الکوثر اسلام آباد
ملحدین کی سائنس زدگی
ملحدین کی سائنس زدگی کی کہانی دراصل سائنس کی کامیابی سے زیادہ ایک فلسفیانہ غلط فہمی کی کہانی ہے۔ جدید دور میں سائنس نے فطرت کے بے شمار رازوں سے پردہ اٹھایا، بیماریوں کے علاج دریافت کیے، خلاء تک رسائی حاصل کی اور مادّی دنیا کے قوانین کو حیرت انگیز حد تک سمجھا۔ یہ سب بجا طور پر انسان کی بڑی کامیابیاں تھیں۔ لیکن کچھ لوگوں یہاں ایک غیر محسوس چھلانگ لگاتے ہیں۔ انہوں نے یہ مان لیا کہ چونکہ سائنس مادّی دنیا کو سمجھنے میں کامیاب ہے، اس لیے حقیقت بھی صرف وہی ہے جسے سائنس ناپ سکے، تول سکے یا تجربہ گاہ میں جانچ سکے۔
یہیں سے سائنس شروع نہیں ہوتی بلکہ سائنس زدگی (Scientism) شروع ہوتی ہے۔ سائنس یہ نہیں کہتی کہ صرف مادہ موجود ہے، سائنس صرف مادّی مظاہر کا مطالعہ کرتی ہے۔ سائنس یہ نہیں کہتی کہ خدا نہیں ہے، سائنس کے آلات سرے سے خدا کے موضوع پر فیصلہ کرنے کے لیے بنائے ہی نہیں گئے۔ سائنس یہ نہیں کہتی کہ اخلاق، جمالیات، منطق اور شعور محض وہم ہیں۔ یہ سارے سوالات اس کے دائرۂ کار سے باہر ہیں۔ لیکن سائنس زدہ ذہن خواہ نخواہ اسے غیر مادی حقیقت پر بھی تھونپ دیتاہے۔نتیجتاً ایک عجیب صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ وہ شخص جو خدا کے وجود کے لیے تجرباتی ثبوت مانگتا ہے، خود اس عقیدے کا کوئی تجرباتی ثبوت پیش نہیں کر سکتا کہ ‘صرف تجرباتی طور پر ثابت ہونے والی چیزیں ہی قابلِ قبول ہیں’۔ یہ دعویٰ کسی لیبارٹری سے نہیں نکلتا بلکہ ذہن کے گوشۂ موہومات سے نکلتا ہے۔
سائنس زدگی کا اصل مسئلہ سائنس سے محبت نہیں بلکہ سائنس کو اس کی حدود سے آگے بڑھا دینا ہے۔ جب سائنس کو علم کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جائے تو وہ انسانیت کی عظیم خدمت کرتی ہے، لیکن جب اسے حقیقت کا واحد دروازہ قرار دیا جائے تو وہ خود ایک غیر سائنسی عقیدہ بن جاتی ہے۔ تب سائنس، سائنس نہیں رہتی بلکہ ایک نئے نظریۂ ایمان اور مذہب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
ملحد کا مطالبہ اور ایک خاموش مغالطہ
ایک ملحد دوست نے مجھ سے کہا: "جب تک مجھے خدا کا ‘امپیریکل ایویڈنس’ (تجرباتی ثبوت)نہیں ملتا تب تک میں خدا کو نہیں مان سکتا” ۔یہ مطالبہ پہلی نظر میں بہت سائنسی اور معقول محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر ایک نہایت بنیادی فلسفیانہ مغالطہ پوشیدہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ خدا کا تجرباتی ثبوت کہاں ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر حقیقت لازماً تجرباتی ثبوت کی محتاج ہوتی ہے؟
سادہ مثال لیجیے۔ قرۃ العین حیدر کا ناول آگ کا دریا کھولیے۔ اس میں درجنوں کردار ہیں، صدیاں ہیں، شہر ہیں۔ کوئی کہے: "ان صفحات میں سے قرۃ العین حیدر کا جسم ڈھونڈ کر دکھاؤ، تب مانوں گا کہ کوئی ادیبہ تھیں۔” آپ ہنس کر کہیں گے: "بھائی، ادیبہ ناول کے اندر نہیں رہتیں، وہ ناول سے ماورا اپنی میز پر بیٹھ کر یہ دنیا تخلیق کر رہی تھیں۔ ان کا ثبوت یہ نہیں کہ انہیں صفحات میں تلاش کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس پوری کائناتی ناول میں ان کا ذہن، ان کی کاریگری اور ان کی صنعتِ شیشہ گری ہر اہل فکر اور عقل سےنغمہ گری کر رہا ہوگا:
"کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے، وہی خدا ہے۔”
کائنات اللہ کی تخلیق ہے، اللہ کائنات کا کوئی جُز نہیں، جس طرح ادیب اپنی کہانی میں کسی کردار کی طرح نہیں سماتا اسی طرح مادی کائنات کے اندر رہنے والا وہ مخلوق اور محتاجِ کائنات ہے نہ کہ غنیِ مطلق۔ اور اگر پھر بھی اڑ رہے کہ میں صرف اسی چیز کو مانوں گا جسے میں سیدھا دیکھ سکوں، تو ایک سوال پوچھتے ہیں اس کا جواب دیجیے کہ آپ نے کشش ثقل (Gravity) کو کب آنکھوں سے دیکھا ہے؟ آپ نے صرف سیب کو نیچے گرتے دیکھا ہے۔ آپ نے کبھی اپنے ابا جان کاشعور یا اپنی والدہ محترمہ کی محبت کو دیکھا ہے؟ نہیں دیکھ سکتے ہیں، سائنسدان ابھی تک حیران ہے کہ شعور ہے کیا، اسے ہم بیان بھی نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسے دیکھ سکتے ہیں۔ صرف اس کے اثر سے ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ شعور تو ہے۔ اسی طرح آپ والدین کے رویّوں، الفاظ، اور قربانیوں سے پہچانتے ہیں کہ محبت اور شعور حقیقتا موجود ہے۔ تو پھر یہ شرط کہ خدا کو میں اپنی پانچ حسوں سے براہِ راست دیکھوں، یہ شرط خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار دیتی ہے۔ اس شرط کے مطابق تو کشش ثقل، شعور، محبت، اور خود ریاضی کے قوانین بھی موجود نہیں ہونے چاہئیں۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سب موجود ہیں۔ ہم شعور کو آنکھ سے نہیں دیکھتے، مگر شعوری افعال سے اس کے وجود کا یقین کرتے ہیں۔ ہم منطق کے قوانین کو کسی بوتل میں بند نہیں کر سکتے، مگر ہر استدلال میں ان پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم ریاضی کے اعداد کو چھو نہیں سکتے، مگر پوری جدید سائنس انہی مجرد حقائق پر کھڑی ہے۔ حتیٰ کہ طبیعیات میں بھی اکثر اوقات مشاہدہ براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ ہوتا ہے۔ سائنس دان بہت سی حقیقتوں کو ان کے آثار، پیش گوئیوں اور توضیحی قوت کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں۔ یعنی عقل مشاہدات سے آگے بڑھ کر ان کی بہترین توجیہ تلاش کرتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صرف اسی چیز کو مانوں گا جسے اپنی پانچ حسوں سے براہِ راست دیکھ سکوں، تو وہ درحقیقت علم کے دائرے کو غیر ضروری طور پر محدود کر رہا ہے۔ ایسی شرط قبول کر لی جائے تو نہ صرف خدا، بلکہ منطق، ریاضی، شعور، اخلاقی اقدار اور بہت سی دوسری بنیادی حقیقتیں بھی مشکوک ہو جائیں گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کائنات اپنی موجودگی، اپنے نظم، اپنے قوانین، اپنی عقلی ساخت اور اپنی قابلِ فہمیت کے ذریعے کسی ماورائے کائنات علت کی طرف اشارہ کرتی ہے یا نہیں۔ اگر کرتی ہے، تو پھر خدا پر ایمان حواس کے خلاف نہیں بلکہ عقل کے مطابق ہے اور اگر نہیں کرتی، تو اس کے خلاف دلائل پیش کیے جائیں۔ لیکن محض یہ کہنا کہ جب تک خدا تجربہ گاہ میں نظر نہ آئے، میں اسے نہیں مانوں گا، دراصل ایک فرضی خیال ہے۔
جدید سائنس مادے کی اصل سے کیا پردہ اٹھاتی ہے؟
اب آئیے اس سوال کی طرف کہ سائنس خود مادے کی حقیقت کے بارے میں کیا کہہ رہی ہے۔ بیسویں صدی سے پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ ایٹم کوئی چھوٹا سا، ٹھوس، گول ذرہ سا ہے جو ایک جگہ پر بیٹھا اپنے فرض ادا کرتا ہے۔ پھر کوانٹم میکانیات (Quantum Mechanics) آئی، اور اس نے مادے کی پوری تصویر الٹ کر رکھ دی۔ ایٹم کے اندر جھانکا گیا تو وہاں کوئی ٹھوس گول سا ذرہ نہ ملا، بلکہ توانائی کی لہریں ملیں جو لمحہ بہ لمحہ کانپتی، کپکپاتی، اور وجود و عدم کے درمیان ہچکولے کھاتی ہیں۔
سب سے حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ ایک الیکٹرون ایک ہی وقت میں ایک لہر بھی ہے اور ایک ذرہ بھی۔ وہ ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر ممکنہ طور پر موجود ہو سکتا ہے، اور جس لمحے ہم اسے دیکھتے ہیں، وہ کسی ایک حالت پر ٹھہر جاتا ہے۔ سائنس دان اسے سپر پوزیشن (Superposition) کہتے ہیں۔ سادہ تشبیہ یہ ہے کہ آپ کوئی سکّا ہوا میں اچھالیں۔ جب تک وہ ہوا میں گھوم رہا ہے، وہ نہ ہیڈ ہے، نہ ٹیل، بلکہ دونوں ممکنات کی حالت میں ہے۔ جب وہ زمین پر گرتا ہے، تب فیصلہ ہوتا ہے۔ کوانٹم سطح پر کائنات کی بنیاد ایسے ہی غیر متعین، ممکنات سے بھرے ہوئے، اور پرسرار جوہر سے بنی ہوئی ہے۔
اس انکشاف کا فلسفیانہ مطلب ایک ملحد کے لیے بھیانک ہے، اور وہ یہ کہ مادہ اپنی بنیاد میں خود کفیل نہیں ہے۔ یہ کوئی پُختہ، خود قائم، اور اپنے بل پر کھڑی ہوئی شے نہیں ہے۔ یہ تو ممکنات اور احتمالات کے دھاگوں سے بُنا ہوا ایک پردہ ہے، جو کسی نہ کسی نگاہ کا منتظر ہے کہ وہ اسے ایک حقیقی صورت میں پکڑے۔ ملحد جس ٹھوس مادے کو خدا کا متبادل سمجھ کر اپنا پورا فلسفہ بنا رہا تھا، کوانٹم فزکس نے اسی مادے کو اس کی نظروں کے سامنے بھاپ کی طرح ہوا میں اڑا دیا۔
یہاں ملحد دوست عام طور پر یہ پانسا پھینکتے ہیں کہ کوانٹم سطح پر ذرات بغیر کسی وجہ کے بنتے بگڑتے رہتے ہیں۔ ریڈیو ایکٹیو ذرے کب ٹوٹیں گے، کوئی نہیں جانتا۔ گویا کائنات اپنی بنیاد میں اندھے اتفاق پر چلتی ہے، خدا کی کیا ضرورت؟
اس دلیل میں ایک باریک منطقی لغزش ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ سائنس کا یہ کہنا کہ ہمیں علت معلوم نہیں کبھی بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتا کہ علت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ دو علیحدہ معاملات ہیں۔ پہلا علمی عاجزی ہےیعنی ہم نہیں جانتے، اور دوسرا وجودی بے علتی ہے یعنی واقعی کوئی علت موجود نہیں۔ ملحد دوست خاموشی سے پہلے کو دوسرے میں بدل دیتا ہے، اور اسے ایک سائنسی نتیجہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔۔۔جاری ہے

تبصرے