تحریر: غلام رسول ولایتی
انسان کے باطنی مسائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ حق سے بے خبر نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات حق کو جاننے کے باوجود اس کے تقاضوں سے غافل ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کے علم و قدرت پر ایمان رکھتا ہے، لیکن کسی آزمائش کے لمحے میں اپنی خواہش کو ترجیح دے سکتا ہے؛ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم ناروا ہے، مگر غصے کی حالت میں انصاف سے ہٹ جاتا ہے؛ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اپنے مفاد کے سامنے اسی ذمہ داری کی توجیہ بدلنے لگتا ہے۔ یوں معرفت اور عمل کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ عرفانی تربیت کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ معلوم حقیقت انسان کے شعور میں اس طرح حاضر کیسے ہو کہ اس کی نیت، ارادے اور عمل کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکے۔
حضرت ابوذرؓ سے منقول نبوی وصیت میں عرفانی حقیقت کے تناظر میں ایک لطیف پیرائے میں وارد ہوئی ہے: «اعْبُدِ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، امام جعفر صادقؑ سے بھی منقول ارشاد «خَفِ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» میں تقریبا یہی الفاظ ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس شعور کے ساتھ کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو؛ اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو یہ حقیقت اپنے دل میں تازہ رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اس کے علم و احاطے سے اوجھل نہیں ہو۔(حصہ: ۲)
۳۔۲۔ «كَأَنَّكَ تَرَاهُ»: رؤیت، تصور اور حضور میں فرق
امام صادقؑ کے ارشاد میں «گویا تم اسے دیکھ رہے ہو» کی تعبیر کو حسی یا مکانی معنی تک محدود کرنا درست نہیں۔ خدا کو مخلوق کی طرح کسی جہت میں موجود شے سمجھنا یا اس کی ذات کا ذہنی منظر تشکیل دینا اس عبارت کی عرفانی تحلیل کا لازمی نتیجہ نہیں۔ اس مقام پر رؤیت کی تعبیر کو خدا کے حضور، اس کی عظمت اور بندے کی جواب دہی کے شعور کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی انسان جس حقیقت پر اعتقاد رکھتا ہے، اس کی طرف اپنی توجہ اس طرح مبذول کرے کہ وہ اس کے فیصلوں اور اعمال سے غیر متعلق نہ رہ جائے۔ اس سے کسی مخصوص مکاشفے، کشف یا مرتبۂ مشاہدہ کا قطعی دعویٰ اخذ نہیں کیا جا سکتا؛ یہ ایک محتاط اخلاقی و عرفانی تعبیر ہے۔ انسان کبھی کسی بات کو نظری طور پر مانتا ہے، لیکن وہ حقیقت اس کی توجہ کے پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا چاہیے، مگر سہولت کی خاطر وعدہ توڑ دیتا ہے؛ وہ جانتا ہے کہ دوسرے انسان کی عزت اہم ہے، لیکن مجلس میں اپنی مقبولیت کی خاطر اس کی تحقیر کر بیٹھتا ہے؛ وہ خدا کے علم کا معتقد ہوتا ہے، مگر خلوت میں ایسا عمل کرتا ہے جس سے لوگوں کے سامنے گریز کرے گا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اعتقاد اور عملی استحضار کے درمیان فاصلہ باقی رہ سکتا ہے۔
«كَأَنَّكَ تَرَاهُ» کا ایک تربیتی مفہوم یہ ہے کہ بندہ اس فاصلے کو پہچانے۔ فیصلہ کرتے وقت وہ اپنی خواہش، مفاد اور توجیہات پر غور کرنے کے ساتھ اپنی جواب دہی کو بھی شعور میں لانے کی کوشش کرے۔ یہ کیفیت لازماً جذباتی رقت کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی۔ کبھی یہ پُرسکون مگر سنجیدہ توقف ہوتی ہے؛ کبھی کسی ناجائز فائدے سے دست بردار ہونے کا فیصلہ؛ کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کی جرأت؛ اور کبھی یہ احساس کہ انسان اپنی خواہش کو حق کا نام دے کر خود کو دھوکا دے رہا ہے۔ ذہنی تصور اور عرفانی حضور کے درمیان یہی فرق اہم ہے۔ ذہنی تصور ایک خیال یا تصویر بھی ہو سکتا ہے، جب کہ حضور کا تربیتی مفہوم اس امر سے زیادہ متعلق ہے کہ انسان اپنی معرفت کو نیت اور عمل کے ساتھ مربوط کرے۔ دونوں کو خلط کرنے سے نہ صرف اصطلاحی ابہام پیدا ہوتا ہے، بلکہ عرفانی تربیت بھی غیر ضروری طور پر غیر معمولی کیفیات کے تعاقب میں بدل سکتی ہے۔
۳۔۳۔ «فَإِنَّهُ يَرَاكَ»: خدا کے علم کا شعور اور باطنی ذمہ داری
ارشاد کا دوسرا حصہ بندے کی توجہ اس حقیقت کی طرف لوٹاتا ہے کہ خدا کا علم انسان کی اپنی کیفیت پر موقوف نہیں۔ اگر انسان خدا کے حضور ہونے کا گہرا احساس محسوس نہیں کر رہا، تب بھی خدا کے علم و نگرانی کا اعتقاد اپنی جگہ موجود رہ سکتا ہے۔ اس طرح بندے کی ذمہ داری کسی خاص جذباتی کیفیت کے حصول یا عدم حصول سے مشروط نہیں ہو جاتی۔ یہ تعلیم روحانی زندگی کو کیفیت پرستی سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ اگر انسان اپنی بندگی کی قدر صرف اس بات سے ناپنے لگے کہ اسے کتنی رقت محسوس ہوئی، کتنے آنسو آئے یا کوئی خاص کیفیت کتنی دیر برقرار رہی، تو وہ روحانی تجربے ہی کو معیار بنا سکتا ہے۔ حالاں کہ قلبی حالتیں بدلتی رہتی ہیں۔ تھکن، اضطراب، غم، بیماری اور روزمرہ ذمہ داریاں توجہ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں؛ ان کا موجود ہونا لازماً بندگی کی نفی نہیں کرتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی کمزور کیفیت کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔ کیا وہ غفلت کو عذر بنا کر جواب دہی سے فرار اختیار کرتا ہے، یا اسے پہچان کر رجوع کی کوشش کرتا ہے؟ کیا کسی خاص کیفیت کے فقدان سے مایوس ہو جاتا ہے، یا اس اعتقاد کو بنیاد بناتا ہے کہ اسے اپنے عمل کی اصلاح کرنی ہے، خواہ اس وقت اسے کوئی غیر معمولی کیفیت محسوس نہ ہو؟ اسی لیے ارشاد کا دوسرا حصہ محض تسلی نہیں، تنبیہ بھی ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ اپنی قلبی کیفیت کی کمزوری کو اخلاقی ذمہ داری سے سبک دوش ہونے کا جواز نہ بنائے۔ اسے اپنے احساسات کے بارے میں دیانت دار رہنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اپنے اعمال کے بارے میں جواب دہی بھی قبول کرنی چاہیے۔
۳۔۴۔ خوف، محبت، امید اور حیا کا باہمی توازن
خوفِ خدا کو محبتِ الٰہی کا مخالف سمجھنا درست نہیں؛ تاہم، محبت کو جواب دہی سے آزادی کا جواز بنا لینا بھی درست نہیں۔ خوف انسان کو حدود سے تجاوز کرنے سے روک سکتا ہے؛ حیا اسے اپنی غلطی کی اخلاقی قباحت کا احساس دلا سکتی ہے؛ محبت اسے رجوع کی طرف مائل کر سکتی ہے؛ اور امید اسے لغزش کے بعد مایوسی سے بچا سکتی ہے۔ یہ احوال ایک دوسرے سے مربوط ہو سکتے ہیں، اگرچہ ہر انسان میں ان کی نفسیاتی صورت یکساں ہونا ضروری نہیں۔ اگر خوف انسان کو مفلوج کر دے، توبہ و اصلاح سے مایوس کر دے یا اس کی ہر اندرونی حرکت کو جرم بنا دے تو اس کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، اگر امید بے عملی یا حق تلفی کا عذر بن جائے تو وہ بھی اپنے مقصد سے ہٹ جاتی ہے۔ متوازن روحانی رویہ انسان کو اپنی خطا تسلیم کرنے دیتا ہے، اس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور اصلاح کا راستہ کھلا رکھتا ہے۔ محبت کے عملی مفہوم کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ محبت محض خوش گوار احساس یا وجدانی سرشاری کا نام نہیں؛ اس کا تعلق وفاداری، شکر، اطاعت، نیت کی اصلاح اور محبوب سے اپنی نسبت کے پیش نظر عمل کا سنجیدہ جائزہ لینے سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود کسی شخص کی جذباتی کیفیت یا کسی ایک عمل کی بنیاد پر اس کے باطن یا خدا سے اس کی نسبت کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں محبت کے ممکنہ اخلاقی مضمرات کی وضاحت مقصود ہے، کسی کے روحانی مرتبے پر حکم لگانا نہیں۔
۴۔ معرفتِ الٰہی، حضورِ قلب اور علمِ حضوری
۴۔۱۔ معلوم حقیقت اور حاضر حقیقت
خدا کے علم و قدرت پر اعتقاد رکھنا اور اس اعتقاد کا کسی خاص لمحے میں انسانی توجہ پر مؤثر ہونا دو مختلف سطحیں ہیں۔ انسان کسی حقیقت کو عقلی طور پر تسلیم کر سکتا ہے، لیکن اس کی توجہ ایسے امور میں الجھ سکتی ہے جو اس اعتقاد کے عملی تقاضوں کو پس منظر میں دھکیل دیں۔ یہی وجہ ہے کہ معرفت اور عمل کے درمیان فاصلہ ہمیشہ مزید معلومات فراہم کرنے سے ختم نہیں ہوتا؛ کبھی توجہ، ارادے، عادت اور نفس کی خود توجیہات پر بھی کام کرنا پڑتا ہے۔
حضورِ قلب کا ایک تربیتی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی معرفت کو عمل کے معنی کے ساتھ مربوط رکھے۔ نماز ادا کرتے وقت اسے معلوم ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے اور کس نسبت سے یہ عمل انجام دے رہا ہے۔ کسی اخلاقی فیصلے کے موقع پر اسے یاد رہے کہ اس کا انتخاب محض ذاتی فائدے کا معاملہ نہیں، بلکہ حق اور ذمہ داری سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ اور جب اپنی غلطی سامنے آئے تو اسے چھپانے کے بجائے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کرے۔ قلبی حضور کو صرف جذبات، آنسوؤں یا رقت سے متعین کرنا کافی نہیں۔ کبھی دل کی توجہ رقت میں ظاہر ہوتی ہے، کبھی خاموش سنجیدگی میں، کبھی کسی حق کے ضائع ہونے پر ندامت کی صورت میں، اور کبھی ایسے فائدے سے باز رہنے کے فیصلے میں جو حاصل تو ہو سکتا ہے، مگر اخلاقی طور پر درست نہیں۔ جذبات قلبی زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان کی شدت نہ علم کی صحت کا قطعی معیار ہے اور نہ ہی روحانی کمال کی کافی دلیل۔
۴۔۲۔ علمِ حصولی: عقلی معرفت کی ضرورت
علمِ حصولی میں معرفت تصورات، قضایا اور ذہنی نمائندگی کے واسطے سے حاصل ہوتی ہے۔ خدا کے وجود، وحدانیت، صفات اور بندے کے ساتھ اس کی نسبت پر عقلی و کلامی غور اسی دائرے سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ یہ معرفت انسان کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ کس حقیقت پر اعتقاد رکھتا ہے، اس اعتقاد کی دلیل کیا ہے، اور درست تصور و غلط تعبیر میں فرق کس طرح کیا جائے۔ عرفانی تجربے کے لیے عقل کو غیر ضروری قرار دینا مناسب نہیں۔ کسی شخص کو کوئی قلبی کیفیت محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اس کیفیت کی تعبیر میں خطا کا امکان باقی رہتا ہے۔ انسان اپنے تجربے کی شدت کو صداقت کی دلیل سمجھ سکتا ہے، حالاں کہ شدتِ احساس اور صداقتِ مضمون ایک ہی چیز نہیں۔ اسی لیے دینی اصول، عقلی تحلیل اور علمی احتیاط اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں۔
علمِ حصولی کی محدودیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بے قدر ہے۔ ایک عقیدہ درست ہو سکتا ہے، لیکن اس کا عملی استحضار کمزور رہ سکتا ہے؛ یا کسی شخص کی معرفت صحیح ہو سکتی ہے، مگر غصہ اور خواہش اس کے ارادے کو اس معرفت کے تقاضوں سے ہٹا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں مسئلہ عقلی معرفت کے فقدان کا نہیں، بلکہ اس کے عملی اثر اور توجہ کے استحکام کا ہوتا ہے۔
۴۔۳۔ علمِ حضوری: فلسفیانہ معنی اور عرفانی تجربہ
اسلامی فلسفے میں علمِ حضوری کی ایک معروف توضیح یہ ہے کہ معلوم شے اپنے وجود کے واسطے سے عالم کے لیے حاضر ہوتی ہے، نہ کہ صرف کسی ذہنی تصور یا نمائندگی کے ذریعے۔ یہ ایک فنی فلسفیانہ اصطلاح ہے، جس کی دقیق تعریف اور حدود اپنے مستقل علمی مباحث رکھتی ہیں۔ اس لیے علمِ حضوری کو محض شدید احساس، سکون، خشوع یا خدا کے قرب کے احساس کے مترادف قرار دینا درست نہیں۔ کسی شخص کو عبادت میں گہرا اطمینان محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اس احساس سے بذاتِ خود علمِ حضوری کے فلسفیانہ دعوے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اسی طرح، خدا کی معرفت کو دل میں حاضر محسوس کرنا عرفانی و تربیتی زبان میں بامعنی ہو سکتا ہے، مگر اس تجربے کی تکنیکی فلسفیانہ درجہ بندی کے لیے الگ استدلال درکار ہے۔ یہاں دو سطحوں کے درمیان واضح فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
عرفانی استحضار سے مراد یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت، اپنی بندگی اور اس کے حضور جواب دہی کے شعور کو اپنی توجہ اور ارادے میں اس طرح زندہ رکھے کہ یہ معرفت محض ایک نظری اعتقاد تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کی نیت، انتخاب اور عمل پر بھی اثر انداز ہو۔ اس کے برعکس، علمِ حضوری فلسفے کی ایک مخصوص معرفتی اصطلاح ہے، جس کا تعلق عالم اور معلوم کے درمیان اس نوعیت کے تعلق سے ہے جس میں معلوم، محض کسی ذہنی تصور یا واسطے کے ذریعے نہیں، بلکہ اپنے وجود کے اعتبار سے عالم کے لیے حاضر ہوتا ہے۔ اس اصطلاح کی دقیق تعریف، حدود اور شرائط فلسفیانہ تحقیق سے متعین ہوتی ہیں۔ چنانچہ عرفانی استحضار اور علمِ حضوری کے درمیان تعلق پر بحث تو کی جا سکتی ہے، لیکن دونوں کو ایک ہی مفہوم قرار دینا یا ہر قلبی کیفیت کو علمِ حضوری کا مصداق سمجھ لینا، مزید دلیل کے بغیر درست نہیں۔ دونوں کے باہمی تعلق پر بحث کی جا سکتی ہے، لیکن ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کا خودکار ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ فرق عرفانی مضمون کو خشک کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کی معرفتی دیانت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔۔۔جاری ہے
تبصرے