سابق ملحد فلسفی پروفیسر حاج محمد لِگنہاؤزن(گرے کارل لِگنہاؤزن)؛ جمالیات، فلسفۂ سائنس، علمِ اخلاق، فلسفۂ مذہب اور مابعد الطبیعیات کے استاد ہیں؛ وہ ٹیکساس یونیورسٹی میں فلسفہ کے استاد رہے ہیں اور مؤسسہ تعلیمی و پژوہشی امام خمینی کے علمی بورڈ کے رکن ہیں۔ مزید برآں، وہ قم کی یونیورسٹی برائے ادیان و مذاہب میں فلسفۂ اخلاق اور فلسفۂ دین کے شعبہ جات کے ممتاز اساتذہ میں سے ایک ہیں۔
مترجم: غلام رسول وَلایتی، ڈپارٹمنٹ آف فیتھ اینڈ ریزن جامعہ الکوثر اسلام آباد
جدید الحاد میں جو چیز انوکھی اور بالکل نئی ہے، وہ محض کتب کی فروخت میں کامیابی، میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کرنا، اور تعلیمی و علمی حلقوں کی نظروں میں آنا ہی نہیں ہے۔جس رجحان کو جدید الحاد کا نام دیا گیا ہے، وہ ۲۰۰۶ء میں ثقافتی منظرنامے پر نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ اسی سال، کیلیفورنیا کے ‘سالک انسٹی ٹیوٹ فار بائیولوجیکل اسٹڈیز’ (Salk Institute for Biological Studies) میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا "عقیدے سے ماورا: سائنس، مذہب، عقل اور بقا” (Beyond Belief: Science, Religion, Reason and Survival)۔اس کانفرنس نے میڈیا کی بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی اور ان ملحدین کے نظریات کو اجاگر کیا جن کا دعویٰ تھا کہ مذہب دنیا کے سائنسی تصورِ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ ان مفکرین میں رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins)، سیم ہیرس (Sam Harris) اور فلسفی ڈینیئل ڈینیٹ (Daniel Dennett) شامل تھے۔ یہ ۲۰۰۶ء ہی کا سال تھا جب مذہب پر حملہ آور ہونے والی کئی کتب منظرِ عام پر آئیں: جیسے ڈاکنز کی ‘دی گاڈ ڈیلوژن’ (The God Delusion)، سیم ہیرس کی ‘لیٹر ٹو ا کرسچن نیشن’ (Letter to a Christian Nation)، اور ڈینیٹ کی ‘بریکنگ دی اسپیل’ (Breaking the Spel)۔ اگلے سال ان کے بعد کرسٹوفر ہچنز (Christopher Hitchens) کی کتاب ‘گاڈ از ناٹ گریٹ: ہاؤ ریلیجن پوائزنز ایوری تھنگ’ (God is Not Great: How Religion Poisons Everything) شائع ہوئی۔
ملحدین کی جانب سے مذہب کے خلاف کتابوں کی محض اشاعت کوئی نئی بات نہیں ہے، جو چیز بالکل نئی ہے وہ ان کتب کی فروخت کے حیرت انگیز اعداد و شمار ہیں۔ یہ کتابیں لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو رہی ہیں۔ رچرڈ ڈاکنز کی کتاب اب بھی ‘نیویارک ٹائمز’ کی پیپر بیک حقیقی موضوعات پر مبنی (Non-fiction) بیسٹ سیلر فہرست میں ۲۴ویں نمبر پر برقرار ہے۔ اس سے پہلے کوئی بھی ملحد اس قدر عوامی توجہ حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کتب کی فروخت کے ساتھ ساتھ، بے شمار ٹیلی ویژن پروگرام، رسائل کے مضامین اور اخبارات کے کالم بھی اس موضوع پر سامنے آئے ہیں۔ اس بیسٹ سیلر فہرست میں ملحدین کو دیے جانے والے جوابات اور ردِ عمل پر مبنی کتب بھی نمایاں ہیں، جیسے ٹموتھی کیلر (Timothy Keller) کی کتاب ‘دی ریزن فار گاڈ’ (The Reason for God)۔ مزید برآں، جدید الحاد کے اس رجحان پر متعدد کانفرنسیں اور علمی مباحثے بھی منعقد ہو چکے ہیں۔
تاہم، جدید الحاد میں جو چیز منفرد ہے، وہ محض کتب کی فروخت، میڈیا کی کوریج اور اکیڈمیہ کی توجہ حاصل کرنا ہی نہیں ہے۔ پہلی بات یہ کہ روایتی یا پرانے الحاد کے برعکس، جدید الحاد انتہائی جارحانہ اور عسکریت پسندانہ (Militant) مزاج رکھتا ہے یعنی یہ اس مؤقف پر قائم ہے کہ خدا پر ایمان رکھنا نہ صرف ایک غلط اور گمراہ کن نقطۂ نظر ہے، بلکہ یہ ایک ظالمانہ اور جابرانہ رویہ ہے جسے انسانی ثقافتوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ضروری ہے۔
پرانا یا کلاسیکی الحاد زیادہ تر ایک یورپی رجحان تھا۔ مذہب مخالف جذبات، جو فرانسیسی انقلاب کے دوران اپنے عروج پر پہنچے تھے، آگسٹ کامٹے (وفات: ۱۸۵۷ء) اور لڈوگ فیورباخ (وفات: ۱۸۷۲ء) کے فلسفیانہ الحاد کی صورت میں ظاہر ہوئے اور بعد میں کمیونسٹ تحریک کے دوران عسکریت پسندی کا روپ دھار گئے۔ الحاد کے اس جنگجوانہ اور عسکری رنگ اختیار کرنے کی بہترین عکاسی والٹیئر کے اس قول: "اگر خدا کا وجود نہ ہوتا، تو اسے ایجاد کرنا ناگزیر ہو جاتا” سے انقلابی انارکسٹ میخائل باکونین کے ان الفاظ میں تبدیلی سے ہوتی ہے کہ "اگر خدا کا وجود ہوتا، تو اسے تباہ کرنا ناگزیر ہو جاتا!”
عسکریت پسند الحاد (Militant Atheism) کی اصطلاح پہلی بار لینن نے ۱۹۲۲ء کی ایک تقریر میں متعارف کروائی تھی۔ جدید الحاد سیاسی طور پر تو بائیں بازو (Leftist) سے تعلق نہیں رکھتا، لیکن یہ مذہب کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے لینن کی اسی پکار کی شدت اور ناگزیریت کو اپنائے ہوئے ہے۔
یہ چیز ہمیں جدید الحاد کی دوسری بڑی تبدیلی کی طرف لاتی ہے، اور وہ ہے اسلام کی مخالفت۔ الحاد بذاتِ خود تمام مذاہب، یا کم از کم تمام الٰہیاتی و خدا پرست مذاہب کی نفی کا نام ہے، اور چونکہ اسلام کو عام طور پر ایک خدا پرست مذہب تسلیم کیا جاتا ہے، اس لیے الحاد اصولی طور پر اس کا مخالف ہے۔ تاہم، چونکہ الحاد کے تاریخی ارتقاء کی جڑیں یورپ میں ہیں، اس لیے روایتی الحاد نے اپنی مخالفت کا زیادہ تر رخ عیسائیت کی طرف ہی رکھا۔ اس کے برعکس، جدید الحاد اسلام پر خاص طور پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور اسے مذہب کی ایک ایسی شدید زہریلی اور خطرناک شکل قرار دیتا ہے جس کی مخالفت لازمی ہے۔ اکثر جدید ملحدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نائن الیون کے واقعات کی وجہ سے وہ بالعموم مذہب اور بالخصوص اسلام کے خلاف سخت ترین مؤقف اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسی بنا پر، وہ ملحدین جو بنیادی طور پر اسلام کو نشانہ بناتے ہیں، جیسے ایان حرسی علی (Ayaan Hirsi Ali)، انہیں بھی جدید الحاد کا حصہ، یا کم از کم ان کا اتحادی قرار دیا جا سکتا ہے۔
جدید الحاد کو دیے جانے والے بیشتر جوابات اور ترکی بہ ترکی ردِ عمل عیسائیوں کی طرف سے سامنے آئے ہیں، جن کا مقصد کسی بھی اور ہر مذہب کا دفاع کرنا نہیں بلکہ بنیادی طور پر خود عیسائیت کا تحفظ کرنا ہے۔ ان میں سے کچھ تو یہ مؤقف بھی اپناتے ہیں کہ جدید ملحدین صرف ان کے اپنے مذہب (عیسائیت) پر حملہ کرنے کی حد تک غلط ہیں، جبکہ دوسرے مذاہب پر کیے جانے والے ان کے حملے شاید بالکل بے جا نہیں ہیں۔
فلسفیانہ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو جدید ملحدین کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی نیا علمی مواد موجود نہیں ہے۔ جدید ملحدین روایتی یا پیشہ ورانہ فلسفے، مذہب یا الہیات (Theology) میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتے، بلکہ ان کا بنیادی ہدف عام مارکیٹ اور اوسط درجے کے ناظرین ہوتے ہیں۔ وجودِ باری تعالیٰ کے خلاف ان کے پیش کردہ دلائل عموماً سائنس پرستی (Scientism) کی مختلف شکلیں ہیں یعنی یہ نظریہ کہ زندگی کے تمام مسائل کا حل صرف طبیعی و مادی علوم کی مدد سے ہی ممکن ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مذہب کے خلاف اخلاقی دلیل کا سہارا لیا جاتا ہے کہ مذہب انسان کے اندر بدترین خصلتوں کو ابھارتا ہے۔ جدید الحاد کے بیانیے کا ایک بڑا حصہ "تخلیق پسندوں” (Creationists) اور "ارتقاء پسندوں” (Evolutionists) کے مابین چلنے والی بحث سے جنم لیتا ہے، اور یہ اکثر دو متوازی شدت پسندیوں کی سطح پر ہی رکا ہوا دکھائی دیتا ہے، ایک طرف صحیفوں کی لغوی و لفظی سچائی پر اصرار، اور دوسری طرف سائنس کی نجات دہندہ طاقت پر اندھا یقین۔ جدید ملحدین کا سائنس پرستی کا یہ رجحان ان کے اس اخلاقی غیظ و غضب کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو وہ مذہبی جنونیت کے خلاف ظاہر کرتے ہیں. یہ ملحدین مذہبی جنونیت کو ہی ہر قسم کے مذہبی عقیدے کا بنیادی معیار قرار دیتے ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ لوگ اپنے عقائد کی بنیاد صرف سائنسی شواہد پر نہیں رکھتے۔
جدید الحادی فکر میں موجود (منطقی) اثباتیت (Positivism) کی اس لہر کو علمی و فلسفیانہ حلقوں میں مکمل طور پر مسترد اور پامال کیا جا چکا ہے، کیونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خود مادی و طبیعی علوم بھی ایسے مفروضوں پر انحصار کرتے ہیں جن کی تصدیق محض سائنسی شواہد سے ممکن نہیں ہے۔ اکثر تو خود اثباتیت کا یہ بنیادی اصول اسی کے خلاف پڑ جاتا ہے، کیونکہ اس اصول کو ثابت کرنے کے لیے دنیا میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے کہ "انسان کو صرف اور صرف انہی عقائد کو تسلیم کرنا چاہیے جن کے حق میں سائنسی شواہد موجود ہوں”۔ جہاں تک ان کے اخلاقی غیظ و غضب کا تعلق ہے، تو نام نہاد مذہبی تنازعات کی ہولناکیوں کے پسِ پردہ مذہبی وجوہات کے بجائے زیادہ تر سماجی اور سیاسی محرکات کارفرما ہوتے ہیں، اور بیسویں صدی کے بدترین مظالم ڈھانے والے آمر جیسے اسٹالن (Stalin) اور پول پاٹ (Pol Pot)کھلے عام الحاد کے دعویدار ملحد ہی تھے۔
بطور مسلمان، ہمیں اپنے ایمان اور عقیدے کا دفاع سنجیدگی، دیانت، انصاف پسندی اور معقولیت کے ساتھ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جدید ملحدین اپنے مخالفین کو اشتعال دلانے اور غصہ دلانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ غصے کے ردِ عمل کو ڈھال بنا کر اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کر سکیں کہ مذہب پسند لوگ جنونی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ حکمت اور کردار کی مضبوطی عطا فرمائے کہ ہم اس دینِ حق کو، جو اس نے ہمیں ہدایت بنا کر بخشا ہے، اس کے بہترین اور روشن ترین روپ میں پیش کر سکیں۔

تبصرے