جواب : غلام رسول وَلایتی
شر کا وجود:
معترضین یا ملحدین شر کو ایک وجودی حقیقت سمجھتے ہیں، یہی ان کی بنیادی فکری غلطی ہے۔وجود اپنی اصل میںخیرِ محض ہے یعنی کائنات میں جہاں کہیں بھی وجود پایا جاتا ہے، وہ اپنے ہونے کی بنا پر مثبت اور کمال کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، شر کی اپنی کوئی مستقل یا خود قائم حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ اس مقام پر ایک سائے کی طرح نمودار ہوتا ہے جہاں وجود اپنے کسی لائقِ شان کمال تک پہنچنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ اس باریک نکتے کو سمجھنے کے لیے عدمِ مضاف(Relative Non-being) کا لفظ ہم استعمال کریں گے۔اور ایسا بھی نہیں کہ شر کو عدمِ محض کہا جائے، کیونکہ جو سرے سے ہے ہی نہیں اس پر کوئی بحث ہی ممکن نہیںہوسکتی ہے، بلکہ شر ایک ایسی کمی کا نام ہے جو کسی موجود شے میں اس کے فطری تقاضوں کے مطابق نہ پائی جائے۔ چنانچہ شر دراصل وجود میں ایک خاص نسبت کے ساتھ پیدا ہونے والا نقص اور کمی کا نام ہے۔
اس مقام پر یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر یہ نقص اور کمی پیدا ہی کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب مخلوق کی اپنی ماہیت اور فطرت میں پوشیدہ ہے۔ ہر مخلوق چونکہ اپنی ذات اور ماہیت میں ہی محدود (Finite) ہے، اس لیے وہ اپنے تمام ممکنہ کمالات کو بیک وقت اور کامل درجے میں حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ کائنات میں وجود کے مراتب (gradation) مختلف ہیں، جہاں شدت و ضعف اور کمال و نقص کے درجات پائے جاتے ہیں۔ جس مقام پر وجود کی شدت کم ہوتی ہے، وہاں کمال کا فقدان زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے اور اسی فقدان کو ہم اپنی محدود عقل سے شر کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔
مزید آسان کرکے سمجھاتے ہیں:
ان فلسفیانہ سطروں کو مزید آسان تر کرکے سمجھانے کے لیے ہم روشنی اور سائے کی مثال سے آغاز کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک بہت بڑا ہال ہے جس کے عین وسط میں ایک طاقتور بلب روشن ہے۔ بلب کے بالکل قریب روشنی بہت تیز ہے، لیکن جیسے جیسے آپ اس سے دور ہوتے جائیں گے، روشنی مدہم ہوتی جائے گی یہاں تک کہ ہال کے کونوں میں اندھیرا چھانے لگے گا۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ اندھیرا کہاں سے آیا؟ تو اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ کسی نے اندھیرا پیدا کیا ہے، بلکہ جواب یہ ہے کہ وہاں روشنی کم ہو گئی یا روشنی کی پہنچ ختم ہوگئی ہے۔ بالکل یہی حال کائنات اور اس میں موجود کمیوں یا شر کا ہے۔ کائنات میں زندگی، طاقت، صحت اور عقل دراصل وجود کی روشنی ہیں۔ خدا خیرِ محض اور کمالِ مطلق ہے، یعنی وہ اس روشنی کا منبع ہے جس میں کوئی کمی نہیں۔ اب جب خدا نے کائنات کو پیدا کیا، تو مخلوق ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ خدا جیسی کامل نہیں ہو سکتی۔ جیسے ہی ہم خدا سے ہٹ کر کسی دوسری چیز (مخلوق) کی بات کرتے ہیں، وہاں ایک حد (Limit) آ جاتی ہے یعنی وہ اپنی ماہیت اور ذات میں محدود ہے۔اس حد یا محدودیت کا نام نقص ہے۔ اسے ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ایک برتن میں کتنا پانی آ سکتا ہے، اس کا فیصلہ اس کی دیواریں کرتی ہیں۔ اگر برتن کی دیواریں نہ ہوں تو پانی پھیل جائے گا اور وہ برتن نہیں رہے گا۔ دوبارہ غور کریں اس مقام پہ کہ یا برتن برتن رہے گا یا نہیں رہے گا، اگر یہ ظرف نے برتن کی ماہیت انتخاب کرنی ہے تو اس چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اپنی حد بھی قبول کرنی پڑے گی۔ بالآخر برتن جتنا بڑا ہو اس کی دیواریں لازم و ملزوم ہیں۔ ایسنا کوئی برتن نہیں ہوسکتا ہے جس کی دیواریں نہ ہوں۔ پس برتن نے برتن بننا ہے تو محدودیت بھی ساتھ آئے گی۔ اور اب پانی کی ڈالا جاتا ہے تو اتنا پانی آئے گا جتنی اس کی حدود اور ماہیت ہے۔ (یہ اہم نکتہ ہے،جناب اویس! اسے ساری کائنات پہ تطبیق کریں)
پس کائنات کی ہر چیز کی اپنی ایک دیوار یا حد ہے جسے فلسفے میں ماہیت کہتے ہیں۔ چونکہ ہر چیز محدود ہے، اس لیے اس میں کسی نہ کسی کمال کی کمی رہ جانا لازمی ہے۔دیوار میں دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے، لیکن ہم کبھی نہیں کہتے کہ دیوار اندھی ہے یا یہ کوئی برا کام ہوا۔ کیوں؟ کیونکہ دیوار کی حد یا اس کی فطرت میں دیکھنا شامل ہی نہیں تھا۔ لیکن اگر ایک انسان نہ دیکھ سکے، تو ہم اسے شر یا تکلیف کہتے ہیں، کیونکہ انسان کی فطرت کا تقاضا تھا کہ وہ دیکھ سکے۔ پس شر دراصل کسی نئی یا بری چیز کے پیدا ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی خوبی کے نہ ہونےکا نام ہے جو وہاں ہونی چاہیے تھی۔
یہی اصول بیماری اور اخلاقی برائیوں پر بھی صادق آتا ہے۔ بیماری کوئی ایسا مادی وجود نہیں ہے جو باہر سے آ کر جسم پر قبضہ کر لیتا ہو، بلکہ یہ دراصل انسانی بدن کے اندرونی نظام میں پائے جانے والے توازن اور صحت کے غائب ہو جانے کا نام ہے۔ جب خلیات اور اعضاء اپنے مطلوبہ اعتدال سے ہٹ جاتے ہیں، تو اس اعتدال کی غیر موجودگی کو ہم بیماری کی تکلیف سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی طرح ظلم کی اپنی کوئی مستقل حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ عدل کے فقدان سے عبارت ہے۔ جب کوئی حق اپنے صحیح مقام سے ہٹ جاتا ہے یا کسی کا استحقاق پامال ہوتا ہے، تو وہاں کوئی نئی چیز پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایک مطلوبہ نظم اور حق غائب ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک نہایت دقیق نکتہ یہ ہے کہ شر کو نقص قرار دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ غیر حقیقی ہے یا محض انسانی وہم کا نتیجہ ہے۔ بلکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ اس کی وجودی حیثیت تابعی (Parasitic) ہے، یعنی شر ہمیشہ کسی خیر کے سہارے ہی ظاہر ہو سکتا ہے۔ جس طرح زنگ لوہے کے بغیر وجود ہی نہیں پاسکتا ہے، اسی طرح شر بھی کسی نہ کسی وجودی حقیقت پر منحصر ہوتا ہےیعنی خیرِ محدود کے ساتھ ہوتا ہے۔ درد، تکلیف اور رنج اپنی جگہ مادی اور شعوری طور پر واقعی محسوس ہوتے ہیں، مگر وہ کسی مستقل شر کے وجود کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی کمال کے چھن جانے کا ایک زندہ ادراک ہیں۔ اس علمی تجزیے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شر کو خدا کی طرف ایک واقعی تخلیق کے طور پر منسوب کرنا منطقی طور پر غلط ہے۔ خدا وجود کو پیدا کرتا ہے اور وجود سراسر خیر ہے۔ جبکہ شر اس وجود کی اپنی محدودیت، درجہ بندی اور مخلوق ہونے کے لازمی نتائج میں سے ہے۔ اگر کسی مخلوق کو ہر قسم کے نقص سے پاک اور مکمل بنا دیا جائے تو وہ مخلوق نہیں رہے گی، بلکہ واجب الوجودبن جائے گی جو کہ عقلاً محال ہے۔ لہٰذا شر نہ تو خدا کے مقابل کوئی دوسری چیز ہے اور نہ ہی کسی واقعی تخلیق ہے، بلکہ یہ وجود کے مراتب میں کمی اور کمال کے فقدان کا نام ہے۔۔۔۔ جاری ہے۔
تبصرے